والدین کی لڑائیاں، ماہرہ خان کا بچپن کیسا رہا؟
اداکارہ نے’ڈسفنکشنل‘ شادی پر خاموشی توڑ دی
عالمی شہرت یافتہ پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان نے پہلی بار اپنے والدین کی ازدواجی زندگی اور انکے درمیان مشکلات پر لب کشائی کردی۔
ماہرہ خان کو ایک کامیاب اداکارہ ہونے کیساتھ ایک ہونہار بیٹی کا بھی لقب دیا جائے تو شاید غلط نہ ہوگا کیونکہ وہ صرف خود کی ذات تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ فیملی کی خوشیوں اور رشتوں کی پاسداری کا بھی خوب خیال رکھنا جانتی ہیں۔
ویسے تو ماہرہ خان کی اداکاری کا آغاز 2006 میں ہوا، مگر ان کے حصے میں بڑی کامیابی ڈرامہ سیریل 'ہمسفر' میں خرد کا کردار ادا کرنے کی صورت میں آئی جسکے بعد ماہرہ خان جس بھی ڈرامے کا حصہ بنیں اسے کامیابی سے ہمکنار کرواکر ہی دم لیا۔
انکے قال ذکر ڈراموں میں صدقے تمہارے، بن روئے، اور شہر زات بھی شامل ہیں جس میں ماہرہ کی اداکاری کی کوئی مثال نہیں ملتی۔
ڈراموں میں اپنی صلاحیتوں سے لاکھوں لوگوں کو اپنا گرویدہ بنانے کے بعد ماہرہ خان نے فلم نگری میں قدم رکھنے کا فیصلہ کیا اور شعیب منصور کی فلم 'بول' سے ایک بار پھر ان کی شہرت کو چار چاند لگ گئے۔ اس کے بعد وہ مختلف فلموں میں نظر آئیں، جیسے ’ورنہ‘ اور ’ہو من جہاں‘ اور ’دی لیجنڈ آف مولا جٹ’جن میں ان کی پرفارمنس نے پاکستانی سینما میں ایک نئی روح پھونکی۔
صرف یہی نہیں بلکہ اپنی فنی صلاحیتوں کو ماہرہ خان نے پاکستان تک ہی محدود نہ رکھا بلکہ بالی وڈ میں بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا اور فلم 'رئیس' میں شاہ رخ خان کے ساتھ کام کیا۔ اس فلم نے بین الاقوامی سطح پر ان کی فین فالوونگ میں اضافہ کیا۔
ان دنوں اداکارہ کو اسٹار ہمایوں سعید کیساتھ جلد آنے والی رومانٹک کامیڈی فلم ‘لو گرو‘ کی تشہری مہم میں مصروف ہیں، جسکے لیے بین الاقوامی دوروں سمیت مختلف انٹرویوز کا حصہ بنی نظر آرہی ہیں۔
حال ہی میں ماہرہ خان اداکار و میزبان احمد علی بٹ کی پوڈکاسٹ کا بھی حصہ بنیں جہاں انہوں نے اپنے فلم سمیت نجی زندگی پر کھل کر گفتگو کی۔
ویسے تو ماہرہ خان قبل ازیں بھی اپنے خاندان کے بارے میں محبت سے بات کرتی آئی ہیں۔ چاہے وہ ان کے بیٹے اذلان ہو، بھائی حسان خان، شوہر، والدین یا خالہ و نانی ہوں، وہ سب کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات کا اظہار کرتی رہی ہیں۔ لیکن احمد علی بٹ کے پوڈکاسٹ میں انہوں نے اپنی بچپن کی کہانی کا ایک اداس پہلوبیان کیا جو پہلے سننے کو نہیں ملا۔
والدین کی زندگی اور انکا رشتہ بچوں کیلئے ایک رول ماڈل سمجا جاتا ہے لیکن ماہرہ خان نے پہلی بار اعتراف کیا کہ ان کے والدین کی شادی ڈسفنکشنل (غیر مربوط) تھی۔
ماہرہ خان جو ہمیشہ خود کی ذات کا ذکر کرنا پسند کرتی ہیں اور کسی دوسرے کی ذاتیات میں عمل دخل نہیں کرتیں لیکن وہ بتاتی ہیں کہ انکے والد اور والدہ دونوں مکمل طور پر مختلف شخصیات تھے۔
اداکارہ کے مطابق،’اُن کے والدین کے نظریاتِ زندگی بھی ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھے۔ اس وجہ سے گھر میں اکثر تناؤ اور اختلافات کی فضا رہتی تھی۔
وہ بتاتی ہیں کہ،’اس مشکل ماحول کے باوجود ان کا بچپن خوشگوار رہا کیونکہ وہ اور ان کا بھائی حسان ایک دوسرے کا سہارا بنے رہتے تھے۔ جب بھی گھر میں حالات خراب ہوتے، دونوں بہن بھائی ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارتے اور اس تناؤ سے خود کو بچاتے۔
ماہرہ بتاتی ہیں کہ،’مجھے اس بارے میں بات کرنا اچھا نہیں لگتا، کیونکہ یہ صرف میری کہانی نہیں، بلکہ دوسروں کی بھی ہے۔ لیکن اب میں اتنا ضرور کہہ سکتی ہوں کہ میرے والدین کی شادی خوشگوار نہیں تھی، اور ان کی سوچیں ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھیں۔’
اداکارہ کے مطابق،گھر میں اکثر انکے والدین کے درمیان اختلافات رہتے تھے تو وہ انکے بھائی ایک ساتھ گھر کے کسی کونے میں چھپ جایا کرتے تھے یا کبھی گھر کے اوپر والے پروشن میں اپنے دادا دادی کے گھر چلے جاتا کرتے تھے’۔
ماہرہ خان نے بتایا کہ،‘جب بھی ہماری ماں ہمیں سلانے کیلئے لوریاں سناتی تھیں تو اچانک غصے میں گانا گانا شروع کردیتی تھیں، جبکہ دوسری طرف ابا بھی غصے میں ٹیپ ریکارڈر آن کرتے اور انگریزی گانے سننا شروع کردیتے تھے۔
اداکارہ کے مطابق ہم اس ماحول میں پلے بڑے یہی وجہ ہے کہ مجھے ہر چیز سمجھ آجاتی ہے لیکن اگر کوئی شخص اظہار کرنے والا یا جذبات کو واضح طور پر بیان کرنے والا نہ ہوتو مجھے سمجھ نہیں آتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس سچائی کے ساتھ جینا سیکھ چکی ہیں اور آج بھی اپنے والدین کا احترام کرتی ہیں۔ ان کی باتوں میں ایک درد بھی جھلکتا تھا، اور ایک سنجیدہ سچائی بھی، جسے وہ سالوں سے اپنے دل میں لیے چل رہی تھیں۔





