انفوٹینمنٹ

'من مست ملنگ' میں رومانوی سین کے نام پر ہراسانی دکھائی گئی؟

دانش تیمور کے ڈرامے میں رومانوی سین پر شدید عوامی ردِعمل

Web Desk

'من مست ملنگ' میں رومانوی سین کے نام پر ہراسانی دکھائی گئی؟

دانش تیمور کے ڈرامے میں رومانوی سین پر شدید عوامی ردِعمل

من مست ملنگ میں رومانوی سین کے نام پر ہراسانی دکھائی گئی؟
'من مست ملنگ' میں رومانوی سین کے نام پر ہراسانی دکھائی گئی؟

پاکستانی اسٹار دانش تیمور کے نئے ڈراما سیریل میں رومانوی سین کی عکسبندی پر ناظرین نے شدید ردِعمل دے دیا۔

سال 2005 میں ایک ہارر ڈرامے 'مسٹری سیریز' سے اداکاری کی دنیا میں قدم رکھنے والے دانش تیمور کا شمار ان باصلاحیت فنکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے بہت کم عرصے میں اپنے فن کا لوہا منوایا۔

اور صرف ڈراموں تک ہی انکی صلاحتیں محدود نہ رہیں بلکہ سال 2015 میں یاسر جسوال کی تھرلر فلم 'جلیبی' میں کام کر کے فلمی دنیا میں انٹری دی اور پھر 2015 میں ریلیز ہونے والی فلم 'رانگ نمبر' میں بھی کام کیا جبکہ 2017 میں وہ 'مہرونسا وی لَو یو' میں اداکارہ ثناء جاوید کے ساتھ اداکاری کے جوہر دکھاتے نظر آئے۔

ان دنوں دانش تیمور جیو ٹی وی کے ڈرامے 'من مست ملنگ' یوٹیوب پر اب تک 500 ملین سے زائد ویوز حاصل کر چکا ہے۔ 

یہ ڈرامہ نہ صرف پاکستان بلکہ بنگلہ دیش، نیپال اور دیگر ممالک میں بھی شوق سے دیکھا جا رہا ہے۔ 

'تیرے بن' جیسے سپر ہٹ ڈرامے کے رائٹر نوراں مقصود نے اس ڈرامے کی کہانی تحریر کی ہے اور اسے علی فیضان نے ڈائریکٹ کیا ہے۔ 

کہانی کبیر خان (دانش تیمور) اور ریا اصغر علی (سحر ہاشمی) کے گرد گھومتی ہے جو ایک حادثے کے بعد دشمن خاندانوں میں بدل جاتے ہیں۔

تاہم،حالیہ اقساط میں دکھائے جانے والے زیادہ رومانوی مناظر خاص طور پر ایک 'ڈانس سین' نے سوشل میڈیا پر شدید تنقید کو جنم دیا ہے۔ 

مذکورہ سین میں کبیر، ریا کو زبردستی پکڑ کر رقص کرتا ہے جسے ناظرین نے نہ صرف ناپسند کیا بلکہ اسے ہراسانی سے تعبیر کیا۔

سوشل میڈیا پر صارفین نے اس سین پر کھل کر تنقید کی ہے۔ ایک صارف نے لکھا کہ 'حد ہوتی ہے بے حیائی کی، کچھ تو خدا کا خوف کرو، معاشرے کو کیاں بگاڑنے میں لگے ہوئے ہو؟'

ایک ناقد نے لکھا کہ 'بھارتی اور پاکستانی ڈراموں میں کوئی فرق نہیں رہا، پاکستانی ڈرامے تو کبھی اپنے تہذیب و تمدن کی عکاسی کرتی کہانی اور شائستہ رومانس کے لیے جانے جاتے تھے لیکن اب ان نئے ڈراموں کے ذریعے فحاشی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔'

ایک سوشل میڈیا صارف نے کمنٹ کیا کہ 'حیرت ہے پہلے ڈرامے کے ّغاز سے اختتام تک ہیرو اور ہیروئن ہاتھ تک نہیں پکڑتے تھے اور اب یہ سب بے حیائی دکھائی جارہی ہے۔'

ایک اور ناقد نے لکھا کہ 'یہ ڈرامے معصوم ذہنوں کو خراب کر رہے ہیں' ، جبکہ ایک اور نے لکھا کہ '

یاد رہے کہ ڈراما 'من مست ملنگ' کی اب تک 41 اقساط نشر ہو چکی ہیں، اور اگرچہ اس کی کہانی کو خوب پسند کیا جا رہا ہے مگر حالیہ متنازعہ مناظر نے ناظرین کو تقسیم کر دیا ہے۔