خواتین

خواتین میں ایسٹروجن کی کمی اور کندھے کا جم جانا، کیا ہے تعلق؟

یہ مسئلہ زیادہ تر خواتین کو متاثر کرتا ہے

Web Desk

خواتین میں ایسٹروجن کی کمی اور کندھے کا جم جانا، کیا ہے تعلق؟

یہ مسئلہ زیادہ تر خواتین کو متاثر کرتا ہے

اسکرین گریب
اسکرین گریب

اکثر خواتین چالیس کی دہائی کے بعد ایک انوکھے درد سے دوچار ہوتی ہیں جیسے کے کندھے میں کھنچاؤ، ہاتھ اٹھانے میں دشواری، اور روزمرہ کے کاموں میں رکاوٹ۔ یہ کوئی عام درد نہیں بلکہ ایک طبی کیفیت ہے جسے ‘فروزن شولڈر‘ کہا جاتا ہے۔ یہ بیماری آہستہ آہستہ اپنے اثرات دکھاتی ہے، اور بعض اوقات اس کی شدت اتنی بڑھ جاتی ہے کہ لباس پہننا، بال بنانا یا کچھ اٹھانا بھی ناممکن ہو جاتا ہے۔

یہ مسئلہ زیادہ تر خواتین کو متاثر کرتا ہے، خاص طور پر وہ خواتین جو مینوپاز کے مرحلے سے گزر رہی ہوتی ہیں۔ اس مرحلے میں جسم میں ایسٹروجن کی سطح میں کمی واقع ہوتی ہے، جو نہ صرف ہڈیوں بلکہ جوڑوں کی صحت پر بھی اثرانداز ہوتی ہے۔ اس کی وجہ سے کندھے کے گرد موجود جھلی سخت ہو جاتی ہے، جس سے حرکت محدود اور درد شدید ہو جاتا ہے۔

شوگر، کم جسمانی سرگرمی، یا بیٹھے بیٹھے طرزِ زندگی رکھنے والی خواتین اس تکلیف کا زیادہ شکار ہو سکتی ہیں۔ بدقسمتی سے، اکثر خواتین اپنی اس تکلیف کو برداشت کرتی رہتی ہیں، اور بعض اوقات اسے محض عمر یا تھکن کا نتیجہ سمجھ کر نظر انداز کر دیتی ہیں اور یہی لاپروائی مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔

اگرچہ فی الوقت اس کا کوئی فوری علاج موجود نہیں، لیکن چند سادہ اور باقاعدہ اقدامات اس کیفیت سے نجات میں مدد دے سکتے ہیں۔ فزیو تھراپی، مخصوص ورزشیں، درد کم کرنے والی دوائیں، اور بعض اوقات ہارمون تھراپی جیسے طریقے مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ خواتین اپنی تکلیف کو سنجیدگی سے لیں۔ فروزن شولڈر ایک حقیقت ہے، نہ کہ وہم۔ اگر وقت پر علاج شروع کیا جائے، تو اس کیفیت پر قابو پایا جا سکتا ہے، اور زندگی معمول پر لائی جا سکتی ہے۔

صحت مند زندگی کے لیے ضروری ہے کہ 40 سال کی عمر کے بعد خواتین اپنے جسم کے سگنلز کو سنیں، ہڈیوں کی صحت پر توجہ دیں، متحرک رہیں، اور بروقت ماہر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ کیونکہ خود پر توجہ دینا، صحت مند زندگی کا پہلا قدم ہے۔