انفوٹینمنٹ

پریش راول کے اداکاری سے سیاست تک سفر پر ایک نظر

وہ مزاحیہ کرداروں سے لیکر سنجیدہ اور منفی کرداروں تک، ہر روپ میں منفرد نظر آئے

Web Desk

پریش راول کے اداکاری سے سیاست تک سفر پر ایک نظر

وہ مزاحیہ کرداروں سے لیکر سنجیدہ اور منفی کرداروں تک، ہر روپ میں منفرد نظر آئے

(وہ مزاحیہ کرداروں سے لیکر سنجیدہ اور منفی کرداروں تک، ہر روپ میں منفرد نظر آئے)
(وہ مزاحیہ کرداروں سے لیکر سنجیدہ اور منفی کرداروں تک، ہر روپ میں منفرد نظر آئے)

بھارتی سینما کی رنگین دنیا میں بہت سے اداکار آتے اور جاتے ہیں، لیکن چند ایسے ہوتے ہیں جو اپنے فن کی بدولت دہائیوں تک فلمی شائقین کے دلوں پر راج کرتے ہیں۔

ایسا ہی ایک نام معروف بھارتی اداکار پریش راول کا ہے، جو مزاحیہ کرداروں سے لے کر سنجیدہ اور منفی کرداروں تک، ہر روپ میں یادگار اور منفرد نظر آئے۔

وہ نہ صرف ایک کامیاب اداکار، کامیڈین اور پروڈیوسر ہیں بلکہ سیاست کے میدان میں بھی فعال ہیں۔

ابتدائی زندگی اور تعلیم

30 مئی 1955 کو ممبئی میں مقیم ایک گجراتی فیملی میں پیدا ہونے والے پریش راول نے نارسی مونجی کالج آف کامرس اینڈ اکنامکس سے تعلیم حاصل کی۔

1974 میں بمبئی یونیورسٹی سے گریجویشن مکمل کرنے کے بعد وہ گجراتی تھیٹر سے وابستہ ہوئے۔

تھیٹر نے ان کی فنکارانہ صلاحیتوں کو نکھارا اور جلد ہی بالی وڈ کی جانب ان کی راہ ہموار ہو گئی۔

فلمی سفر کا آغاز

پریش راول نے 1984 میں فلم 'ہولی' سے فلمی دنیا میں قدم رکھا، اگلے برس 1985 میں وہ دوردرشن کے مشہور سیریل 'بنتے بگڑتے' اور فلم 'ارجن' میں بھی نظر آئے۔

تاہم انہیں پہلا بڑا بریک تھرو 1986 کی فلم 'نام' سے ملا، جس کے بعد ان کا فنی سفر تیز رفتاری سے آگے بڑھا۔

منفی کرداروں سے شہرت

1980 اور 1990 کی دہائیوں میں پریش راول نے 100 سے زائد فلموں میں کام کیا، جن میں سے اکثر میں انہوں نے منفی کردار نبھائے، 'قبضہ (1988)'، 'کنگ انکل (1993)' اور 'بازی (1995)' جیسی فلموں میں ان کے منفی کرداروں کو خوب سراہا گیا۔

1993 میں کیتن مہتا کی فلم 'سردار' میں انہوں نے بھارتی رہنما سردار ولبھ بھائی پٹیل کا کردار ادا کیا، جسے وہ اپنی زندگی کا اہم موڑ قرار دیتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس کردار کے لیے کی گئی تحقیق نے انہیں نہ صرف ایک بہتر اداکار بنایا بلکہ بھارتی تاریخ کو بہتر انداز میں سمجھنے میں بھی مدد دی۔

کامیڈی میں کمال

پریش راول کے کامیڈی کرداروں کا آغاز فلم 'انداز اپنا اپنا (1994)' سے ہوا، جس میں انہوں نے ڈبل رول ادا کیا، اس فلم میں ان کی نیچرل ایکٹنگ نے شائقین کو حیران کر دیا۔

2000 میں ریلیز ہونے والی فلم 'ہیرا پھیری' میں ان کا کردار بابو راؤ گنپت راؤ آپٹے آج بھی کلاسک مزاحیہ کرداروں میں شمار ہوتا ہے۔

اس کردار کے لیے انہیں 'فلم فیئر ایوارڈ فار بیسٹ کامیڈین' بھی ملا، بعدازاں 2006 میں ریلیز ہونے والی فلم 'پھر ہیرا پھیری' بھی کامیاب رہی اور پریش راول کا یہ کردار ان کی پہچان بن گیا۔

تیلگو اور دیگر زبانوں میں اداکاری

پریش راول نے نہ صرف ہندی فلموں میں اپنی اداکاری کا لوہا منوایا بلکہ تیلگو، تامل اور گجراتی فلموں میں بھی کام کیا۔

'کشانا کشنم (1991)'، 'منی (1993)'، 'رکشاوڈو (1995) 'اور 'باوَگرو باگنارا (1998)' جیسی تیلگو فلموں میں ان کی اداکاری کو خوب پسند کیا گیا۔

سنجیدہ اور یادگار کردار

چند مشہور فلموں میں پریش راول نے سنجیدہ یا معاون کردار ادا کرکے خوب شہرت حاصل کی جن میں 'تمنا (1998)'، 'اعتراف (2004)، 'ٹیبل نمبر 21 (2013)'، 'ضلع غازی آباد (2013)، 'او ایم جی: اوہ مائی گاڈ (2012)'، 'سنجو (2018) اور 'اُڑی: دی سرجیکل اسٹرائیک (2019) شامل ہیں۔

فلم 'آنکھیں (2002)' میں نابینا بینک لٹیروں میں سے ایک کا کردار ادا کر کے انہوں نے اپنی مزاحیہ اداکاری کی صلاحیتوں کا ایک نیا پہلو اجاگر کیا اور خوب داد سمیٹی۔

ازدواجی زندگی

پریش راول نے 1987 میں سوروپ سمپت سے شادی کی تھی، جو ایک کامیاب اداکارہ ہونے کے علاوہ 1979 میں 'مس انڈیا مقابلے' کی فاتح بھی رہ چکی تھیں۔

1975 میں پریش راول نے سوروپ کو شادی کی پیشکش کی لیکن ان کی شادی 1987 میں، یعنی 12 سال بعد ہوئی، اس طویل انتظار کی وجہ یہ تھی کہ پریش راول اپنی زندگی میں معاشی طور پر مستحکم ہونا چاہتے تھے تاکہ وہ سوروپ کو ایک اچھی زندگی فراہم کر سکیں۔

دوسری جانب سوروپ نے بھی صاف کہہ دیا تھا کہ وہ پریش راول کے ساتھ بھاگ کر شادی نہیں کریں گی کیونکہ وہ اپنی فیملی کی اکلوتی بیٹی تھیں اور والدین کی خوشی کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہتی تھیں۔

1987 میں طویل انتظار کے بعد، دونوں نے شادی کر لی اور ان کے دو بیٹے آدتیہ راول اور انیردھ راول پیدا ہوئے، آدتیہ آج ایک کامیاب مصنف، اداکار اور فلمساز ہیں۔

اعزازات اور کامیابیاں

پریش راول اب تک 240 سے زائد فلموں میں کام کر چکے ہیں اور نئی نسل میں بھی اتنے ہی مقبول ہیں جتنے 90 کی دہائی کے ناظرین کے لیے تھے۔

پریش راول کو ان کی فنکارانہ خدمات پر کئی اعزازات سے نوازا گیا:

نیشنل فلم ایوارڈ (1994)؛ فلم 'سر' میں بہترین معاون اداکار

آئیفا ایوارڈ (2001)؛ فلم 'ہیرا پھیری' میں بہترین کارکردگی

پروڈیوسرز گلڈ فلم ایوارڈ (2010)؛ فلم 'اتتھی تم کب جاؤگے؟' میں بہترین مزاحیہ اداکار

علاوہ ازیں پریش راول کی فنی میدان میں خدمات کے اعزاز میں 2014 میں انہیں بھارتی حکومت کی جانب سے پدماشری ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

سیاست میں قدم

فلمی دنیا میں کامیاب سفر کے بعد پریش راول نے 2014 میں سیاست میں قدم رکھا اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے وہ احمد آباد ایسٹ سے لوک سبھا کے رکنِ پارلیمنٹ منتخب ہوئے۔

سال 2020 میں بھارت کے صدر نے انہیں نیشنل اسکول آف ڈرامہ کا چیئرمین مقرر کیا۔

تنازعات

حال ہی میں پریش راول کے ایک فیصلے نے بالی وڈ انڈسٹری کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا جب انہوں نے مقبول کامیڈی فرنچائز 'ہیراپھیری' کے تیسرے پارٹ 'ہیراپھیری 3' سے علیحدگی اختیار کرلی۔

اس اچانک اور غیرمتوقع فیصلے پر انکے ساتھی اداکار اور 'ہیراپھیری 3' کے پروڈیوسر اکشے کمار نے انہیں 25 کروڑ روپے ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا۔

یہ پہلا موقع نہیں جب پریش راول کسی بڑے تنازع کا شکار ہوئے ہوں، ان کے ماضی میں کئی ایسے بیانات اور فیصلے سامنے آ چکے ہیں جن پر عوام اور میڈیا کی جانب سے شدید ردعمل آیا۔

اروندھتی رائے سے متعلق متنازع ٹوئٹ

2017 میں بھارتی فوج کا ایک متنازع اقدام خوب موضوع بحث بنا تھا جس میں احتجاج کرنے والے ایک کشمیری شہری کو فوجی جیپ سے باندھا گیا تھا، پریش راول نے ایک ٹوئٹ میں بھارتی فوج کے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے لکھا تھا کہ 'اس کشمیری کی جگہ صحافی اروندھتی رائے کو باندھ دینا چاہیے تھا'۔

یہ ٹوئٹ سوشل میڈیا پر شدید غصے کا باعث بنی، جس کے ردعمل میں اداکارہ سوارا بھاسکر اور کانگریس رہنما شوبھا اوجھا نے پریش راول پر خوب تنقید کی۔

تاہم پریش راول نے وضاحتی بیان میں اپنے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اگر اروندھتی رائے کو آزادی اظہار کا حق ہے، تو مجھے بھی ہے'۔

بنگالیوں سے متعلق متنازع بیان

2022 میں گجرات کے انتخابی جلسے میں پریش راول نے بنگالیوں کی مچھلی کھانے کی عادت پر طنزیہ تبصرہ کیا، جسے 'نسلی تعصب' پر مبنی بیان قرار دیتے ہوئے شدید ردعمل دیا گیا۔

ان کے بیان کو خاص طور پر بنگلہ دیشی اور روہنگیا مسلمانوں کے خلاف تعصب کے تناظر میں دیکھا گیا۔

بعد ازاں انہوں نے سوشل میڈیا پر معافی مانگی اور وضاحت دی کہ ان کا اشارہ تمام بنگالیوں کی طرف نہیں بلکہ غیرقانونی بنگلہ دیشی اور روہنگیا پناہ گزینوں کی طرف تھا۔

علاج کیلئے پیشاب پینے کا دعویٰ

اپریل 2025 میں ایک انٹرویو کے دوران پریش راول نے انکشاف کیا کہ 1990 کی دہائی میں فلم 'گھاتک' کی شوٹنگ کے دوران گھٹنے کی چوٹ کا علاج کرنے کے لیے وہ اپنا پیشاب پیا کرتے تھے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس عمل نے ان کی جلد صحت یابی میں مدد دی، تاہم طبی ماہرین نے اس دعوے کو جھٹلایا اور خبردار کیا کہ پیشاب میں زہریلے مادے موجود ہوتے ہیں، جو صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔

'اکشے کمار دوست نہیں کولیگ'

حال ہی میں پریش راول نے ایک انٹرویو میں یہ بیان دے کر سب کو حیران کر دیا تھا کہ متعدد فلموں میں انکے ساتھ کام کرنے والے اداکار اکشے کمار ان کے 'کولیگ' ضرور ہیں مگر 'دوست' نہیں ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے اصل دوست نصیرالدین شاہ، اوم پوری اور جانی لیور ہیں جن سے ان کے تھیٹر کے دنوں سے تعلقات ہیں۔

یہ بیان سوشل میڈیا پر مداحوں کی مایوسی کا باعث بنا، تاہم پریش راول نے وضاحت دی کہ ان کا مطلب دشمنی یا نفرت سے نہیں بلکہ ذاتی تعلقات کی نوعیت سے تھا۔

فلم 'اوہ مائی گاڈ 2' سے علیحدگی

'ہیراپھیری 3' کی طرح پریش راول نے فلم 'اوہ مائی گاڈ 2' کا حصہ بننے سے بھی اچانک انکار کردیا تھا اور اس کی وجہ اسکرپٹ کے مسائل کو قرار دیا تھا، بعدازاں ان کی جگہ اداکار پنکج ترپاٹھی کو کاسٹ کیا گیا۔

پریش راول نے کہا کہ وہ محض پیسوں کے لیے کسی فلم کا سیکوئل کرنے کے قائل نہیں اور انہوں نے 'ہیرا پھیری' میں یہی غلطی کی تھی، جو وہ دہرانا نہیں چاہتے تھے، تاہم اب 'ہیراپھیری 3' کا حصہ بننے کے بعد انہوں نے اچانک اس پراجیکٹ سے بھی علیحدگی اختیار کرلی ہے۔