عامر خان اور جوہی چاولہ کی 7 سالہ طویل لڑائی کیسے ختم ہوئی؟
عامر خان نے اپنی شخصیت میں موجود 'ریڈ فلیگز' کی نشاندہی کردی
بالی وڈ کے معروف اداکار عامر خان نے اداکارہ جوہی چاولہ سے ایک جھگڑے کے بعد 7 سال تک بات نہ کرنے کا انکشاف کردیا۔
عامر خان اور جوہی چاولہ 90 کی دہائی کے مشہور فلمی جوڑے تھے جنہوں نے 'قیامت سے قیامت تک'، 'ہم ہیں راہی پیار کے' اور 'عشق' جیسی کامیاب فلموں میں ایک ساتھ کام کیا۔
ان کی دوستی اور کیمسٹری کو فلمی حلقوں میں خوب سراہا گیا تھا، لیکن ایک ذاتی اختلاف نے طویل عرصے تک ان کے تعلقات پر منفی اثر ڈالا، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ان کے درمیان رنجشیں ختم ہو گئیں اور آج دونوں ایک بار پھر ایک دوسرے کے لیے عزت اور محبت کا جذبہ رکھتے ہیں۔
راج شماّنی کے پوڈکاسٹ شو میں گفتگو کرتے ہوئے عامر خان نے اپنی شخصیت میں موجود کچھ خامیوں اور 'ریڈ فلیگز' پر بات کی۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص انہیں تکلیف دے، تو وہ مکمل طور پر خود کو اس سے دور کر لیتے ہیں اور تعلقات ختم کر دیتے ہیں، اسی رویے کے باعث ان کا ایک جھگڑا جوہی چاولہ کے ساتھ طویل ناراضگی میں بدل گیا۔
عامر خان نے بتایا کہ 'جوہی اور میرا جھگڑا ہوا تو 7 سال تک ہم نے بات نہیں کی، ہم ساتھ کام بھی کر رہے تھے لیکن میں اس سے ناراض رہا، ایک چھوٹی سی بات پر میں بہت زیادہ اپ سیٹ ہو گیا تھا، جوہی نے کئی بار کوشش کی، لیکن میں اپنی ضد پر اڑا رہا'۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ان کی سابقہ اہلیہ رینا دتا اس ناراضگی کو ختم کروانے کے لیے بار بار انہیں سمجھاتی رہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ 'رینا مجھے کہتی تھی کہ 'کیا کر رہے ہو تم؟ ملو اس سے، ختم کرو ناراضگی' لیکن میں ضدی تھا، میں نہیں مانتا تھا'۔
عامر خان نے ایک اور واقعہ یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ایک بار ان کی دوسری سابقہ اہلیہ و معروف فلمساز کرن راؤ کے ساتھ جھگڑے کے بعد انہوں نے 4 دن تک اُن سے بات نہیں کی، جس پر کرن رو پڑیں، عامر خان نے اسے اپنی شخصیت کی ایک بڑی خامی قرار دیا۔
عامر خان نے بتایا کہ جوہی چاولہ سے ان کی ناراضگی فلم 'عشق (1997)' کی شوٹنگ کے دوران ہوئی تھی۔
بعد ازاں 2002 میں جب عامر اور رینا دتا کی طلاق ہوئی، تو جوہی نے عامر کو خود فون کر کے صلح کی پیشکش کی۔
عامر خان کا کہنا تھا کہ 'جوہی کو جب پتا چلا کہ میری اور رینا کی طلاق ہو گئی ہے تو اس نے مجھے فون کیا اور ملنے کا کہا، وہ جانتی تھی کہ شاید میں فون نہ اٹھاؤں، لیکن پھر بھی اس نے کال کی، یہ بات میرے دل کو چھو گئی، تب مجھے اندازہ ہوا کہ دوستی اپنی جگہ پر قائم ہے، چاہے ہم ایک دوسرے سے بات نہ بھی کر رہے ہوں'۔




