پاکستان

عمران خان کا فیلڈ مارشل عاصم منیر سے متعلق جھوٹ پکڑا گیا

عمران خان کی اپنی ہی پرانی ٹوئٹ نے انکے جھوٹے الزامات کی پول کھول دی

Web Desk

عمران خان کا فیلڈ مارشل عاصم منیر سے متعلق جھوٹ پکڑا گیا

عمران خان کی اپنی ہی پرانی ٹوئٹ نے انکے جھوٹے الزامات کی پول کھول دی

(عمران خان کی اپنی ہی پرانی ٹوئٹ نے جھوٹے الزامات کی پول کھول دی)
(عمران خان کی اپنی ہی پرانی ٹوئٹ نے جھوٹے الزامات کی پول کھول دی)

سابق وزیراعظم و بانی پی ٹی آئی عمران خان نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے متعلق ایک بار پھر متنازع گفتگو کیلئے غلط بیانی کا سہارا لیا، تاہم انکی اپنی ہی پرانی ٹوئٹ سے جھوٹ بےنقاب ہوگیا۔

عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے اڈیالہ میں بھائی سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 'بانی پی ٹی آئی نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کو دہرایا ہے کہ جس ملک میں جنگل کا قانون ہو وہاں فیلڈ مارشل نہیں جنگل کا بادشاہ ہونا چاہیے'۔

بعدازاں عمران خان کے 'ایکس (ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر اُن سے منسوب ایک بیان سامنے آیا جوکہ پوسٹ کے مطابق عمران خان نے اڈیالہ جیل میں وکلاء اور صحافیوں سے گفتگو کے دوران دیا۔

بیان میں عمران خان نے کہا کہ 'جو حق پر کھڑا ہوتا ہے وہ ہارتا نہیں ہے۔ اللہ تعالٰی کا قرآن پاک میں فرمان ہے کہ 'میں کسی ایسی قوم کو تباہ نہیں کرتا جو حق سچ پر کھڑی ہوتی ہے'، حضرت علیؓ کا قول ہے کہ 'کفر کا نظام چل سکتا ہے مگر ناانصافی کا نہیں' جھوٹا اور دھوکے باز خود بخود بے نقاب ہو جاتا ہے'۔

عمران خان سے منسوب بیان میں مزید لکھا گیا کہ '9 مئی درحقیقت لندن پلان کا حصہ تھا جس کا مقصد ہی ملک کی سب سے بڑی سیاسی قوت تحریکِ انصاف کو ختم کرنا تھا۔ جس میں مجھے اور دیگر پارٹی اراکین اور کارکنان کو پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت جیل میں ڈالا گیا۔ ہمارا مینڈیٹ لوٹ کر چوروں کو ملک پر مسلط کیا گیا۔ ہم پر ہر طرح کی فسطائیت کے پہاڑ توڑے گئے۔ ہمارے لوگوں پر گولیاں چلائی گئیں اور ہمیں پر جھوٹے کیسز بنائے گئے'۔

اس کے بعد عمران خان نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ 'میں نے بطور وزیراعظم جنرل عاصم منیر کو ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے سے ہٹایا تو عاصم منیر نے اپنے ذرائع سے بشریٰ بی بی تک رسائی کی کوشش کی کہ میں اس حوالے سے آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں، جس پر بشریٰ بی بی نے صاف انکار کر دیا کہ میرا ان معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہے لہٰذا میں آپ سے ملاقات نہیں کرونگی'۔

عمران خان نے مزید الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ 'بشریٰ بی بی کی گزشتہ 14 ماہ کی ناحق قید اور جیل میں ناروا سلوک کے پیچھے جنرل عاصم منیر کا یہ انتقامی رویہ ہی کارفرما ہے۔ مجھے زیر کرنے کیلئے جس طرح میری اہلیہ بشریٰ بی بی کو انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے اس طرح پاکستان کی تاریخ میں آمریت کے دور میں بھی کبھی نہیں ہوا۔ ان پر اعانت کا الزام تھا جو کہ ثابت بھی نہیں ہوا۔ لہذا ایک کیس سے دوسرے میں گرفتاری ڈال دی جاتی ہے'۔

بانی پی ٹی آئی سے منسوب بیان میں مزید کہا گیا کہ 'وہ (بشریٰ بی بی) ایک گھریلو خاتون ہیں جنکا سیاست سے کوئی تعلق نہیں- چار ہفتوں سے میری اپنی اہلیہ سے ملاقات بھی نہیں کروائی جارہی۔ جیل ضابطے کے مطابق کل میری اپنی اہلیہ سے ملاقات کا دن طے تھا مگر عدالتی حکم کے باوجود طے شدہ شیڈول کے مطابق ہماری ملاقات نہیں کروائی گئی'۔

عمران خان کی پرانی ٹوئٹ نے پول کھول دی

عمران خان سے منسوب یہ بیان سامنے آتے ہی یہ بےبنیاد الزامات اُس وقت فوراً بےنقاب ہوگئے جب ان کی اپنی ہی پرانی ٹوئٹ نے ان کے جھوٹ کا پول کھول دیا۔

21 مئی 2023ء کو عمران خان نے اپنی ایک ٹوئٹ میں 'ٹیلی گراف' کا آرٹیکل شیئر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ 'اس آرٹیکل میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ میں نے جنرل عاصم کو ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے سے استعفیٰ دینے پر مجبور کیا کیونکہ انہوں نے مجھے میری بیوی بشریٰ بیگم کے کرپشن کیسز دکھائے تھے'۔

(اسکرین شاٹ: ایکس)
(اسکرین شاٹ: ایکس)

عمران خان نے مزید لکھا تھا کہ 'یہ سراسر جھوٹ ہے، نہ تو جنرل عاصم نے مجھے میری اہلیہ کی کرپشن کے کوئی ثبوت دکھائے اور نہ ہی میں نے انہیں استعفیٰ دینے پر مجبور کیا'۔

بانی پی ٹی آئی کے دونوں بیانات میں واضح تضاد سامنے آنے کے بعد انہیں سیاسی مفاد کی خاطر حقائق کو توڑمروڑ کر پیش کرنے پر سوشل میڈیا پر مختلف حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل آرمی چیف سید عاصم منیر کے فیلڈ مارشل بننے پر بھی عمران خان نے اڈیالہ جیل میں ایسی ہی گفتگو کی تھی، جس کے بعد عوام کی جانب سے انہیں کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

علاوہ ازیں گزشتہ برس ایک بیان میں عمران خان نے کہا تھا کہ 'اگر میری بیوی کو کچھ ہوا تو عاصم منیر کو نہیں چھوڑوں گا، جب تک زندہ ہوں عاصم منیر کا پیچھا نہیں چھوڑوں گا، اس کے غیر آئینی اور غیرقانونی اقدامات کو بےنقاب کرتا رہوں گا'۔