ہالی ووڈ

آسکر ایوارڈ جیتنے والے 12 بہترین اداکار کون؟

ان 12 اداکاروں نے ہالی وڈ پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں

Web Desk

آسکر ایوارڈ جیتنے والے 12 بہترین اداکار کون؟

ان 12 اداکاروں نے ہالی وڈ پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں

آسکر ایوارڈ جیتنے والے 12 بہترین اداکار کون؟

آسکر ایوارڈ کو دنیا بھر میں فلموں اور اداکاری کے معیار کو پرکھنے کا سب سے معتبر ایوارڈ سمجھا جاتا ہے، ہر سال منعقد ہونے والے آسکر ایوارڈ کروڑوں لوگوں کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔

ان ایوارڈز کو حاصل کرنے والے تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر ہوجاتے ہیں اور ان کے ساتھ آسکر ایوارڈ یافتہ بھی لازمی لکھا جاتا ہے۔

آسکر ایوارڈ کی تقریب کو کروڑوں لوگ بیک وقت دیکھ رہے ہوتے ہیں اور اُس سال کی فلموں سے متعلق اپنی رائے بھی دے رہے ہوتے ہیں کہ پانسہ کس فلم اور کس فنکار کے حق میں پلٹے گا۔

جب کوئی فنکار اس ایوارڈ کا حقدار پایا جاتا ہے تو اسے بین الاقوامی توجہ مل جاتی ہے اور پھر اس کے کردار کو دہائیوں تک یاد رکھا جاتا ہے۔

اس آرٹیکل میں ہم کچھ ایسےاداکاروں کی بات کریں گے جنہوں نے فلم میں جاندار اداکاری کرکے ایک طرف فلمی دنیا کو اپنا گرویدہ بنا لیا تو دوسری جانب آسکر ایوارڈ کے بھی حقدار قرار پائے۔

1۔ جے کے سیمنز بطور ٹیرنس فلیچر: Whiplash (2014)

اسکرین گریب گوگل
اسکرین گریب گوگل

فلم Whiplash کو قلیل بجٹ اور سخت شیڈول کے باوجود مکمل کیا گیا لیکن یہ صرف ایک شاندار میوزیکل فلم ہی نہیں بلکہ فنکارانہ مہارت کا نمونہ بھی ہے۔

فلم کو پانچ آسکر نامزدگیاں ملیں اور جے کے سیمنز کی جیت نے سب کو حیران کر دیا۔

انہوں نے سخت گیر استاد فلیچر کا کردار کچھ اس شدت سے ادا کیا کہ ناظرین اسے ولن کی طرح محسوس کرنے لگے۔

ان کا کردار ایسا تھا کہ جیسے کوئی خوابوں میں آکر ڈرائے، انہوں نے کردار میں ڈوب کر اداکاری کی اور یہ کارکردگی سچ میں ان کے فن سے مکمل وابستگی کی عکاسی ہے۔

2۔ سڈنی پوئٹئیر بطور ہومر اسمتھ: Lilies of the Field (1963)

اسکرین گریب گوگل
اسکرین گریب گوگل

1964 میں سڈنی پوئٹئیر نے بہترین اداکار کا ایوارڈ جیتا اور یوں آسکر جیتنے والے پہلے سیاہ فام اداکار بنے۔

ان کی فلم ’للیز آف دی فیلڈ‘ میں وہ ایک سادہ دل مزدور کا کردار ادا کرتے ہیں جو کچھ نَنز کی مدد کرتا ہے۔

فلم سادگی، خیرخواہی اور انسانیت کا پیغام دیتی ہے،پوئٹئیر کی دل موہ لینے والی اداکاری کے بغیر یہ فلم وہ تاثر کبھی نہیں چھوڑ پاتی اور وہ واقعی اس سال کے آسکر کے بہترین اداکار کے حقدار بھی تھے۔

3۔ کرسٹوف والٹز بطور ہانز لانڈا: Inglourious Basterds (2009)

اسکرین گریب گوگل
اسکرین گریب گوگل

کوانٹین ٹرانٹینو کی فلم میں کرسٹوف والٹز نے جرمن نازی آفیسر ہانز لانڈا کا کردار ادا کیا۔

اگرچہ یہ منفی کردار ہے مگر اس کی مکاری اور چالاکی اس درجے کی ہے کہ اکیڈمی 2010 میں اسے بہترین معاون اداکار کا ایوارڈ دینے پر مجبور ہو گئی۔

فلم کے ابتدائی سین میں کرسٹوف والٹز کی کارکردگی ہی فلم کا معیار طے کر دیتی ہے اور کہانی جیسے جیسے آگے بڑھتی ہے کرسٹوف والٹر کے کردار سے ناظرین جڑے رہتے ہیں۔

4۔ گریگوری پیک بطور ایٹیکس فنچ: To Kill a Mockingbird (1962)

اسکرین گریب گوگل
اسکرین گریب گوگل

عدالتی ڈرامے ہمیشہ آسکر میں پسند کیے جاتے ہیں لیکن گریگوری پیک کی ایٹیکس فنچ کے طور پر اداکاری نہ صرف ایک متاثر کن وکیل کا کردار تھی بلکہ جرات اور انسانی ہمدردی کا پیکر بھی تھا۔

وہ سچ کے لیے کھڑا ہوتا ہے اور ہر مشکل کا ڈٹ کر سامنا کرتا ہے، اس کردار کو ہالی ووڈ کا عظیم ترین ہیرو بھی کہا جاتا ہے۔

گریگوری پیک کو بہترین اداکاری پر آسکر کےبہترین اداکار کے لیے نوازا گیا۔

5۔ مارلن برانڈو بطور ویتو کارلیون: The Godfather (1972)

اسکرین گریب گوگل
اسکرین گریب گوگل

فلم ’گاڈ فادر‘ کو ہالی وڈ کی تاریخ کی 10 بہترین فلموں میں جانا جاتا ہے اور مالن برانڈو نے اس فلم میں ایسی اداکاری کی کہ آج بھی ان کی اداکاری کو نصاب میں پڑھایا جاتا ہے۔

’گاڈ فادر ‘ میں مارلن برانڈو کا کردار میں وہ سب کچھ تھا جو ایک اٹالین مافیا کے ڈان میں ہوتا ہے ، اس فلم کے آگے سیکوئل بھی بنے لیکن جو مقبولیت پہلی فلم کو حاصل ہوئی وہ دوسرے حصوں کو حاصل نہیں ہوسکی۔

مارلن برانڈو کو 1973 کے آسکر ایوارڈ میں بہترین اداکار کا ایوارڈ دیا گیا لیکن انہوں نے یہ ایوارڈ قبول کرنے سے انکا کردیا۔

مارلن برانڈو ایوارڈ نہ لیکر مقامی امریکیوں کے ساتھ امتیازی سلوک پر احتجاج کرنا چاہتے تھے۔ تاہم ان کی فلم ’گاڈ فادر‘میں ’ڈان ویتو کارلیون‘ کا کردار آج بھی فلمی دنیا کے لیے ایک سبق ہے۔

ان کی ادائیگی، خاموشی اور گفتگو میں ٹھہراؤ، سب کچھ ان کی اداکاری کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔

6۔ ایڈریان براڈی بطور ولاڈی سلاو شپلمان: The Pianist (2002)

اسکرین گریب گوگل
اسکرین گریب گوگل

ایڈریان براڈی نے ’دی پیانسٹ‘ میں ایک حقیقی ہولوکاسٹ زندہ بچ جانے والے پیانسٹ کا کردار ادا کیا، جو جرمن حملے کے دوران وارسا میں زندہ بچنے کی کوشش کرتا ہے۔

ان کی آنکھوں کی گہرائی اور جسمانی حرکات اس کردار کے درد اور امید دونوں کو انتہائی مؤثر انداز میں پیش کرتی ہیں۔

یہ کردار فلمی تاریخ کی عظیم ترین جنگی پرفارمنسز میں شمار ہوتا ہے، اس فلم میں بہت کم ڈائیلاگ ہیں، باڈی لینگویج اور آنکھوں میں چھپے خوف کو ہی فلم کا محور بنایا گیا ہے اور اس صورتحال میں کسی اداکار کے لیے بہترین اداکاری کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے لیکن ایڈریان نے یہ سب کچھ دکھایا ، ایک خاموش فلم میں ایسی جاندار اداکاری کی آسکر کا بہترین اداکار کا ایوارڈ اپنے نام کیا۔

7۔ ڈینزل واشنگٹن بطور پرائیویٹ ٹرپ: Glory (1989)

اسکرین گریب گوگل
اسکرین گریب گوگل

جنگی فلمیں عموماً حقیقت پسندی کو ختم کر دیتی ہیں تاکہ جنگی مناظر میں دھماکوں اور بعض اوقات سنسنی خیز تشدد کے ذریعے سنیما کی چمک دمک پیدا کی جا سکے۔

ایسے میں جب کوئی فلم حقیقت پسندی کو ترجیح دیتی ہے تو وہ بے حد نمایاں ہو جاتی ہے۔

ایڈورڈ زوِک کی فلم’ گلوری ‘اسی نوعیت کی ایک یادگار فلم ہے، جنگ کو فلموں میں اکثر رومانوی انداز میں پیش کیا جاتا ہے یا غیر ضروری جاہ و جلال سے آراستہ دکھایا جاتا ہے مگر’ گلوری‘ ایسی تمام تر سنسنی خیزی کو دور کر کے جنگ کی تباہ کاری اور اس کی کڑوی حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے۔

اس فلم کی کاسٹ بھی بے مثال ہے، جس میں مورگن فری مین، کیری ایلویز، میتھیو بروڈرک، آندرے براؤر اور سب سے نمایاں ڈینزل واشنگٹن۔

گلوری آج بھی امریکی خانہ جنگی پر بننے والی بہترین فلموں میں شمار ہوتی ہے۔

ڈینزل واشنگٹن نے فلم میں پرائیویٹ ٹرِپ کا کردار ادا کیا جو امریکہ کی تاریخ کے ابتدائی سیاہ فام رضاکار فوجیوں میں سے ایک ہے۔

اُن کی اداکاری میں جہاں اس سپاہی کی بہادری دکھائی دیتی ہے، وہیں ایک انسان کی فطری خوف اور گھبراہٹ کو بھی نہایت موثر انداز میں پیش کیا گیا ہے، جو جنگ کا لازمی حصہ ہے۔

ڈینزل واشنگٹن نے اس کردار پر 1990 میں بہترین معاون اداکار کا آسکر ایوارڈ جیتا اور یہ ان کے اداکاری کے آغاز کے صرف 13 سال بعد کا اعزاز تھا۔

8۔ انتھونی ہاپکنز بطور ہینبل لیکٹر: The Silence of the Lambs (1991)

اسکرین گریب گوگل
اسکرین گریب گوگل

ایسا بہت کم ہوا ہے کہ کوئی اداکار اتنے کم اسکرین ٹائم میں بہترین اداکار کا ایوارڈ جیتے لیکن انتھونی ہاپکنز نے صرف 16 منٹ کی فلم میں موجودگی میں ’ہینبل لیکٹر‘ جیسے کردار کو ایک خوفناک مجرم میں تبدیل کر دیا۔

ان کے کردار کی سرد مہری، ذہنی خباثت اور مکالموں کی ادائیگی آج بھی سنیما کی کلاسیکی مثالوں میں شمار ہوتی ہے۔

9۔ جیک نکلسن بطور میکمرفی: One Flew Over the Cuckoo’s Nest (1975)

اسکرین گریب گوگل
اسکرین گریب گوگل

میلوش فورمین کی فلم’ ون فلو اوور دی کوکو’ز نیسٹ‘ کی نرس ریچیڈ کو فلمی تاریخ کے عظیم ترین ولن کرداروں میں شمار کیا جاتا ہے۔

اس کردار کی شاندار عکاسی پر لویس فلیچر کو بہترین اداکارہ کا آسکر ایوارڈ ملا جبکہ جیک نکلسن کو بھی اسی فلم کے لیے بہترین اداکار کا آسکر ملا۔

ون فلو اوور دی کوکو’ز نیسٹ وہ دوسری فلم ہے جس نے آسکر کی"بگ فائیو یعنی پانچ بڑے ایوارڈز جیتے۔

فلم میں نکلسن نے میک مرفی کا کردار ادا کیا، جو ایک مجرم ہوتا ہے اور جیل جانے سے بچنے کے لیے پاگل پن کا بہانہ کرتا ہے۔

تاہم وہ جلد ہی دریافت کرتا ہے کہ جس دماغی اصلاح کے ادارے میں اسے رکھا گیا ہے، وہ جیل سے کسی طور بہتر نہیں بلکہ نرس ریچیڈ ان مریضوں کے لیے ایک ظالم جیلر جیسی ہے۔

نکلسن کی پرجوش اور گہرائی سے بھرپور اداکاری، جس میں وہ کامیڈی اور المیہ کی کیفیات کو نہایت مہارت سے یکجا کرتے ہیں، اُس شخص کی کہانی پیش کرتی ہے جو نادانستہ طور پر اسپتال کے مریضوں کا رہنما بن جاتا ہے ،صرف اس لیے کہ وہ نرس ریچیڈ کے ظلم کے خلاف کھڑا ہوتا ہے۔

یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ یہ کردار نکلسن کی اداکاری کے کیریئر کا سب سے بہترین مظاہرہ ہو سکتا ہے۔

10۔ ڈینیئل ڈے لیوس بطور ڈینیئل پلین ویو: There Will Be Blood (2007)

اسکرین گریب گوگل
اسکرین گریب گوگل

ڈینئل پلین ویو ایک ایسا شخص ہے جو دولت کی ہوس میں پاگل ہو جاتا ہے، ڈے لیوس نے اس کردار کو اس شدت سے نبھایا کہ ناظرین اس کے کردار سے نفرت کرنے لگے لیکن ساتھ ہی ہمدردی بھی محسوس کرتے ہیں۔

یہ کردار اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح طاقت اور لالچ انسان کو تباہ کر سکتے ہیں۔

11۔ ہیتھ لیجر بطور جوکر: The Dark Knight (2008)

اسکرین گریب گوگل
اسکرین گریب گوگل

ہیتھ لیجر کی جوکر کے کردار میں کارکردگی آج تک سپر ہیرو فلموں میں سب سے بلند مقام رکھتی ہے،2009 میں انہیں اس کردار کے لیے بعد از مرگ آسکر دیا گیا۔

ان کی حرکات، مکالموں کی ادائیگی اور کردار میں ڈوب جانا انہیں ناقابلِ فراموش بنا گیا۔

یہ کارکردگی اتنی شاندار تھی کہ اس نے فلم ’دی ڈارک نائٹ‘کو کلاسک بنا دیا اور بہترین اداکار کے آسکر ایوارڈ کے حقدار قرار پائے۔

12۔ رابرٹ ڈی نیرو بطور جیک لا موٹا: Raging Bull (1980)

اسکرین گریب گوگل
اسکرین گریب گوگل

اگرچہ رابرٹ ڈی نیرو فلم’ ریجنگ بل‘ میں کام کرنے سے پہلے ہی ایک بڑے سٹار بن چکے تھےلیکن یہ فلم ان کی بطور اداکار پہلی نمایاں انٹری تھی جس کے بعد وہ ایک بڑے فلمی ستارے کے طور پر ابھرے۔

اگرچہ بعد میں وہ اچانک منظرنامے سے غائب ہو گئے، ’ریجنگ بل‘ وہ چوتھی فلم تھی جس میں ڈی نیرو نے مارٹن سکورسیزی کے ساتھ کام کیا اور اس فلم میں اداکاری پر انہیں بہترین اداکار کا دوسرا آسکر ایوارڈ ملا۔

اس سے قبل 1975 میں وہ’ دی گاڈفادر پارٹ 2‘ میں بہترین معاون اداکار کا آسکر جیت چکے تھے۔

رابرٹ ڈی نیرو نے جیک لا موٹا کے کردار میں جس حد تک باریکی اور دیانت داری سے حقیقت کا رنگ بھرا، وہ انہی جیسے عظیم تھیٹر اداکار سے توقع کی جا سکتی تھی۔

لا موٹا کی شہرت کی تاریکی اور اسکینڈل زدہ کہانی، اس کے باکسنگ کیریئر کا عروج اور ذاتی زندگی میں بربادی، یہ سب کچھ’ ریجنگ بل‘ میں اس شدت سے محسوس ہوتا ہے صرف اور صرف رابرٹ ڈی نیرو کی بے مثال اداکاری کی وجہ سے۔

رابرٹ ڈی نیرو نے جس شدت سے کردار کے غصے اور پرتشدد رویے کو اسکرین پر پیش کیا، وہ نہ صرف ناقابلِ فراموش ہے بلکہ اسے سنیما کی تاریخ کی عظیم ترین اداکاری قرار دینا شاید مبالغہ بھی نہ ہو۔

یہ سب پرفارمنسز ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ فلم صرف تفریح نہیں بلکہ ایک طاقتور اظہار ہے، آسکر ایوارڈز کی دنیا میں ان فنکاروں نے نہ صرف کامیابی حاصل کی بلکہ سنیما کی تاریخ کو بھی نئی جہت دی۔