انفوٹینمنٹ

تھائی لینڈ کی سچاتا اوپل مس ورلڈ 2025منتخب

21 سالہ حسینہ نے پہلی بار ملک کیلئے یہ ٹائٹل جیت کر تاریخ رقم کردی۔

Web Desk

تھائی لینڈ کی سچاتا اوپل مس ورلڈ 2025منتخب

21 سالہ حسینہ نے پہلی بار ملک کیلئے یہ ٹائٹل جیت کر تاریخ رقم کردی۔

اوپل سچاتا کی عمر 21 برس ہے۔
اوپل سچاتا کی عمر 21 برس ہے۔

تھائی لینڈ کی اوپل سُچاتا نے اپنے ملک کے لیے پہلی بار مس ورلڈ 2025 کا ٹائٹل جیت کر تاریخ رقم کردی ہے۔

اوپل سچاتا نے بھارت کے شہر حیدرآباد میں منعقد حسینہ عالم کے مقابلے میں 108 امیدواروں میں سے پہلی پوزیشن حاصل کی۔

اس مقابلہ حسن کے 72 ویں ایڈیشن میں دوسرے نمبر پر ایتھوپیا کی ہیسیٹ ڈیریز اور تیسری پوزیشن مارٹنیک کی اوریلی یوہاچم نے حاصل کی۔

اوپل سچاتا کے سر پر حسینہ عالم کا تاج گزشتہ برس مقابلہ حسن جیتنے والی چیک ری پبلک کی حسینہ کرسٹینا پیزکووا نے سجایا۔

21 سالہ اوپ؛ سچتا کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جس کی جڑیں فوکٹ صوبے کی ہوٹل انڈسٹری میں گہری ہیں، وہ چھوٹی عمر سے ہی بین الاقوامی اسکولوں میں تعلیم حاصل کر کے انگریزی میں روانی رکھتی ہے۔

اس کے علاوہ، وہ چینی زبان میں بھی مہارت رکھتی ہے، اور انہوں نے بنکاک کے Triam Udom Suksa اسکول سے چینی زبان میں اسپشلائزیشن حاصل کررکھی ہے۔

فی الحال اوپل سچاتا تھماسات یونیورسٹی کی فیکلٹی آف پولیٹیکل سائنس میں بین الاقوامی تعلقات میں ڈگری حاصل کر رہی ہیں اور مستقبل میں ایک سفارت کار بننے کی خواہش رکھتی ہیں۔


مس ورلڈ ویب سائٹ پر موجود ان کے پروفائل کے مطابق وہ بین الاقوامی تعلقات کے علاوہ وہ نفسیات اور بشریات میں بھی گہری دلچسپی رکھتی ہیں۔

انہوں نے ان تنظیموں کے ساتھ کام کیا ہے جو چھاتی کے کینسر کے بارے میں بیداری پیدا کرتی ہیں اور وہ خود بریسٹ ٹیومر سروائیور بھی ہیں۔

سچاتا اوپل خواتین، خاص طور پر نوجوان خواتین میں تعلیم پھیلانے کے بارے میں بہت آواز اٹھاتی رہی ہیں، وہ جانوروں سے محبت کرنے والی بھی ہیں اور ان کے پاس 16 بلیاں اور پانچ کتے ہیں۔

مقابلہ جیتنے کے بعد خوبصورت تاج کے ساتھ سچاتا اوپل نے 10 لاکھ ڈالر کا انعام بھی حاصل کیا ہے۔

یہ رقم مس ورلڈ آرگنائزیشن اور اس کے شراکت داروں کی طرف سے انعامی رقم کے طور پر فاتح کو دی جاتی ہے۔

میزبان ملک بھارت کی نندنی گپتا ٹاپ 20 میں جگہ بنانے میں کامیاب رہیں، لیکن فاتح نہیں بن سکیں۔

حسینہ عالم کا یہ مقابلہ حسن سات مئی کو شروع ہوا تھا اور 31 مئی کو نئی مس ورلڈ کے انتخاب سے قبل کئی تنازعات کا بھی شکار ہوا۔