انفوٹینمنٹ

لگان کی ’گوری‘ کہاں ہے ؟

گریسی سنگھ نے کیرئیر کی ابتدا میں ہی کئی سپر ہٹ فلموں میں کام کیا تھا

Web Desk

لگان کی ’گوری‘ کہاں ہے ؟

گریسی سنگھ نے کیرئیر کی ابتدا میں ہی کئی سپر ہٹ فلموں میں کام کیا تھا

گریسی سنگھ نے اپنا فنی سفر کلاسیکی رقص سے شروع کیا
گریسی سنگھ نے اپنا فنی سفر کلاسیکی رقص سے شروع کیا

سن 2000 کی دہائی کے اوائل میں سپر ہٹ فلموں میں جلوہ دکھانے والی گریسی سنگھ آج ایک گمنانی کی زندگی گزار رہی ہیں ، شوبز سے کنارہ کشی کے بعد انہوں نے روحانیت کی جانب رخ کرلیا ہے اور اب تک شادی بھی نہیں کی۔

ایسا بہت کم ہوا ہے کہ کسی اداکارہ کو اس کے کرئیر کے شروع میں ہی ہٹ فلمز مل جائیں اور ہٹ بھی ایسی کہ زمانہ ان کو یاد رکھے۔

گریسی سنگھ اپنی خوبصورتی، نفاست اور بھرپور اداکاری کے لیے جانی جاتی ہیں، گریسی نہ صرف ایک باصلاحیت اداکارہ بلکہ تربیت یافتہ کلاسیکی رقاصہ بھی ہیں، جنہوں نے فلموں میں قدم رکھ کر اپنی فنکاری کا جادو جگایا۔

گریسی سنگھ کا فنی سفر

گریسی سنگھ نے اپنا فنی سفر کلاسیکی رقص سے شروع کیا اور ’دی پلینیٹس‘ نامی ڈانس گروپ کے ساتھ دنیا بھر میں پرفارم کیا،1997 میں انہوں نے ٹیلی ویژن ڈرامہ ’امانت‘ سے اداکاری کا آغاز کیا۔

گریسی سنگھ کی قسمت کچھ ایسی تھی کہ انہوں نے ڈراموں سے اپنے کرئیر کا آغاز کیا لیکن پھر قسمت کی دیوی ان پر ایسی مہربان ہوئی کہ انہیں عامر خان کے ساتھ مشہور زمانہ فلم ’لگان‘ مل گئی جس میں انہوں نے گوری کا یادگار کردار ادا کیا، اس فلم کو آسکرایوارڈ کے لیے بھی نامزد کیا گیا۔

گریسی سنگھ کی کامیابی کا سفر یہیں نہیں رکا بلکہ انہوں نے ’منا بھائی ایم بی بی ایس‘ اور’گنا جل‘ جیسی فلموں میں کام کیا۔

خاص طور پر ’منابھائی ایم بی بی ایس‘ میں ان کی اداکاری کو خوب سراہا گیا ، وہ ایک ڈاکٹر کے روپ میں سادگی سے بھرپورنظر آئیں ۔

ان کے فلمی کرئیر پر نظر ڈالی جائے تو انہوں نے اپنے کرداروں میں گلیمر لُک سے فاصلہ اختیار کئے رکھا اور کوئی ایسا کردار قبول نہیں کیا جو ان کی شخصیت کو بولڈ دکھائے۔

گریسی کا بالی وُڈ سے فاصلہ

عروج کے دنوں میں ہی گریسی سنگھ نے بالی وڈ سے آہستہ آہستہ دوری اختیار کر لی۔

اپنے انٹرویوز میں انہوں نے کہا کہ اداکاری ان کی زندگی کا واحد مقصد نہیں بلکہ وہ صرف ان منصوبوں میں کام کرنا چاہتی ہیں جو ان کے دل سے جُڑے ہوں۔

اس سوچ نے انہیں علاقائی سنیما جیسے پنجابی، تیلگو اور ملیالم فلموں کی طرف مائل کیا تاہم ان فلموں کو باکس آفس پر کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔

ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق 2008 میں ان کے مینیجر کے انتقال کے بعد گریسی سنگھ نے بالی وُڈ کے بڑے ہدایت کاروں کی پیشکشیں بھی قبول کرنا بند کر دیں۔

روحانی دنیا کی طرف رجحان

2013 میں گریسی سنگھ نے روحانی تنظیم برہما کماریز میں شمولیت اختیار کی، انہوں نے بتایا کہ وہاں انہیں امن، خوشی، اور تحفظ کا ایک نیا احساس ملا جس نے ان کی زندگی اور کام کے انداز کو بدل دیا۔

گریسی سنگھ نے پھر ایسے پروجیکٹس کا انتخاب کیا جس میں ہندو مذہب کی چھاپ نمایاں ہو۔

گریسی سنگھ نے پھر ’سنتوشی ماں‘ اور اس کے سیکوئل ’سنتوشی ماں: سنائیں ورت کتھائیں‘ میں دیوی سنتوشی کا کردار ادا کیا۔

لاکھوں دلوں پر راج کرنے والی گریسی سنگھ نے اب تک شادی نہیں کی ہے، 2020 میں دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ’شادی کرنے کا یہ صحیح وقت نہیں ہے لیکن مستقبل میں ممکن ہے کہ کسی سے شادی کرلوں لیکن 5 سال گزر جانے کے بعد بھی انہوں نے اب تک اپنا جیون ساتھی نہیں چُنا ہے۔

گریسی سنگھ ایک ایسی شخصیت ہیں جنہوں نے فلمی دنیا میں رہتے ہوئے بھی خود کو نمود و نمائش سے دور رکھا، اور روحانیت، سادگی اور اندرونی سکون کو ترجیح دی۔

وہ نئی نسل کے فنکاروں کے لیے ایک مثالی کردار ہیں جو یہ سکھاتی ہیں کہ شہرت اور چمک دمک سے ہٹ کر بھی وقار، شناخت اور خوشی حاصل کی جا سکتی ہے۔