اسکینڈلز

کنڑا زبان پر بیان! کمل ہاسن اور انکی فلم مشکل میں پھنس گئے

اداکار کو ریاست کرناٹک میں شدید مخالفت کا سامنا ہے۔

Web Desk

کنڑا زبان پر بیان! کمل ہاسن اور انکی فلم مشکل میں پھنس گئے

اداکار کو ریاست کرناٹک میں شدید مخالفت کا سامنا ہے۔

کنڑا زبان پر بیان! کمل ہاسن اور انکی فلم مشکل میں پھنس گئے

منی رتنم کی آنے والی فلم 'ٹھگ لائف'  کا ٹریلر 17 مئی 2025 کو جاری کیا گیا جس کے بعد سے فلم کے مرکزی اداکار کمل ہاسن شدید تنازعات میں گھرے ہوئے ہیں۔

نوجوان اداکاراؤں کے ساتھ رومانوی مناظر اور 'کنڑا، تامل سے نکلی ہے' جیسے متنازع بیان کی وجہ سے اداکار کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔

متنازع بیان پر پروین شیٹی کی قیادت میں کرناٹک رکشنا ویدیکے نامی پرو-کنڑا تنظیم نےکمل ہاسن کے خلاف پولیس میں شکایت درج کروائی ہے اور اب وہ فلم "ٹھگ لائف" کی کرناٹک میں نمائش کی کھل کر مخالفت کررہی ہے۔

فلم "ٹھگ لائف" 5 جون 2025 کو سنیما گھروں میں ریلیز ہونے والی ہے ایسے میں یکم جون 2025 کو KRV کے کارکنوں نے بنگلورو کے میں واقع وکٹری سنیما کے باہر مظاہرہ کیا۔

یہ احتجاج فلم کی کرناٹک میں ممکنہ نمائش کے خلاف کیا گیا، کے آر وی نے مطالبہ کیا کہ کمل ہاسن کی فلم پر ریاست بھر میں پابندی لگائی جائے، کیونکہ ان کے متنازع بیان نے کنڑا عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے، ساتھ ہی انہوں نے تھیٹر مالکان کو بھی وارننگ دی کہ فلم کی نمائش نہ کی جائے۔

پروین شیٹی نے کہا کہ اگر ٹھگ لائف کرناٹک میں نمائش کے لیے پیش کی گئی تو ریاستی حکومت کو اس کے نتائج کی ذمہ داری اٹھانی ہوگی۔

دوسری جانب کرناٹک فلم چیمبر آف کامرس نے بھی اعلان کیا تھا کہ منی رتنم کی فلم ٹھگ لائف پر ریاست میں پابندی عائد کر دی گئی ہے، یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب 70 سالہ کمل ہاسن نے اپنے بیان پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا۔

دیگر کنڑا تنظیموں نے بھی موقف کی حمایت کی جس میں فلم کی ریلیز کی مخالفت کی جارہی ہے۔

بیان کیا تھا؟

کمل ہاسن نے یہ متنازع بیان 25 مئی 2025 کو کرناٹک میں ایک آڈیو لانچ ایونٹ کے دوران دیا تھا، جہاں ان کے ساتھ کنڑا اداکار شیو راجکمار بھی موجود تھے، کمل نے شیو راجکمار کو 'کسی دوسری ریاست میں رہنے والی اپنی فیملی' قرار دیا، ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ 'کنڑا (زبان) تامل سے نکلی ہے'۔

" یہ بیان کے آر وی اور دیگر کنڑا حامی گروپوں کو سخت ناگوار گزرا، جس کے بعد انہوں نے فلم پر پابندی کا مطالبہ کیا۔

تاہم مخالفت کے باوجود کمل ہاسن نے معافی مانگنے سے انکار کر دیا ہے اور کہا کہ 'میں نے جو کچھ کہا، محبت سے کہا، مؤرخین نے مجھے زبان کی تاریخ سکھائی ہے، میرا مطلب کچھ اور نہیں تھا، تامل ناڈو ایک کھلی سوچ رکھنے والی جگہ ہے۔ آئیے اس گہرے موضوع کو مؤرخین، ماہرینِ آثارِ قدیمہ، اور زبان کے ماہرین پر چھوڑ دیتے ہیں، محبت کبھی معافی نہیں مانگتی۔'

اس کے علاوہ چنئی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کمل ہاسن نے کہا کہ ان کا ارادہ کنڑا عوام کو ٹھیس پہنچانے کا ہرگز نہیں تھا اور انہیں کرناٹک سے بہت محبت ہے۔

تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ وہ اس بات پر معافی نہیں مانگیں گے کیونکہ ان کے خیال میں انہوں نے کچھ غلط نہیں کیا۔