ٹیکنالوجی

میٹا کا نیا ڈیجیٹل گارڈ متعارف

کمپنی اب تک اپنے پرائیویسی پروگرام میں 8 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کر چکی ہے

Web Desk

میٹا کا نیا ڈیجیٹل گارڈ متعارف

کمپنی اب تک اپنے پرائیویسی پروگرام میں 8 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کر چکی ہے

اسکرین گریب
اسکرین گریب

میٹا (سابقہ فیس بک) نے اپنے معروف پلیٹ فارمز، بشمول فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر کی جانے والی اپڈیٹس میں پرائیویسی خدشات اور ممکنہ خطرات کا مؤثر انداز میں جائزہ لینے کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی نیا نظام متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔

ٹیکنالوجی سے متعلق معروف ویب سائٹس کے مطابق، کمپنی کا منصوبہ ہے کہ اپنی پراڈکٹس کی جانچ کے عمل کو 90 فیصد تک خودکار (automated) بنا دیا جائے، تاکہ وقت کی بچت ہو اور زیادہ درست نتائج حاصل کیے جا سکیں۔

یاد رہے کہ 2012 میں فیس بک اور امریکی فیڈرل ٹریڈ کمیشن (FTC) کے درمیان ہونے والے ایک معاہدے کے تحت کمپنی کو ہر نئی اپڈیٹ سے قبل اس کے پرائیویسی اثرات کا تفصیلی جائزہ لینا لازمی قرار دیا گیا تھا۔

اب تک یہ عمل انسانی معاونت سے انجام دیا جاتا رہا ہے، تاہم میٹا اب اس عمل کو مزید تیز، جامع اور مؤثر بنانے کے لیے AI ٹیکنالوجی کا سہارا لے رہی ہے۔

نئے AI سسٹم کے تحت، پراڈکٹ ٹیموں کو ہر اپڈیٹ سے متعلق ایک سوالنامہ پُر کرنا ہوگا۔ اس معلومات کی بنیاد پر AI ممکنہ خطرات کی نشاندہی کرے گا اور یہ واضح کرے گا کہ اپڈیٹ کی منظوری کے لیے کون سے تقاضے پورے کرنا ضروری ہیں۔

یہ نظام معمولی نوعیت کی اپڈیٹس کے لیے فوری اور معیاری فیصلے فراہم کرے گا، جبکہ پیچیدہ یا غیر روایتی معاملات میں انسانی ماہرین کی رائے بھی شامل کی جائے گی، تاکہ کسی اہم پہلو کو نظر انداز نہ کیا جائے۔

میٹا کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے نہ صرف پراڈکٹ اپڈیٹس کا عمل تیز ہوگا بلکہ صارفین کو زیادہ محفوظ اور بہتر تجربہ بھی حاصل ہوگا۔ 

کمپنی نے دعویٰ کیا کہ وہ اب تک اپنے پرائیویسی پروگرام میں 8 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کر چکی ہے اور مستقبل میں بھی ریگولیٹری تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جدید اور محفوظ سروسز کی فراہمی جاری رکھے گی۔

تاہم، ماہرین کی ایک رائے یہ بھی سامنے آئی ہے کہ مصنوعی ذہانت پر ضرورت سے زیادہ انحصار بعض پیچیدہ یا حساس نوعیت کے مسائل کی بروقت شناخت میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔

 ایک سابق سینئر ایگزیکٹو نے خبردار کیا کہ اگرچہ یہ نظام تیزی سے فیصلے کرتا ہے، لیکن یہ امکان موجود ہے کہ کچھ باریک یا طویل مدتی خطرات نظرانداز ہو جائیں، جس کے نتائج مستقبل میں سامنے آ سکتے ہیں۔