عالمی منظر

فرانسیسی صدر کا مومی مجسمہ پیرس میوزیم سے چوری

ایمانویل میکرون کا مجسمہ روسی سفارتخانے کے باہر احتجاجاً نصب کر دیا گیا

Web Desk

فرانسیسی صدر کا مومی مجسمہ پیرس میوزیم سے چوری

ایمانویل میکرون کا مجسمہ روسی سفارتخانے کے باہر احتجاجاً نصب کر دیا گیا

(فائل فوٹو: سوشل میڈیا)
(فائل فوٹو: سوشل میڈیا)

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں واقع معروف 'گریوین ویکس میوزیم' سے فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون کا مومی مجسمہ چوری کر لیا گیا۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب چند افراد، جو خود کو ماحولیاتی تنظیم 'گرین پیس' کے کارکن بتا رہے تھے، میوزیم میں داخل ہوئے اور مجسمہ اپنے ساتھ لے گئے۔

رپورٹس کے مطابق دو خواتین اور ایک مرد نے پیرس میں واقع گریوین میوزیم میں داخل ہو کر صدر ایمانویل میکرون کے مجسمے کو اٹھایا اور ایمرجنسی ایگزٹ کے راستے سے خاموشی سے نکل گئے۔

گریوین میوزیم یورپ کے قدیم ترین ویکس میوزیمز میں سے ایک ہے، یہ مجسمہ سنہ 2018 میں اس میوزیم میں نصب کیا گیا تھا اور یہ فرانسیسی سیاست کی ایک اہم علامت اور میوزیم آنے والوں کی دلچسپی کا نمایاں مرکز سمجھا جاتا تھا۔

(فائل فوٹو: سوشل میڈیا)
(فائل فوٹو: سوشل میڈیا)

خبر رساں ایجنسی 'رائٹرز' کے مطابق 'گرین پیس' کے کارکنان نے بغیر اجازت کے میوزیم سے صدر میکرون کا مجسمہ نکالا اور اسے روسی سفارتخانے کے باہر احتجاجاً نصب کر دیا۔

یہ احتجاج یوکرین پر روس کے حملے کے باوجود فرانس کی روس کے ساتھ جاری تجارتی سرگرمیوں کے خلاف تھا۔

گرین پیس فرانس کے سربراہ ژاں فرانسوا ژولیارد نے کہا کہ 'ہم سمجھتے ہیں کہ فرانس ڈبل گیم کھیل رہا ہے، ایمانویل میکرون اس دوغلے رویے کی علامت ہیں، وہ یوکرین کی حمایت کرتے ہیں لیکن فرانسیسی کمپنیوں کو روس سے تجارت جاری رکھنے کی ترغیب بھی دیتے ہیں'۔

انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے صدر ایمانویل میکرون کو اس لیے نشانہ بنایا کیونکہ اس معاملے میں انکی ایک خصوصی ذمہ داری ہے، انہیں یورپی رہنماؤں میں سب سے پہلے روس کے ساتھ تجارتی معاہدے ختم کرنے چاہئیں۔

واضح رہے کہ فروری 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے فرانس نے یوکرین کی حمایت میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، تاہم 'گرین پیس' کے مطابق صرف زبانی حمایت کافی نہیں، عملی اقدامات بھی ضروری ہیں اور یہی ان کے احتجاج کا مقصد تھا۔

پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ گریوین میوزیم کی انتظامیہ نے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔