اسکینڈلز

اسلام بمقابلہ مغرب؟ علی ظفر نے حقائق بیان کردیے

ایک بھارتی صارف کی جانب سے اسلام کو دہشتگردی سے جوڑنے کی کوشش کی گئی

Web Desk

اسلام بمقابلہ مغرب؟ علی ظفر نے حقائق بیان کردیے

ایک بھارتی صارف کی جانب سے اسلام کو دہشتگردی سے جوڑنے کی کوشش کی گئی

اسکرین گریب
اسکرین گریب

عالمی شہرت یافتہ پاکستانی گلوکار و اداکار علی ظفر نے سوشل میڈیا پر اسلام مخالف تبصرے پر امریکی مصنف و سیاسی تجزیہ کار چارلی کرک کو مدلل اور باوقار جواب دے کر بھرپور انداز میں مؤقف واضح کر دیا۔

چارلی کرک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس‘ پر دعویٰ کیا تھا کہ ‘اسلام مغربی تہذیب سے مطابقت نہیں رکھتا‘۔ اس پر ردعمل دیتے ہوئے علی ظفر نے کہا کہ دنیا کی اصل لڑائی اسلام اور مغرب کے درمیان نہیں، بلکہ یہ حق اور باطل کے درمیان ہے۔

اسکرین گریب
اسکرین گریب

انہوں نے لکھا کہ جب یورپ جہالت کے دور سے گزر رہا تھا، اُس وقت اسلام دنیا کو ریاضی، طب، فلسفہ اور شاعری جیسے علوم سے روشناس کرا رہا تھا۔ آج بھی لاکھوں مسلمان مغرب میں بطور سائنسدان، ڈاکٹر، فنکار اور ذمہ دار شہری زندگی گزار رہے ہیں اور ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

علی ظفر نے جدید اسلامی معاشروں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ دبئی اور ابھرتے ہوئے سعودی عرب جیسے شہروں کی ترقی اس بات کا ثبوت ہے کہ پُرامن بقائے باہمی نہ صرف ممکن ہے بلکہ کامیابی سے جاری ہے۔

 انہوں نے کہا کہ پرانے بیانیے اب متروک ہو چکے، وقت آگے بڑھنے کا ہے۔

ایک بھارتی صارف کی جانب سے اسلام کو دہشتگردی سے جوڑنے کی کوشش پر بھی علی ظفر نے مدلل جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں ایسی دوگنی خبریں دکھا سکتا ہوں جن میں دہشتگردی کا تعلق دیگر مذاہب سے جوڑا گیا۔ درحقیقت، دہشتگردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، یہ ایک مخصوص ذہنیت ہے۔

اسکرین گریب
اسکرین گریب

انہوں نے مزید کہا کہ اسلام کو دہشتگردی سے جوڑنا ایک منفی برانڈنگ ہے، جو سوچی سمجھی مارکیٹنگ حکمتِ عملی کے تحت کی جاتی ہے، جیسے ایپل کا نام سنتے ہی جدت ذہن میں آتی ہے، اسی طرح اسلام کا نام سنتے ہی خوف پیدا کیا جا رہا ہے۔

علی ظفر نے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ پروپیگنڈا پر یقین نہ کریں، بلکہ اسلام کی اصل تاریخ پڑھیں تاکہ نہ صرف سچ جان سکیں بلکہ علمی طور پر بھی کامیاب ہوں۔