انفوٹینمنٹ

عدنان سمیع کو بھارت منتقل ہونے کا مشورہ کس نے دیا؟

گلوکار نے بھارت جانے کے فیصلے کے پیچھے اصل وجہ بھی بتادی۔

Web Desk

عدنان سمیع کو بھارت منتقل ہونے کا مشورہ کس نے دیا؟

گلوکار نے بھارت جانے کے فیصلے کے پیچھے اصل وجہ بھی بتادی۔

عدنان سمیع کو بھارت منتقل ہونے کا مشورہ کس نے دیا؟

پاکستان میں پیدا ہونے والے گلوکار اور میوزک کمپوزر عدنان سمیع خان نے 2016 میں بھارتی شہریت حاصل کرلی تھی اور اب وہ پیدائشی بھارتیوں سے زیادہ حب الوطنی کا مظاہرہ کرتے نظر آتے ہیں۔

پاکستان سے شہرت پانے والے گلوکار نے بھارت منتقل ہونے اور وہاں کی شہریت لینے کا فیصلہ کیوں کیا اس کے بارے میں قیاس کیا جاتا ہے کہ شاید انہوں نے یہ فیصلہ مالی فوائد کے لیے کیا۔

البتہ اب موسیقار نے انڈیا ٹی وی کے پروگرام آپ کی عدالت میں شرکت کے دوران اس فیصلے کی وجہ سے آگاہ کیا ہے۔

عدنان سمیع نے یاد کیا کہ وہ پاکستانی میوزک انڈسٹری کی طرف سے مایوس ہوچکے تھے، ان کا کہنا تھا کہ میں ایک بہت ہی مراعات یافتہ گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں، مجھ میں کبھی بھی پیسوں کا لالچ نہیں تھا کیونکہ میں ایک ایسے گھر میں پیدا ہوا جہاں میرے پاس ساری آسائشیں موجود لیکن ایک فنکار کو بڑی آڈیئنس کی خواہش ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھے پاکستان سے بہت پیار ملا لیکن میں زیادہ سامعین چاہتا تھا، 1998 میں میرے ریلیز ہونے والے گانوں کے بعد پاکستانی میوزک انڈسٹری کے لوگوں نے سوچا کہ میرے گانے مقبول نہیں ہوں گے اور میں ختم ہو گیا ہوں'۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'لہذا انہوں نے ان گانوں کی کوئی تشہیر نہیں کی، یہ البم کب ریلیز ہوا اور کب غائب ہو گیا، کسی کو پتا نہیں چلا، میں بہت اداس تھا، میں اس وقت کینیڈا میں تھا، میں جانتا تھا کہ انہوں نے یہ جان بوجھ کر کیا ہے'۔

انہوں نے سینیئر بھارتی گلوکارہ آشا بھوسلے کے ساتھ ہونے والی بات چیت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ 'میں نے ان سے کہا کہ میں پھر سے مایوس ہوگیا ہے اور لوگوں نے پاکستان میں میرے ساتھ کام نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس لیے میں آپ کے ساتھ لندن میں گانا ریکارڈ کرانا چاہتا ہوں'۔

عدنان کے مطابق آشا بھوسلے نے کہا کہ 'لندن میں کیوں؟ اگر آپ واقعی کچھ نیا کرنا چاہتے ہیں تو ممبئی آئیں کیونکہ یہ ہندی موسیقی کا دارالحکومت ہے اور جو کچھ یہاں مقبول ہوگا وہ پوری دنیا میں پھیل جائے گا، چنانچہ میں وہاں پہنچ گیا، آشا جی نے میرا بہت خیال رکھا اور مجھے آر ڈی برمن کے گھر ٹھہرایا'۔

عدنان سمیع کے مطابق 'یہ موسیقی کے مندر میں رہنے جیسا تھا، پاکستان میں جن گانے کو مسترد کیا گیا تھا یعنی 'تھوڑی سی تو لفٹ کرادے'، 'بھیگی بھیگی راتوں میں'، انہیں بھارت میں ریلیز کیا گیا اور پھر جو ہوا وہ تاریخ کا حصہ بن گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت میں انہیں جو محبت اور قبولیت ملی ہے انہیں اس سے پہلے کبھی اس کا تجربہ نہیں ہوا تھا۔

عدنان نے مزید بتایا کہ یہ صرف وہ ہی نہیں بلکہ غزل کے لیجنڈ نصرت فتح علی خان اور مہدی حسن جیسے مشہور فنکاروں کے ساتھ ساتھ لوک گلوکارہ ریشماں نے بھی پاکستان میں کامیابی حاصل کی لیکن بھارت میں ان کی شہرت میں کئی گنا اضافہ ہوا۔

انہوں نے اس کی وجہ بھارت کے وسیع سامعین اور موسیقی کے لیے گہرے احترام کو قرار دیا، جس کی ان کے خیال میں کہیں اور مثال نہیں ملتی۔

اپنے ہٹ البمز کے علاوہ، عدنان سمیع نے بالی وڈ کے کئی مشہور ٹریکس کو اپنی آواز دی ہے، جن میں فلم اجنبی میں 'تو صرف میرا محبوب'، فلم جانشین میں 'نشے میں یار'، فلم لکی؛ نو ٹائم فار لو، میں 'شادی یہ تو پیار ہے'، فلم سلامِ عشق میں 'دل کیا کرے کے علاوہ فلم لائف ان آ میٹرو میں 'باتیں کچھ ان کہی سی شامل ہیں۔