ثنا یوسف قتل؛ ماورا، ایمن ڈراموں کے کانٹینٹ پر برس پڑیں
ہمار ے ڈرامے بدسلوکی کو رومانوی انداز میں پیش کررہے ہیں۔
اسلام آباد میں ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے بے رحمانہ قتل پر اداکارہ ماورا حسین اور ایمن سلیم نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے خواتین کے ساتھ بدسلوکی کو رومانوی انداز میں پیش کرنے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔
یہ سفاکانہ قتل2 جون کی شام کیا گیا جس کا مقدمہ ثنا کی والدہ کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے، جن کے مطابق ثنا اپنی پھپھو کے ساتھ گھر میں موجود تھی جب ایک شخص آیا اور اسے سینے پر 2 گولیاں مار کر فرار ہوگیا۔
سوشل میڈیا پر شورمچنے کے بعد اسلام آباد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے گزشتہ رات گئے ملزم کو فیصل آباد سے گرفتار کر کے آلہ قتل بھی برآمد کرلیا۔
آئی جی اسلام آباد پولیس کی بتائی گئی تفصیلات کے مطابق ملزم عمر حیات خود بھی ٹک ٹاکر ہے جو ثنا سے دوستی کرنے کا خواہشمند تھا لیکن ثنا اس سے مسلسل انکار کررہی تھی جس پراس نے اسے قتل کردیا۔
ایک ہنستی مسکراتی نوجوان لڑکی جو زندگی سے بھرپور تھی، اس کے اس اندوہناک قتل پر ہر درد دل رکھنے والا انسان افسردہ ہے، جس میں شوبز کے معروف ستارے بھی شامل ہیں۔
ایسے میں ماورا حسین اور ایمن سلیم نے پاکستانی ڈراموں میں مردانہ اجارہ داری اور خواتین کے ساتھ جسمانی و جذباتی تشدد کے مناظر کو رومانوی تاثر کے ساتھ پیش کرنے پر تنقید کی ہے۔
فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں اداکارہ ماورا حسین گیلانی نے لکھا کہ 'ایک اور کہانی جسے ہم چند دنوں میں بھول جائیں گے جب ایک نئی کہانی سامنے آگئے گی، ہم بحیثیت ایک معاشرہ اور انسان ناکام ہوچکے ہیں، مجھے یہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا'۔
ان کا کہنا تھا کہ 'میں نے مظلوم کو ہی ذمہ دار ٹھہراتے سنا، میں نے عورت کو یہ بتاتے ہوئے سنا کہ وہ کس طرح اس سے بچ سکتی تھی، یہ ہم سب ہیں'۔
ان کا کہنا تھا کہ 'ہم سب نے اس چیز میں اپنا حصہ ڈالا ہے کہ مرد انکار نہ سن سکے، ہمارا کانٹینٹ اب بھی زبردستی کے رشتوں، زہریلی محبت اور مردوں کے اجارہ داری والے رویے کو رومانٹک بنا کر پیش کرتا ہے، یہ اسی کا اثر ہے'۔
اداکارہ نے لکھا کہ ایک 17 سال کی لڑکی صرف اس لیے قتل کردی گئی کیوں کہ ایک لڑکے کی سوچ یہ ہے کہ مسترد ہونے پر یہ کرنا ٹھیک ہے۔
ساتھ ہی انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکام اس مجرم کو ایک مثال بنادیں گے۔
دوسری جانب اداکارہ ایمن سلیم نے بھی اس پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ 'کل ہی میں نے کہا تھا کہ ہمارا ٹی وی ڈرامہ کس طرح بدسلوکی کو رومانوی انداز میں پیش کررہا ہے اور کنٹرول اور پدر شاہی ذہنیت کو دوبارہ لاگو کرنے کو چمکتا ہوا دکھا رہا ہے'۔
'اور آج ایک نوجوان لڑکی کو صرف نہ کرنے پر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا'۔
انہوں نے کہا کہ 'میں بالکل اسی کے بارے میں بات کررہی تھی، ایک ایسا کلچر جو محبت کے نام پر قابو پانے کو صحیح سمجھتا ہے، وہ لوگوں میں یہ سوچ پیدا کرتا ہے کہ سب کچھ اُن کا حق ہے،اور یہی سوچ آگے جا کر تشدد میں بدل جاتی ہے
خیال رہے کہ ایک روز قبل اپنی انسٹاگرام اسٹوری میں ایمن سلیم نے ایک ڈرامے میں خواتین پر تشدد کی منفی عکاسی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
سوشل میڈیا پر جاری کردہ اپنے بیان میں انہوں نے ایک ایسے سین پر تنقید کی جس میں ایک خاتون کو رسیوں سے باندھ کر دکھایا گیا اور اسے رومانوی یا بولڈ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔





