مودی کو 'ٹیمو ورژن' کہنے پر اسد عمر نے بلاول کی کلاس لے لی
نریندر مودی، نیتن یاہو کا ’ٹیمو ورژن‘ ہیں، بلاول بھٹو
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا 'ٹیمو ورژن' قرار دینے پر سابق رہنما پی ٹی آئی اسد عمر نے سابق وزیرخارجہ و چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کی کلاس لے لی۔
پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں سفارتی لابنگ کے لیے بلاول بھٹو کی سربراہی میں وزیراعظم شہباز شریف کا تشکیل کردہ 8 رکنی وفد پہلے مرحلے میں 6 روزہ دورے پر امریکہ میں موجود ہے۔
اسی سلسلے میں بلاول بھٹو نے گزشتہ روز منگل کی شب نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے 22 اپریل 2025 کے پہلگام واقعے کے بعد کی صورت حال پر پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بھارت نے پاکستان پر بغیر کسی ثبوت کے یک طرفہ حملے کیے جن میں عام شہریوں کی اموات ہوئیں، ملک میں موجود تنصیبات کو نقصان پہنچا اور دہائیوں سے قائم سندھ طاس معاہدے کو معطل کردیا گیا۔
کشمیر اور سندھ طاس معاہدے پر بھارتی وزیر اعظم کے مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ ’مودی گجرات کے قصائی سے کشمیر کا قصائی بن چکے ہیں اور اب وہ وادی سندھ کی تہذیب کے قصائی بننے کا ارادہ رکھتے ہیں‘۔
انہوں نے 2019 کے بعد بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں لائی گئی آبادیاتی تبدیلیوں کا موازنہ اسرائیلی آبادکاری پروگراموں سے کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت اسرائیل سے غلط اثر لے رہی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ نریندر مودی، نیتن یاہو کا ’ٹیمو ورژن‘ ہیں لیکن وہ نیتن یاہو کی 'بری نقل' ہیں اور ہم بھارتی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بدترین مثالوں سے متاثر نہ ہو۔
نریندر مودی سے متعلق بلاول بھٹو کا یہ تبصرہ سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہورہا ہے، جہاں انٹرنیٹ صارفین کی جانب سے بلاول کے اس بیان کو خوب سراہا گیا وہیں سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے 'ٹیمو ورژن' کی اصطلاح استعمال کرنے پر بلاول بھٹو کی کلاس لے لی۔
اسد عمر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر لکھا کہ 'بلاول بھٹو نے میڈیا ٹاک میں مودی پر تنقید اور ان کا نیتن یاہو سے موازنہ بجا طور پر کیا ہے لیکن بدقسمتی سے انہوں نے جو اصطلاح استعمال کی وہ چینی ایپ ’ٹیمو‘ کے لیے توہین آمیز تھی'۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ 'بلاول بھٹو کو معلوم ہونا چاہیے کہ ٹیمو مختلف مصنوعات کی بری کاپیاں فروخت کرنے والا پلیٹ فارم نہیں ہے، امریکہ میں بھی اس ایپ کا یوزر بیس سب سے تیزی سے بڑھ رہا ہے اور اس کا گلوبل یوزر بیس اب ایمیزون کے 10 فیصد تک پہنچ چکا ہے اور جلد اسے پیچھے چھوڑنے کے لیے تیار ہے'۔
اسد عمر نے مزید کہا کہ 'چینی مصنوعات کے ناقص ہونے کا یہ مغربی بیانیہ ماضی کا حصہ بن چکا ہے اور یہ بات پاکستانیوں کو بھارت کے ساتھ پہلگام تنازع کے دوران چینی ٹیکنالوجی کے غلبے کے بعد کسی اور سے بہتر معلوم ہونی چاہیے'۔
اُن کا اشارہ واضح طور پر پاک بھارت کشیدگی کے دوران پاکستان ایئر فورس کے زیراستعمال چینی لڑاکا طیاروں کی مدد سے رافیل سمیت بھارت کے 6 طیارے مار گرانے کی جانب تھا۔
اسد عمر کے اس مؤقف کی کئی سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے تائید کی گئی جبکہ بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس تنقید کو غیرضروری قرار دیا۔




