انفوٹینمنٹ

ثنا یوسف قتل کیس، عدالت کا ملزم کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ

ثنا یوسف قتل کیس، متعلقہ عدالت کے پراسیکیوٹرز غیرحاضر

Web Desk

ثنا یوسف قتل کیس، عدالت کا ملزم کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ

ثنا یوسف قتل کیس، متعلقہ عدالت کے پراسیکیوٹرز غیرحاضر

ثنا یوسف قتل کیس، عدالت کا ملزم کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ

پاکستانی ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے ملزم کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

17 سالہ ٹک ٹاکر ثنا یوسف کا بےدردی سے قتل کیا جانا سب کے رونگھٹے کھڑا کر گیا ہے اور سوشل میڈیا پر صارفین ثنا یوسف کے قاتل کو تختہ دار پر لٹکانے کی اپیل کرتے نظر آرہے ہیں۔

2 جون کی شام پیش آنے والے اس قتل کے واقعے نے سب کے رونگٹے کھڑے کردیے تھے اور اگلے ہی روز 3 جون کی دوپہر پولیس نے مبینہ قاتل کو فیصل آباد سے گرفتار کرلیا جس نے خود کو ثنا یوسف کا دوست بتایا لیکن آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی نے انکشاف کیا کہ عمر حیات مقتولہ سے دوستی کرنے کی خواہش رکھتا تھا لیکن مقتولہ بار بار انکار کر رہی تھیں۔

ثنا یوسف کے 22 سالہ مبینہ قاتل ملزم عمر حیات کے خلاف مقدمہ اسلام آباد کے تھانہ سنبل میں قتل کی دفعہ کے تحت درج کیا گیا جس کو آج ڈیوٹی جوڈیشل مجسٹریٹ احمد شہزاد گوندل کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

ملزم کو چہرے پر کالا کپڑا ڈالا گیا تھا جسے اتارے بغیر ہی اسے گاڑی سے اتار کر کمرہ عدالت میں پیش کر دیا۔ 

4 جون کو جوڈیشل مجسٹریٹ احمد شہزاد نے متعلقہ عدالت کے پراسیکیوٹر اور ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر کے غیرحاضر ہونے پر سماعت کے آغاز پر سوال کیا کہ 'میری عدالت کے پراسیکیوٹر کہاں ہیں؟ ویسے پراسیکیوٹر آتے نہیں، ہائی پروفائل کیس ہو تو سب پہنچ جاتے ہیں۔'

سماعت کے دوران جب عدالت کو بتایا گیا کہ متعلقہ پراسیکیوٹر اور ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر غیر حاضر ہیں، تو مجسٹریٹ نے ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر کو فوری طور پر کمرہ عدالت میں طلب کیا۔ 

ڈیوٹی پراسیکیوٹر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ پراسیکیوٹر چھٹیوں پر ہیں جس پر مجسٹریٹ نے کہا کہ 'ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر آئے گا تو کیس آگے چلے گا۔'

عدالت نے ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر کے آنے تک سماعت روک دی اور اس وقفے کے دوران مبینہ قاتل عمر حیات کو دوبارہ گاڑی میں بٹھا دیا گیا۔

وقفے کے بعد جب سماعت کا پھر سے آغاز ہوا تو ڈیوٹی مجسٹریٹ احمد شہزاد نے تفتیشی افسر کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے ملزم عمر حیات کی شناخت پریڈ کی درخواست منظور کر لی اور عدالت نے ملزم کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا۔