پیٹرک شوارزنیگر اپنا سر نیم کیوں بدلناچاہتے تھے؟
پیٹرک شوارزنیگر معروف ایکشن اسٹار آرنلڈ شوارزنیگر کے بیٹے ہیں۔
ہالی وڈ کے معروف ایکشن اسٹار آرنلڈ شوارزنیگر کے بیٹے پیٹرک شوارزنیگر نے اپنی خود کی شناخت بنانے کے لیے اپنا سر نیم تبدیل کرنے کا سوچا ہے۔
کئی برسوں تک صرف آرنلڈ شوارزنیگر کے بیٹے کے طور پر پہچانے جانے کے بعد 2025 وہ سال تھا جب اداکار پیٹرک شوارزنیگر نے بالآخر اپنا مقام حاصل کیا۔
مقبول سیریز ’دی وائٹ لوٹس‘ کے تیسرے سیزن کی کامیابی نے یہ ثابت کر دیا کہ شوارزنیگر صرف ایک مشہور نام ہی نہیں بلکہ اپنی صلاحیت کا حامل ایک منفرد فنکار بھی ہے۔
تاہم یہ شہرت اور شناخت کئی برسوں کی محنت کے بعد حاصل ہوئی، ایک وقت ایسا بھی آیا جب پیٹرک نے اپنے خاندانی نام کو اپنے کیریئر کی راہ میں رکاوٹ محسوس کرتے ہوئے اسے تبدیل کرنے کا سوچا۔
پیٹرک اور آرنلڈ شوارزنیگر نے ورائٹی کے ’ایکٹرز آن ایکٹرز‘ 2025 ایڈیشن میں ایک دوسرے کے ساتھ اپنے کیریئر اداکاری اور ذاتی تجربات پر گفتگو کی۔
جب آرنلڈ نے پیٹرک سے پوچھا کہ آیا انہیں کبھی اپنا مشہور خاندانی نامکسی رکاوٹ کے طور پر محسوس ہوا تو پیٹرک نے جواب دیا کہ میں نے یہ کئی پہلوؤں سے محسوس کیا، کسی نے کہا کہ اگر آپ کسی مشہور فنکار کے بیٹے ہو تو آپ کا سر نیم آپ پر پریشر لے کر آتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب آپ کے والدین اتنے کامیاب ہوں جیسے میرے والد اور والدہ تو لوگ کچھ نہ کچھ سوچتے ضرور ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ میرے کریئر کے آغاز میں کئی بار مجھے یہ خیال آیا کہ کیا مجھے کوئی فرضی نام اختیار کرنا چاہیے؟ مجھے اس مقام تک پہنچنے میں وقت لگا جہاں میں والد کے سائے سے نکل کر اپنے طریقے سے آگے بڑھنا چاہتا تھا۔
آرنلڈ شوارزنیگر کا ردِعمل
پیٹرک کے نام بدلنے کے خیال پر آرنلڈ شوارزنیگر نے مسکراتے ہوئے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ تم نے اپنا نام نہیں بدلا کیونکہ اب میں اس کا کریڈٹ لے سکتا ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ تم نے ایک ایسی مختصر فہرست میں جگہ بنائی ہے جہاں جیمی لی کرٹس جیسے لوگ شامل ہیں ، جو میری نظر میں تاریخ کی بہترین فنکاروں میں سے ایک ہیں۔
آرنلڈ نے مزید کہا کہ اگر تم اپنی صلاحیت کا ثبوت دو تو نیپوٹزم کی باتیں خود ہی ختم ہو جاتی ہیں۔
پیٹرک، آرنلڈ شوارزنیگر اور معروف صحافی ماریا شریور کے بیٹے ہیں، انہوں نے 2000 کی دہائی میں معمولی کرداروں سے اپنے اداکاری کے سفر کا آغاز کیا۔
کم عمری میں وہ Stuck in Love، Grown Ups 2، اور Scouts Guide to the Zombie Apocalypse جیسی فلموں میں معاون کرداروں میں نظر آئے۔
2018 کی فلم ’مڈنائٹ سن‘میں مرکزی کردار ان کا پہلا بڑا موقع تھا، اس کے بعد انہیں ’جین وی‘ میں نمایاں شہرت ملی اور بالآخر ’دی وائٹ لوٹس‘ نے انہیں بطور اداکار ایک نئی شناخت عطا کی۔




