عامر خان کا 'ستارے زمین پر' کے ریمیک ہونے کا ڈٹ کر دفاع
سوشل میڈیا صارفین نے عامر کے بیان پر طنز کے تیر چلادیے۔
اداکار عامر خان رواں ماہ 20 تاریخ کو اپنی نئی فلم ستارے زمین پر کے ساتھ بڑے پردے پر واپسی کرنے والے ہیں۔
اس فلم میں انہیں ایک باسکٹ بال کوچ کا کردار ادا کرتے ہوئے خصوصی ضرورتوں کے حامل کھلاڑیوں کی ٹیم کو تربیت دیتے ہوئے دیکھا جائے گا، مذکورہ فلم اصل میں ہسپانوی فلم کیمپیونز کا ریمیک ہے جو کہ ہالی وڈ فلم چیمپئنز سے متاثر تھی۔
تاہم فلم ستارے زمین پر کو 'کاپی' ہونے کی وجہ سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور شائقین نے فلم کی مناظر میں یکسانیت کا پہلو ڈھونڈ نکالا۔
تاہم عامر نے اپنے اس ریمیک کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیشہ پہلے سے موجود کہانی پر ایک نیا انداز ہوتا ہے۔
ستارے زمین پر تین سال میں عامر کی پہلی فلم ہے۔، ان کی آخری ریلیز ہونے والی فلم لال سنگھ چڈھا تھی اور وہ بھی ہالی وڈ فلم فاریسٹ گمپ کا اآفیشل ریمیک تھی۔
راج شامانی کے پوڈ کاسٹ پر تنقید پر بات کرتے ہوئے عامر نے کہا کہ لال سنگھ (چڈھا) کے بعد بہت سے لوگوں نے مجھے کہا کہ آپ دوبارہ ایک ریمیک بنا رہے ہیں، لال سنگھ کو ریمیک بننے پر بہت زیادہ ٹرول کیا گیا تھا لیکن میں ایک مختلف قسم کا انسان ہوں، پریکٹیکل چیزیں مجھے سمجھ میں نہیں آتیں'۔
اداکار نے کہا کہ مجھے ریمیک کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے، مجھے نہیں لگتا کہ اس سے میری تخلیقی صلاحیتیں کسی بھی طرح کم ہورہی ہیں کیوں کہ میں اپنے لیے تو نیا کام کررہا ہوں'۔
عامر نے فلم کے ریمیک کا مزید دفاع کیا اور ولیم شیکسپیئر کے ڈراموں کو پوری دنیا کے تھیٹر ڈراموں میں ایڈاپٹ کیے جانے کی مثال دی۔
انہوں نے کہا کہ 'لوگ آج تک شیکسپیئر کو ہی کرتے ہیں، آج بھی تھیٹر کا نمبر ون ڈرامہ نگار شیکسپیئر ہے، دنیا بھر میں۔ آج بھی اس کے ڈرامے ہر زبان میں ڈھالے جاتے ہیں اور ہم ان کی تعریف کرتے ہیں، کیوں بھائی؟ ریمیک ہے، اسے بند کرو۔
بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'آپ اپنا کھیل خود لکھو نا، شیکسپیئر کا کیوں کررہے ہوں آج تک، یہ غلط سوچ ہے، اگر میں شیکسپیئر کا ڈرامہ کررہا ہوں تو اس میں اپنی توانائی صرف کررہا ہوں اس لیے مجھے لگتا ہے کہ ریمیکس پر بے کار کی بحث ہوتی ہے'۔
'تو کیا فریم ٹو فریم کاپی کروگے'
تاہم عامر کی جانب سے اپنی ریمیک فلم کا دفاع سوشل میڈیا صارفین کو کچھ خاص نہیں بھایا اور انہوں نے طنز کے نشتر چلادیے۔
ایک صارف نے لکھا کہ 'تو کیا فریم ٹو فریم کاپی کروگے، وہ فلم میں بھارت کے مقامی کھیل جیسے کرکٹ یا ہاکی کو شامل کرسکتے تھے جو ناظرین کو بھی سمجھ آتے، کچھ بھی بولتے ہیں'۔
ایک اور نے کہا کہ 'یہ شخص 30 سال سے فلم انڈسٹری میں کام کررہا ہے اور اسے 'ایڈاپٹیشن' اور 'ریمیک' کا فرق نہیں پتا، ریمیک کا مطلب فریم ٹو فریم کاپی نہیں ہوتا، اس نے اداکار کا حلیہ تک کاپی کرلیا ہے۔
ایک اور صارف نے کہا کہ 'عامر اس طرح کیوں بات کررہے ہیں، انہیں ذہین شخص کی طرح بات کرنی چاہیے جیسے وہ کرتے تھے'۔




