12 ممالک کے شہریوں کو امریکا میں داخلے سے روک دیا گیا
صدر ٹرمپ نے 12 ممالک کے شہریوں پر مکمل اور 6 پر جزوی پابندیاں عائد کردیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نیا اور سخت گیر صدارتی حکمنامہ جاری کرتے ہوئے دسیوں ممالک پر سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں، جن کا نفاذ پیر 9 جون سے ہوگا۔
اس نئے اقدام کے تحت 12 ممالک کو مکمل طور پر امریکہ میں داخلے سے روک دیا گیا ہے، جب کہ دیگر 6 ممالک کو جزوی پابندیوں کا سامنا ہوگا۔
یہ اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب امریکی حکومت نے سیکیورٹی اور امیگریشن پالیسیوں کو مزید سخت بنانے کا عندیہ دیا تھا۔
صدر ٹرمپ کے مطابق یہ فیصلے امریکی عوام کے تحفظ، قومی سلامتی، اور ملکی مفاد کے تحت کیے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کسی ایسے شخص کو داخلے کی اجازت نہیں دے سکتا جو ملک کے لیے ممکنہ سیکیورٹی خطرہ ہو۔
مکمل پابندی کا سامنا کرنے والے 12 ممالک:
نئے حکمنامے کے مطابق درج ذیل 12ممالک کے شہریوں کو امریکی ویزا، امیگریشن یا کسی بھی سفری سہولت سے مکمل طور پر محروم کر دیا گیا ہے ، ان ممالک میں افغانستان،ایران،یمن،لیبیا،صومالیہ،سوڈان،کانگو،میانمار،اچاڈ،ایریٹریا،استوائی گنی،ہیٹی شامکل ہیں۔
یہ وہ ممالک ہیں جہاں امریکی حکومت کے مطابق یا تو دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی، ناکام حکمرانی یا امیگریشن کے ناقص ریکارڈز کی وجہ سے امریکہ کے لیے خطرات موجود ہیں۔
جزوی پابندی والے 6 ممالک:
صدر ٹرمپ نے مزید چھ ممالک کو جزوی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے، ان ممالک کے شہریوں کو امریکہ میں داخلے سے پہلے سخت جانچ پڑتال، اضافی دستاویزی ثبوت اور محدود ویزہ شرائط کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ان ممالک میں برونڈی،کیوبا،لاؤس،سیرالیون،ترکمانستان،وینزویلا شامل ہیں۔
پاکستان کو وقتی استثنیٰ
اہم بات یہ ہے کہ ابتدائی مرحلے میں پاکستان کو ان پابندیوں کی فہرست سے خارج رکھا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان حالیہ سفارتی سرگرمیوں اور تعاون کا مظہر ہے، جو پاکستان کے لیے ایک وقتی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
تاہم، امریکی محکمہ خارجہ اور ہوم لینڈ سیکیورٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ دنیا کے اُن ممالک کی فہرستیں تیار کریں جو امریکہ مخالف سرگرمیوں یا کمزور داخلی نظام کی بنیاد پر مستقبل میں پابندیوں کا سبب بن سکتے ہیں۔
اس تناظر میں ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان پر مستقبل میں نظر ثانی کا امکان بھی موجود ہے۔




