انفوٹینمنٹ

پروین اکبر کا موجودہ نسل کے اداکاروں کے رویے پر اظہارِ خیال

انہوں نے یک طرفہ محبت کو ناسمجھی اور جذباتی کمزوری قرار دیا

Web Desk

پروین اکبر کا موجودہ نسل کے اداکاروں کے رویے پر اظہارِ خیال

انہوں نے یک طرفہ محبت کو ناسمجھی اور جذباتی کمزوری قرار دیا

اسکرین گریب
اسکرین گریب

نامور سینئر اداکارہ پروین اکبر کا کہنا ہے کہ آج کل کی نوجوان لڑکیوں کو شادی جیسے اہم فیصلے والدین پر چھوڑ دینے چاہییں۔

انہوں نے ایک نجی پروگرام میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنی فنی زندگی کے سفر اور موجودہ دور کے شوبز ماحول پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

گفتگو کے دوران انہوں نے بتایا کہ ان کا فنی سفر ریڈیو پاکستان سے ایک بچوں کے اسکول پروگرام کے ذریعے شروع ہوا، جب وہ خود بھی اسکول کی طالبہ تھیں۔ ان کی والدہ بھی ریڈیو پاکستان میں بطور اناؤنسر خدمات انجام دے رہی تھیں، اور ان کے انتقال کے بعد پروین اکبر کو ان کی جگہ کام کا موقع ملا۔

پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے پروین اکبر نے کہا کہ آج کل کی نوجوان لڑکیوں کو شادی جیسے اہم فیصلے والدین پر چھوڑ دینے چاہییں، کیونکہ والدین ہمیشہ اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے سوچتے ہیں۔ تاہم اگر کوئی لڑکی کسی سے محبت کرتی ہے تو اسے یہ ضرور دیکھنا چاہیے کہ وہ شخص اس کی عزت کرتا ہے یا نہیں۔

انہوں نے یک طرفہ محبت کو ناسمجھی اور جذباتی کمزوری قرار دیا اور کہا کہ ایسی محبت کا انجام اکثر مایوس کن ہوتا ہے۔

اداکارہ نے مزید بتایا کہ شادی اور بچوں کی پرورش کے بعد انہوں نے شوبز سے تقریباً 18 سال کا وقفہ لیا تاکہ وہ اپنی اولاد کی بہتر تربیت اور مستقبل پر توجہ دے سکیں۔ ان کے بقول، انہیں اس فیصلے پر کبھی پچھتاوا نہیں ہوا، کیونکہ اولاد انسان کی سب سے بڑی ترجیح ہونی چاہیے۔

انہوں نے شوبز میں واپسی کے بعد کے تجربات بھی شیئر کیے۔ پروین اکبر کا کہنا تھا کہ جب وہ دوبارہ فنی دنیا میں آئیں تو نجی ٹی وی چینلز کا دور آ چکا تھا اور شوبز کے ماحول میں نمایاں تبدیلی آ چکی تھی۔

 ماضی میں پی ٹی وی کے سیٹ پر ایک وقت میں تین کیمرے استعمال ہوتے تھے، جبکہ اب اکثر ایک ہی کیمرے سے کام لیا جاتا ہے اور ہر کردار کے مناظر الگ الگ شوٹ کیے جاتے ہیں۔

اداکارہ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نہ صرف فنی طریقہ کار بدلا ہے بلکہ نوجوان فنکاروں کے رویے اور اندازِ فکر میں بھی فرق آ چکا ہے۔

 ان کے مطابق ماضی میں نوجوان فنکار اپنے سینئرز کے احترام میں کھڑے ہو جایا کرتے تھے، جبکہ آج کل کے فنکار سینئرز کی موجودگی کو اہمیت دینے کے بجائے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں۔

پروین اکبر نے کہا کہ آج کے اداکار تنقید یا رہنمائی کو برداشت نہیں کرتے، اور اگر کوئی سینئر فنکار ان کی اصلاح کرے تو یہ جواب دیتے ہیں کہ "اب آپ ہمیں سکھائیں گے؟"

ان کے مطابق فن کے سفر میں عاجزی، سیکھنے کا جذبہ اور سینئرز کا احترام کلیدی عناصر ہیں، جنہیں اپنانا ہر فنکار کے لیے ضروری ہے۔