عالمی منظر

مراکش میں عیدالاضحیٰ پر قربانی کی رسم ادا نہیں کی جائے گی

یہ فیصلہ ملک کی معاشی بدحالی اور قحط کی صورتحال کے پیش نظر کیا گیا

Web Desk

مراکش میں عیدالاضحیٰ پر قربانی کی رسم ادا نہیں کی جائے گی

یہ فیصلہ ملک کی معاشی بدحالی اور قحط کی صورتحال کے پیش نظر کیا گیا

فائل فوٹو:گوگل
فائل فوٹو:گوگل

مراکش کے عوام اس سال عیدالاضحیٰ کی رسومات جانوروں کی قربانی کیے بغیر منائیں گے۔

مراکش میں یہ فیصلہ موجودہ شدید معاشی بحران اور زرعی بدحالی کے تناظر میں بادشاہ کی ہدایت پر کیا گیا ہے۔

عیدالاضحی مسلمانوں کے لیے سب سے مقدس ایام میں سے ایک ہے، جسے دنیا بھر میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اپنے بیٹے حضرت اسماعیل کی قربانی کے جذبے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔

اس موقع پر عام طور پر جانور ذبح کیے جاتے ہیں اور گوشت عزیزوں، غربا و مساکین میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ تاہم اس سال 7 جون کو منائی جانے والی عیدالاضحی مراکش میں ایک بالکل مختلف منظر پیش کرے گی۔

خشک سالی اور قیمتوں میں ہوشربا اضافہ

مراکش سات برسوں سے خشک سالی کا شکار ہے، جس کے باعث بھیڑوں کی تعداد میں 38 فیصد کمی آئی ہے، اس قلت نے جانوروں کی قیمتیں آسمان پر پہنچا دی ہیں۔ گزشتہ سال ایک بھیڑ کی قیمت 600 ڈالر یعنی فی کلو 7 سے 7.5 ڈالر تک جا پہنچی تھی۔

دوسری طرف مراکش میں کم از کم تنخواہ 3,100 درہم (تقریباً 335 ڈالر) ہے جو جانور خریدنے کی استطاعت کم کردیتی ہے۔

بادشاہ محمد ششم کی اپیل

ان حالات میں، فروری میں مراکش کے بادشاہ محمد ششم نے وزیرِ برائے اسلامی امور کے ذریعے ایک خط پڑھ کر سنایا، جس میں عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ اس سال عیدالاضحیٰ پر قربانی سے اجتناب کریں۔

بادشاہ نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ خود عوام کی طرف سے قربانی ادا کریں گے۔

خط میں لکھا گیا تھا کہ ایسے کٹھن حالات میں قربانی ادا کرنا ہمارے عوام، بالخصوص کم آمدنی والے طبقات کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

یہ غیر معمولی اعلان ماضی میں صرف بادشاہ حسن دوم کے دور میں ہوا تھا، جنہوں نے تین مواقع پر قربانی منسوخ کی تھی ۔