والدین کو بچوں کی ہر ضد پوری نہیں کرنی چاہیے، سلمیٰ حسن
بچوں کی نشوونما میں صبر، تسلسل اور سمجھداری کلیدی عوامل ہیں
متعدد ڈراموں میں مثالی ماں اور باوقار خاتون کا کردار ادا کرنے والی معروف اداکارہ سلمیٰ حسن کا کہنا ہے کہ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کی غیر ضروری ضدیں پوری کرنے کے بجائے انہیں صبر، برداشت اور حقیقت پسندی کا سبق دیں۔
حال ہی میں ایک مارننگ شو میں گفتگو کرتے ہوئے سلمیٰ حسن نے بچوں کی تربیت سے متعلق اپنے ذاتی تجربات ناظرین سے شیئر کیے۔
انہوں نے بتایا کہ ان کی بیٹی فاطمہ جب تین برس کی تھی، تو ایک مرتبہ شاپنگ کے دوران ایک مہنگے بیگ کی ضد کرنے لگی۔ جب انہوں نے بیٹی کی فرمائش پوری کرنے سے انکار کیا تو فاطمہ نے غصے میں آ کر شاپنگ مال کی زمین پر بیٹھ کر پندرہ منٹ تک زور زور سے رونا شروع کر دیا۔
سلمیٰ حسن کے مطابق، اس موقع پر انہوں نے نہ تو فاطمہ کو ڈانٹا اور نہ ہی اُسے منانے کی کوشش کی، بلکہ خاموشی سے آگے بڑھ گئیں۔ کچھ دیر بعد فاطمہ نے رونا بند کیا اور آ کر ان کے قدموں سے لپٹ گئی۔ اداکارہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس کے باوجود ضد پوری نہ کی۔
انہوں نے کہا کہ اسی دن سے بیٹی کو یہ شعور آ گیا کہ اگر ماں کسی چیز سے منع کر رہی ہیں تو وہ صرف ضد یا سختی کی وجہ سے نہیں، بلکہ ضرور اس کے پیچھے کوئی معقول وجہ ہوگی۔ اب جب بھی فاطمہ کوئی خواہش ظاہر کرتی ہے، تو وہ پہلے میرے تاثرات سے اندازہ لگاتی ہے کہ ماں کا ردِعمل کیا ہوگا۔
سلمیٰ حسن نے اس واقعے کی روشنی میں والدین کو یہ مشورہ دیا کہ بچوں کی ہر بات مان لینا تربیت کا درست طریقہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی نشوونما میں صبر، تسلسل اور سمجھداری کلیدی عوامل ہیں۔ والدین کو نرمی ضرور اختیار کرنی چاہیے، مگر اصولوں پر قائم رہنا بھی ضروری ہے۔
اداکارہ کا کہنا تھا کہ بچوں کے احساسات کو تسلیم کیا جائے، ان سے بات کی جائے، لیکن ہر خواہش کو پورا کرنا ان کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اس طرح وہ نہ صرف صبر سیکھتے ہیں بلکہ ان کی شخصیت میں توازن بھی پیدا ہوتا ہے۔
سلمیٰ حسن نے گفتگو کے اختتام پر یہ بھی کہا کہ سختی اور نرمی میں توازن ضروری ہے۔ بچوں پر بے جا روک ٹوک نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ مسلسل سختی انہیں خوفزدہ کر دیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ صرف ان چیزوں سے بیٹی کو روکتی ہیں جو اس کے لیے نقصان دہ یا غیر ضروری ہوں، باقی معاملات میں اسے خود سیکھنے اور فیصلہ کرنے کی آزادی دیتی ہیں۔



