اسکینڈلز

زہریلی مردانگی کا فروغ، صنم سعید کی رائٹرز کو ویک اپ کال

اداکارہ کی ڈراما بنانے والوں کو وارننگ

Web Desk

زہریلی مردانگی کا فروغ، صنم سعید کی رائٹرز کو ویک اپ کال

اداکارہ کی ڈراما بنانے والوں کو وارننگ

اداکارہ کی ڈراما بنانے والوں کو وارننگ
اداکارہ کی ڈراما بنانے والوں کو وارننگ

حال ہی میں ٹک ٹاکر ثناء یوسف کے بے دردی سے قتل کے بعد ڈراموں میں زہریلی مردانگی کو فروغ دیے جانے کے خلاف جہاں اب ہر جانب سے آواز بلند ہورہی ہے وہیں اداکارہ صنم سعید نے بھی ڈراما رائٹرز اور پروڈیوسرز کو ویک اپ کال دے دی۔

2 جون کو سوشل میڈیا پر چترال سے تعلق رکھنے والی ٹک ٹاکر ثناء یوسف کے سفاکانہ قتل کے بعد واویلا مچا ہوا ہے، کیونکہ اس معصوم کا صرف اتنا قصور تھا کہ اس نے ایک 22 سالہ لڑکے کی دوستی کی آفر مسترد کردی تھی جو کہ اسے کئی عرصے سے فالو کررہا تھا۔

دوستی اور تعلقات میں انکار سننے کے بعد لڑکے کا غصہ ساتھویں آسمان کو پہنچ گیا جسکے بعد اس نے ثناء کے گھر میں گھس پر اس پر فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا۔

حالانکہ اب ثناء کے قاتل کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور اس نے اپنا جرم بھی قبول کرلیا لیکن سوشل میڈیا پر اس قتل کے منصوبے کو آج کل نشر ہونے والے ڈراموں کی کہانیوں سے جوڑا جارہا ہے جس میں لڑکی کی محبت میں لڑکا اسے اغوا کرلیتا ہے تو کبھی رومانوی تشدد کا نشانہ بناتا ہے۔

اور پھر دکھایا جاتا ہے کہ آخر میں اس لڑکی کو اسی لڑکے سے محبت ہوجاتی ہے جسے سب ولن سمجھتے ہیں۔

اس طرح کا تاثر دینے اور ڈراموں کی کہانیوں سے نئی نسل کے ذہنوں کو خراب کرنے کا ذمہ دار ثناء کی موت کے بعد ڈراما سازوں کو بنایا جارہا ہے جسکے خلاف اداکارہ صنم سعید نے بھی اپنی رائے دے دی۔

فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر اداکارہ نے اسٹوری اپڈیٹ کی جس میں انہوں نے ڈراموں میں زہریلی مردانگی کو بڑھاوا دینے پر ڈراما نگاروں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

اسکرین گریب
اسکرین گریب

اداکارہ نے ہیش ٹیگ بس بہت ہوگیا استعمال کرتے ہوئے لکھا کہ،’یہ ایک بہت بڑی ویک اپ کال ہے لکھاریوں، پروڈیوسرز اور اداکاروں کے لیے کہ وہ ایسی کسی بھی کہانی کی مکمل ذمہ داری لیں جو زہریلے مردانہ رویے، غیر صحت مند رشتوں، اور ایسے مردوں کو بڑھاوا دیتی ہیں کہ جو اگر لڑکی ان سے بات نہ کرے تو لڑکے اسے قتل کی دھمکیاں دیتے ہیں۔’

صنم سعید نے مزید لکھا کہ ’اب وقت ہے کہ مواد کو سماجی ذمہ داری کا احساس ہو اور اپنا اثر درست بیانیے کو فروغ دینے کے لیے استعمال کرے۔’

دوسری جانب اداکارہ کے اس نقطہ نظر کو سوشل میڈیا صارفین بے حد پسند کرتے نظر آرہے ہیں اور اس اہم موضوع پر آواز بلند کرنے پر انکی تعریفیں کررہے ہیں۔