علینہ عباس شاہ کی دانش تیمور پر کڑی تنقید
آپ کو واقعی لگتا ہے کہ ’نہ’ کا مطلب ’ہاں’ ہوتا ہے؟
پاکستانی اداکارہ علینہ عباس شاہ نے زہریلی مردانگی کو گلیمرائز کرنے اور ہمیشہ جنونی کردار ادا کرنے پر دانش تیمور پر تنقید کے نشتر برسادیے۔
ڈراما سیریل ’نور جہاں’ ، ’کچھ ان کہی’ اور’ 22 قدم’ میں اداکاری کے جوہر دکھانے والی اداکارہ علینہ شاہ عباس نے فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر اسٹوری اپڈیٹ کی جس میں انہوں نے ڈھکے چھپے انداز میںدانش تیمور کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کرالی۔
دانش تیمور جو اپنی ورسٹائل شخصیت، اور مردانہ وجاہت کے سبب لاکھوں دلوں میں بستے ہیں وہیں انہیں کچھ عرصے سے جنونی عاشق کے کردار میں دیکھا جارہا ہے۔
اب چاہے وہ ڈراما سیریل ’عشق ہے’ ہو یا پھر ’دیوانگی’، ’کیسی تیری خود غرضی’ ہویا پھر جاری متنازع ڈراما سیریل ‘من مست ملنگ‘ان ڈراموں کی کہانیوں پر غور کیا جائے تو ایک ہی سبق ملتا ہے کہ ایک مرد کسی لڑکی سے جنون کی حد تک محبت کرتا ہے اور پھر اس محبت کا جواب بھی محبت مانگتا ہے اور انکار سننا بالکل پسند نہیں کرتا۔
ان کرداروں کو مدنظر رکھتے ہوئے علینہ عباس شاہ نے فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر اسٹوری اپڈیٹ کی اور اداکار دانش تیمور کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے لکھا کہ،‘انہیں اپنے کیریئر پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔’
ایک صارف کو جواب دیتے ہوئے اداکارہ نے صاف اور واضح الفاظ میں لکھا کہ،جب ایک لڑکی کی طرف سے ایسا ردعمل آتا ہے تو اس مرد کو واقعی اپنی پوری کریئر پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے! کیونکہ جب آپ بار بار "محبت" کے نام پر تشدد کو خوبصورت انداز میں پیش کرتے ہیں، تو آپ دراصل ان ذہنی مریضوں کو حوصلہ دے رہے ہوتے ہیں کہ وہ یہی فارمولا ان خواتین پر آزمائیں جو صرف اپنی شرائط پر زندگی گزارنا چاہتی ہیں!’۔
اداکارہ نے مزید لکھا کہ،’آپ عورتوں کو کمتر دکھا رہے ہیں، انہیں صرف ایک ’چاہت کی چیز’ بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ وہی پرانا زہریلا نظریہ ۔اگر میں تمہیں نہیں پا سکتا تو کوئی اور بھی نہیں پائے گا!’ آپ اسے رومانوی کہانیوں کی شکل میں لوگوں کے ذہنوں میں بٹھا رہے ہیں۔’
اہم مسئلے پر آواز بلند کرتے ہوئے اداکارہ کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ،‘آپ ان روشن، باہمت آوازوں کو خاموش کر رہے ہیں، اور اسے رومانس کہہ رہے ہیں؟ یا شاید آپ کو واقعی لگتا ہے کہ ’نہ’ کا مطلب ’ہاں’ ہوتا ہے؟ یا ’نا’ میں بھی ہاں ہے’ جیسے مکالمے سن کر تو روح کانپ اٹھتی ہے۔
جب آپ ایسی ’محبت کی کہانیاں’ دکھاتے ہیں اور انہیں صرف اس لیے جائز قرار دیتے ہیں کہ آپ کا روزگار چلتا رہے، تو یہ صرف افسوسناک نہیں بلکہ شدید تشویشناک بات ہے۔’
اداکارہ نے نوٹ کا اختتام کرتے ہوئے عام عوام کو یہ بھی واضح کیا کہ،‘اگر آپ ایسے لوگوں کو ’ہیرو’ مانتے ہیں اور انہیں سراہتے ہیں،تو پھر معذرت کے ساتھ آپ بھی اسی بگڑے ہوئے معاشرے کا حصہ ہیں جسے بدلنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔’
واضح رہے کہ علینہ عباس شاہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل چترال سے تعلق رکھنے والی 17 سالہ ٹک ٹاکر ثناء یوسف کو 22 سالہ لڑکے نے گھر میں گھس کر محض اس لیے قتل کردیا کیونکہ اس نے لڑکے کی دوستی کی آفر کو مسترد کردیا تھا۔
دوسری جانب علینہ عباس شاہ کے اس بیان کے بعد انٹرنیٹ صارفین بھی ان کے حق میں کھڑے ہوگئے، ایک صارف نے لکھا کہ،’دانش گزشتہ 10 سال سے ایسے ہی کردار ادا کر رہا ہے اور بہت سے ذہنی بیمار لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ یہی اصل محبت ہے۔’
ایک اور صارف نے لکھا کہ،‘قصور صرف دانش کا نہیں، بلکہ مصنف اور ہدایتکار بھی اتنے ہی ذمہ دار ہیں۔’




