عالمی منظر

ڈونلڈ ٹرمپ اور ایلون مسک کا بریک اپ ہوگیا

دنیا کے طاقتور ترین شخص اور امیر ترین شخض کے درمیان لفظی گولہ باری جاری ہے

Web Desk

ڈونلڈ ٹرمپ اور ایلون مسک کا بریک اپ ہوگیا

دنیا کے طاقتور ترین شخص اور امیر ترین شخض کے درمیان لفظی گولہ باری جاری ہے

ڈونلڈ ٹرمپ اور ایلون مسک کا بریک اپ ہوگیا

دنیا کے سب سے طاقتور اور امیر افراد، سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ٹیسلا و اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک کے درمیان لفظوں کی گولہ باری چھڑ گئی ہے۔

کہانی کا آغاز اس وقت ہوا جب ایلون مسک نے الزام لگایا کہ ٹرمپ کا نام بدنام زمانہ جیفری ایپسٹین کی فائلوں میں موجود ہے مگر اسےچھپایا جا رہا ہے۔

ساتھ ہی انہوں نے ٹرمپ کا مواخذہ کر کے جے ڈی وینس کو صدر بنانے کی تجویز بھی دے ڈالی۔

جواباً ٹرمپ بھی پیچھے نہ رہے، انہوں نے کہا کہ خود ایلون مسک کو حکومت چھوڑنے کا کہا تھا اور اب یہ ارب پتی پاگل ہو چکا ہے۔

ساتھ ہی انہوں نے اسپیس ایکس اور ٹیسلا سے سرکاری معاہدے ختم کرنے کی دھمکی بھی دے ڈالی۔

ایلون مسک نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کرسکتے ہو تو کرلو بلکہ انہوں نے یہاں تک کہا کہ وہ ناسا کے ڈریگن مشن کو معطل کر سکتے ہیں، جو خلانوردوں کو خلائی اسٹیشن لے کر جاتا ہے۔

مسک نے مزید چبھتا جملہ کسا اگر میں مدد نہ کرتا تو ٹرمپ 2024 کا الیکشن ہار جاتے۔

انہوں نے ری پبلکنز کو 290 ملین ڈالر عطیہ کیے تھے اور انتخابی ریلیوں میں بھی ساتھ دیا مگر اب کہتے ہیں کہ ٹرمپ نے ناشکری کی انتہا کر دی ہے۔

کہانی میں ایک موڑ تب آیا جب ٹرمپ نے ناسا کے سربراہ کے لیے مسک کی تجویز کردہ نامزدگی مسترد کر دی کیونکہ وہ ڈیموکریٹ تھا۔

پھر ایک متنازع قانون پر اختلاف نے تعلقات میں آخری کیل ٹھونک دی,مسک کا کہنا ہے قانون مختصر اور اچھا ہونا چاہیے،لمبا قانون یا تو بدنما ہوتا ہے یا بیکار۔

وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں قانون کا مسودہ کبھی دکھایا ہی نہیں گیا اور یہ رات کی تاریکی میں چپکے سے منظور ہوا۔

آخر میں ٹرمپ نے کہا کہ جب لوگ وائٹ ہاؤس چھوڑتے ہیں تو اگلی صبح گلیمر ختم ہو جاتا ہے اور وہ غصے میں پاگل ہو جاتے ہیں۔

ادھر ٹرمپ کے حامیوں نے تو حد ہی کر دی ،کہتے ہیں ایلون مسک کو واپس جنوبی افریقا بھیج دو۔

دو طاقتوروں کی یہ جنگ صرف الفاظ تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے معیشت، سیاست اور خلائی پروگرام تک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے،اب دیکھنا یہ ہے کہ اگلا حملہ زمین پر ہوگا یا خلا میں۔