انفوٹینمنٹ

پوتا پوتی ’انور‘ کہہ کر بلاتے ہیں، انور مقصود

جب وہ مجھے میرے نام سے پکارتے ہیں تو عجیب نہیں لگتا بلکہ خوشی ہوتی ہے، انور مقصود

Web Desk

پوتا پوتی ’انور‘ کہہ کر بلاتے ہیں، انور مقصود

جب وہ مجھے میرے نام سے پکارتے ہیں تو عجیب نہیں لگتا بلکہ خوشی ہوتی ہے، انور مقصود

(فائل فوٹو: سوشل میڈیا)
(فائل فوٹو: سوشل میڈیا)

پاکستان کے ادبی اور مزاحیہ افق کے درخشندہ ستارے انور مقصود نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں شرکت کی جہاں ان کی گفتگو سننے والے نہ صرف مسکرائے بلکہ سوچنے پر بھی مجبور ہوئے۔

گوہر رشید کے ساتھ ایک بےتکلف نشست میں انور صاحب نے زندگی، رشتوں، تنقید، تعریف اور معاشرے پر اپنے مخصوص انداز میں روشنی ڈالی۔

انور مقصود نے بتایا کہ ان کا اپنے پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں سے رشتہ محض بزرگوں والا نہیں بلکہ دوستی پر مبنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب وہ مجھے میرے نام سے پکاریں تو مجھے عجیب نہیں لگتا بلکہ خوشی ہوتی ہے، جب میں کہتا ہوں 'مجھے انور کیوں کہتے ہو؟' تو وہ بڑی معصومیت سے جواب دیتے ہیں 'آپ ہمیں ہمارے نام سے کیوں پکارتے ہیں؟

انور صاحب کے مطابق دوستی سب رشتوں کی بنیاد ہے، اور بچوں سے محبت کا سب سے خوبصورت طریقہ یہی ہے کہ ان کے ساتھ دوست بن کر رہا جائے، نہ کہ محض بزرگ بن کر۔

انہوں نے معاشرتی رویوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اکثر اوقات جو لوگ دوسروں پر تنقید کرتے ہیں، وہ خود درحقیقت اپنی کمزوری چھپا رہے ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو خود کچھ کرنے کی ہمت نہیں رکھتے، اس لیے دوسروں کو کرتا ہوا دیکھ کر ان کے دل جلتے ہیں۔

انور صاحب نے کہا کہ اگر کوئی فنکار کسی متعلقہ شعبے کا ماہر ہو اور تنقید کرے، تو وہ قابلِ غور ہو سکتی ہے لیکن اگر کوئی ایسا شخص تنقید کرے جسے اس شعبے کی الف ب بھی معلوم نہ ہو، تو سمجھ لیں کہ وہ اصل میں حسد کا شکار ہے۔

پاکستانی مردوں کی فرصتوں پر بات کرتے ہوئے انور مقصود نے ایک نہایت دلچسپ نکتہ اٹھایا کہ پاکستان میں اگر دیواروں پر نظریں ڈالیں، تو صرف مردانہ طاقت کے اشتہار نظر آتے ہیں، کسی دیوار پر یہ نہیں لکھا ہوتا کہ 'خواتین کی طاقت بڑھائیں'۔

یہ معاشرتی تضاد انور صاحب کے بقول، ہمارے معاشرے میں مردوں کی عدمِ تحفظ کو ظاہر کرتا ہے۔