عامر نے ایکشن فلموں کی آفرز کے باوجود 'ستارے زمین پر' کیوں کی؟
اداکار نے بتایا کہ لال سنگھ چڈھا کی ناکامی کےبعد ہر کوئی انہیں ایکشن فلم کرنے کا کہ رہا تھا۔
بالی وڈ اداکار عامر خان نے اعتراف کیا کہ اگر کوئی کہانی انہیں زبردست طریقے سے متاثر کرتی ہے تو وہ اسے کر گزرنے کی ٹھان لیتے ہیں۔
گزشتہ پانچ برسوں میں عامر خان دو بار اداکاری چھوڑ چکے ہیں۔ سب سے پہلے عالمی وبا کووڈ 19 کے دوران اپنے خاندان کے ساتھ کافی وقت نہ گزارنے کے احساس میں دوسرا ’لال سنگھ چڈھا’ کی ناکامی کے بعد۔
ایسا ہی آر ایس پرسنا کی ہدایت کاری میں آنے والی فلم 'ستارے زمین پر' کے ساتھ ہوا، جو کہ 2018 کی ہسپانوی فلم ’چیمپئنز‘ کا ہندی ورژن ہے۔
دورانِ انٹرویو اداکار عامر خان نے انکشاف کیا کہ ان کی آخری فلم ’لال سنگھ چڈھا‘ کے ہٹ نہ ہونے کے بعد لوگوں نے انہیں ایکشن فلم کرنے کو کہا۔
عامر نے کہا کہ لال سنگھ چڈھا کی ناکامی کے بعد وہ 'اداس، دل شکستہ اور جذباتی طور پر متاثر' تھے، وہ ایک ایکشن فلم کر سکتے تھے کیونکہ ان کے پاس بہت سی آفرز تھیں لیکن ان کی آنے والی فلم ’ستارے زمین پر‘ کی کہانی نے واقعی ان کے دل کو چھو لیا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ’لال سنگھ چڈھا‘ کی ناکامی پر سمجھوتہ کر چکے ہیں، تو انہوں نے کہا کہ ان کے لیے یہ قبول کرنا مشکل تھا۔
عامر کا کہنا تھا کہ 'سچ پوچھیں تو لال سنگھ چڈھا کے بعد میں کافی افسردہ، دل ٹوٹا ہوا اور جذباتی طور پر متاثر تھا کیونکہ بہت عرصے سے میری کوئی فلم ناکام نہیں ہوئی تھی اس لیے یہ میرے لیے کافی صدمہ دینے والا تھا کیونکہ مجھے بھی یہ فلم پسند آئی تھی، تو میں بہت حیران ہوا کہ لوگوں نے اسے پسند نہیں کیا۔‘
عامر نے مزید کہا کہ 'میں جانتا ہوں کہ بہت سے لوگوں نے فلم کو پسند کیا، 25 فیصد ناظرین نے فلم کو بہت محبت دی لیکن میں اس کا اعتراف کرتا ہوں کہ 75 فیصد کی بڑی تعداد نے فلم پسند نہیں کی، انہیں میرا کام پسند نہیں آیا، انہیں اس سے مسائل تھے'۔
ان کا کہنا تھا کہ 'میں یہ سمجھتا ہوں اور اس کا احترام کرتا ہوں لیکن اسے قبول کرنا میرے لیے انتہائی مشکل تھا'۔
اپنی اگلی فلم ستارے زمین پر کے بارے میں بات کرتے ہوئے عامر نے کہا کہ 'میرے آس پاس موجود ہر شخص نے لال سنگھ چڈھا کے بعد ایک ایکشن فلم کرنے کو کہا، میں یہ کر سکتا تھا، میرے پاس بہت سی آفرز تھیں۔ لیکن ستارے زمین پر کی کہانی نے واقعی میرے دل کو چھو لیا، میں اس قسم کا تخلیقی انسان ہوں کہ ایک بار جب میرے خون میں کوئی چیز چلی جاتی ہے تو مجھے یہ کرنا پڑتا ہے'۔
اداکار کے مطابق یہ فلم میرے لیے اس اسکرپٹ اس کی توسیع تھی جو ہم تارے میں کہنے کی کوشش کر رہے تھے۔ تو تارے ملنے جلنے اور سیکھنے کی بیماری کے حامل بچے کے بارے میں ہے لیکن ستارے زمین پر میں، چیلنجز ڈیلیکسیا سے کہیں زیادہ ہیں. بچے ذہنی طور پر غیر معمولی ہیں، کسی کو ڈاؤن سنڈروم ہے، کسی کو آٹزم ہے، اور دوسرے بھی اس سپیکٹرم میں ہیں۔ صرف یہی نہیں، تارے میں، استاد بچے کی مدد کرتا ہے، نیورواٹیپیکل شخص نیورو ٹائپیکل شخص کی مدد کرتا ہے۔ اس میں 10 نیورو-ایٹیپیکل بچے کوچ کی مدد کرتے ہیں۔ تو یہ اسی تھیم میں 10 قدم آگے بڑھ جاتا ہے'۔
فلم میں کام کے حوالے سے عامر کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہمیں بہت کچھ سکھایا، فلم کے سیٹ پر بہت سارے کریئیٹیو لوگوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے انا کا تصادم اور تخلیقی اختلافات ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے، لوگ غصہ کرجاتے ہیں، میں 35 سال سے کام کر رہا ہوں اور 45 فلمیں کر چکا ہوں، میرے کریئر میں، میں نے کبھی بھی اتنا ہموار سفر نہیں کیا۔
ان کے مطابق کسی کو انا کی پریشانی نہیں تھی اور نہ ہی آواز بلند کی، میں نے شوٹنگ کے اختتام پر پرسنا کی طرف اشارہ کیا، میں نے کہا کہ یہ ان 10 کی وجہ سے ہے، اگر وہ ابھی اس کمرے میں چلے جائیں تو توانائی پوری طرح بدل جائے گی! وہ بہت پیار کرنے والے ہیں، وہ آپ کو گلے لگائیں گے، وہ آپ کے گالوں کو دبائیں گے، کوئی بھی ان کے سامنے آواز نہیں اٹھاتا کیونکہ تب ہی وہ عجیب محسوس کرتے ہیں۔





