پاکستان

لاہور کا تاجر جو عالمی منشیات فروشوں کا سرغنہ نکلا

محمد آصف کو امریکا میں16 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

Web Desk

لاہور کا تاجر جو عالمی منشیات فروشوں کا سرغنہ نکلا

محمد آصف کو امریکا میں16 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

محمد آصف 2033 تک امریکا میں قید رہیں گے۔
محمد آصف 2033 تک امریکا میں قید رہیں گے۔

برطانیہ اور امریکا کے مشترکہ آپریشن کے نتیجے میں منشیات کی بین الاقوامی اسمگلنگ کے سرغنہ، محمد آصف حفیظ کو 16 سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔

 66 سالہ آصف، جنہیں انڈر ورلڈ میں ’سلطان‘ کے نام سے جانا جاتا تھا، 2017 سے برطانیہ میں حراست میں تھے اور 2023 میں امریکا کے حوالے کیے گئے۔

 انہوں نے گزشتہ سال نومبر میں ہیروئن، میتھامفیتامین اور چرس تیار اور امریکا اسمگل کرنے کے الزامات کا اعتراف کیا تھا۔

لاہور میں 1958 میں پیدا ہونے والے آصف حفیظ بظاہر ایک کامیاب کاروباری شخصیت تھے۔ وہ لندن کے مشہور ’ہیم پولو کلب‘ کے بین الاقوامی سفیر رہ چکے ہیں اور ان کی تصاویر برطانوی شہزادوں ولیم اور ہیری کے ساتھ بھی سامنے آئیں۔

 ان کی کمپنی ’سروانی انٹرنیشنل کارپوریشن‘ سیکیورٹی اور منشیات پکڑنے والے آلات دنیا بھر کھی پولیس اور افواج کو فروخت کرتی تھی۔

مگر حقیقت اس کے برعکس تھی جو نظر آتی تھی، امریکی حکام کے مطابق آصف حفیظ دنیا کے سب سے بڑے منشیات اسمگلروں میں شامل تھے۔ 

وہ پاکستان اور بھارت سے ٹنوں کے حساب سے منشیات امریکا اور دیگر ممالک میں پہنچاتے رہے۔

اپنے کام میں تمام تر  رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے آصف حفیظ مختلف اوقات میں برطانوی اور مشرق وسطیٰ کے حکام کو منشیات فروشوں کی خفیہ اطلاعات دیتے رہے۔ 

بعدازاں انہوں نے ان خطوط کو  اپنی امریکا حوالگی روکنے کے لیے عدالتوں میں بطور ثبوت پیش کیا۔ 

مگر عدالتوں نے ان کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اطلاعات دراصل ان کے حریفوں کے خلاف تھیں، تاکہ وہ اپنے لیے منشیات مارکیٹ میں جگہ بنا سکیں۔

سال 2014 میں کینیا کے شہر ممباسا میں ایک سٹنگ آپریشن کے دوران آصف کے دو قریبی ساتھیوں نے ڈی ای اے کے خفیہ ایجنٹس کو بتایا کہ وہ ’سلطان‘ یعنی آصف حفیظ سے اعلیٰ معیار کی ہیروئن حاصل کر سکتے ہیں۔

 اس ملاقات اور دیگر شواہد کی بنیاد پر آصف کے خلاف کیس تیار کیا گیا۔

اس کے بعد ان کے ساتھ ملزمان عکاشہ برادرز اور بھارتی شہری وجے ’وکی‘ گوسوامی کو بھی گرفتار کر کے امریکا لے جایا گیا۔ 

گوسوامی اور عکاشہ برادرز نے اعتراف جرم کر لیا، جن میں سے ایک نے وعدہ معاف گواہ کے طور پر آصف کے خلاف گواہی دی۔

آصف حفیظ نے اپنی امریکا حوالگی روکنے کی بھرپور کوشش کی اور یہ دعویٰ کیا کہ وہ حکام کے مخبر تھے اور امریکی جیلوں میں ان کے لیے حالات خطرناک ہوں گے۔

تاہم برطانوی مجسٹریٹس، ہائی کورٹ اور یورپی عدالت برائے انسانی حقوق نے ان کی اپیلیں مسترد کر دیں اور مئی 2023 میں انہیں امریکا منتقل کر دیا گیا۔

استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ آصف ایک پرتعیش زندگی گزار رہے تھے، مگر لالچ اور طاقت کی ہوس انہیں مجرمانہ دنیا میں لے گئی۔

 ان کی سلطنت اب ختم ہو چکی ہے، اور وہ 2033 تک نیویارک کی جیل میں قید رہیں گے۔