فلم / ٹی وی

فلم ‘دیمک‘ کی کہانی اصل زندگی پر مبنی؟

فلم کا مرکزی محور محض ایک روحانی خوف یا ماورائی عنصر نہیں

Web Desk

فلم ‘دیمک‘ کی کہانی اصل زندگی پر مبنی؟

فلم کا مرکزی محور محض ایک روحانی خوف یا ماورائی عنصر نہیں

اسکرین گریب
اسکرین گریب

جب کوریڈور میں سرگوشیاں گونجنے لگیں، بستر فضا میں معلق ہو جائیں، دیواروں پر دیمک رینگنے لگے اور باتھ ٹب سے مسلسل پانی ٹپکے، تو یہ محض تخیل کا کھیل نہیں، بلکہ ان واقعات کی سچائی ہے جو بلوچستان کی حقیقتوں سے جُڑے ہیں۔

 یہی کہانی ہمیں ملتی ہے پاکستان کی نئی نفسیاتی ہارر فلم "دیمک" میں، جو خوف کو صرف چونکا دینے والے لمحوں کے بجائے ایک تہہ دار جذباتی اور ثقافتی تجربے کے طور پر پیش کرتی ہے۔

یہ فلم نامور ہارر لکھاری عائشہ مظفر کی تخلیقات سے متاثر ہے، جو اپنی کتاب ‘جنات‘ اور انسٹاگرام ہارر پیج ‘ابوس جنز‘ کے ذریعے جنوبی ایشیائی لوک کہانیوں کو نئے انداز میں پیش کرتی رہی ہیں۔ ہدایت کار رافع راشدی نے ان کے تخیل کو فلمی پردے پر اس انداز سے منتقل کیا ہے کہ ایک لمحے کو بھی حقیقت اور فسانے میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

فلم کا آغاز ایک وسیع، قدیم اور پراسرار مکان سے ہوتا ہے۔ لکڑی کی پرانی ریلنگ، بھاری پردے، اور سناٹے میں لپٹے گوشے دیکھنے والے کو آغاز ہی سے بے چینی میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ کہانی ایک ایسے خاندان کے گرد گھومتی ہے جو جذباتی کشمکش کا شکار ہے اور پراسرار واقعات ان کے معمولات کو تہ و بالا کر دیتے ہیں۔

فلم میں فیصل قریشی نے ‘فراز‘ کا کردار بخوبی نبھایا ہے، جو اپنی بیوی حبا (سونیا حسین) اور اپنی معذور ماں (ثمینہ پیرزادہ) کے درمیان جذباتی توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جاوید شیخ مرحوم والد کے کردار میں اور بشریٰ انصاری فلم کے اختتامی لمحات میں، اپنی سنجیدہ موجودگی اور مختصر مگر جاندار مکالموں سے اثر قائم کرتی ہیں۔

فلم کا مرکزی محور محض ایک روحانی خوف یا ماورائی عنصر نہیں بلکہ خاندانی تناؤ، پرانے صدمات، اور جذباتی انکار جیسے موضوعات پر محیط ہے۔ دیمک دراصل اندرونی بگاڑ اور ٹوٹ پھوٹ کی علامت ہے ایسا عنصر جو صرف گھر کی دیواروں میں نہیں بلکہ تعلقات کی بنیادوں میں بھی پنپتا ہے۔

فلم نہایت مہارت سے دکھاتی ہے کہ خوف ہمیشہ باہر سے نہیں آتا، بلکہ اکثر وہ اندر ہی کہیں چھپا ہوتا ہے ،ایسا درد جو وقت کے ساتھ خود ہی ناسور بن جاتا ہے۔

CGI اور ویژول ایفیکٹس کو نہایت سلیقے سے استعمال کیا گیا ہے۔ کینیڈین ماہرین کی معاونت سے تیار کردہ خاص مناظر اڑتے ہوئے فرنیچر، ہلتے سائے اور دھیمی روشنی ماحول میں ایک غیر یقینی کیفیت پیدا کرتے ہیں۔ ساؤنڈ ڈیزائن بھی خاص طور پر قابلِ تعریف ہے؛ سرگوشیاں، دور کی ہنسی اور غیر متوقع سسکیاں فلم کی گرفت کو مضبوط بناتی ہیں۔

ثمینہ پیرزادہ کا کردار گو کہ خاموش ہے، مگر ان کے تاثرات، خاموشی اور آنکھوں کی چمک ناظرین پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔ سونیا حسین نے اندرونی خوف اور دباؤ کا نہایت پراثر انداز میں اظہار کیا، جو فلم کے عمومی تناؤ میں مزید شدت پیدا کرتا ہے۔

’دیمک‘ کو پاکستانی ہارر سنیما کی ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ جہاں ’ذبح خانہ‘ اور ’عکس بند‘ جیسے پراجیکٹس نے پہلے تجربے کیے، وہیں ’دیمک‘ ایک سنجیدہ، جذباتی اور نفسیاتی ہارر فلم کے طور پر خود کو نمایاں کرتی ہے۔

یہ فلم کوئی عام ہارر کہانی نہیں بلکہ ایک ثقافتی، نفسیاتی اور جذباتی ڈرامہ ہے، جو یہ دکھاتی ہے کہ زخم اگر نظر انداز کیے جائیں تو وہ دیمک بن کر رشتوں کی جڑیں چاٹ جاتے ہیں۔