اظہار محبت کو یادگار بنانے والی فلمیں کونسی؟
بالی وڈ میں اظہار محبت کے سینز کو ایک الگ ہی مقام حاصل ہے
بالی وڈ میں ہمیشہ سے ہی رومانوی فلموں کا ایک اپنا مقام رہا ہے ، بالی وڈ کی تاریخ میں رنگین مناظرکے ساتھ ، زرق برق لباس اور دل کو چھو لینے والے گیتوں کے ساتھ محبت کے ان مناظر نے کئی نسلوں کو اپنے جذبات کے اظہار کے طریقے سکھائے ہیں۔
محبوب کو اپنے دل کا حال بتانے کے لیے ہیرو کبھی ہیروئن کو تنہائی میں پیغام دیتا نظر آیا ہے یا پھر بڑی بے باکی کرتے ہوئے اس نے سب کے سامنے اپنی محبت کا اظہار کیا ہے۔
ایسی ہی کچھ فلمیں ہیں جس میں محبوب نے محبت کا کچھ ایسے انداز میں اظہارمحبت کیا کہ فلم کا وہ سین تمام سینز پر بھاری پڑ گیا اور ناظرین اس سین کو کبھی فراموش نہیں کرسکے۔
ذیل میں ہم اظہار محبت کے حوالے سے کچھ فلمی سینز کی بات کریں گے۔
بینڈ باجا بارات:
اس فلم میں رنویر سنگھ اور انوشکا شرما نے مرکزی کردار ادا کیے ہیں، شروع میں دونوں کاروباری پارٹنر ہوتے ہیں لیکن پھر شروتی (انوشکا) کے دل میں بنٹو(رنویر) کے لیے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں لیکن بنٹو یہ جذبات سمجھ نہیں سکتا۔
شروتی اس صورتحال سے خاصی دل گرفتہ ہوتی ہے اور پھر ان دونوں کے درمیان کاروباری معاملات بھی خراب ہونا شروع ہوجاتے ہیں لیکن فلم کے اختتام پر بالاآخر بنٹو اپنی محبت کا اظہار کرہی دیتا ہے اور جو لوگ شروع سے ہی اس فلم سے جڑے ہوتے ہیں وہ اس سین کے سحر میں کھو سے جاتے ہیں۔
ٹو اسٹیٹس:
ارجن کپور کا عالیہ بھٹ کے لیے اظہار محبت کرنا اس فلم کے خاص سینز میں سے ایک ہے۔
یہ منظر نہایت جذباتی ہے، کرش(ارجن) اننیا(عالیہ) کے انٹرویو کے دوران اچانک آ جاتا ہے اور سیدھے سادے الفاظ میں کہتا ہے’بس تم ہی ہو جس سے میں شادی کرنا چاہتا ہوں‘۔
حالات کی سنجیدگی، انٹرویو کا دباؤ اور کرش کی بے قراری اس اظہار محبت کو نہایت مؤثر بناتی ہے۔
عائشہ:
یہ ایک شہری ماحول پر بنی ایک فلم ہے، جس میں فلم کے ہیرو ’ ابھے دیول ‘ کی جانب سے اظہار محبت کافی خاموش لیکن پراثر ہوتا ہے۔
ارجن (ابھے دیول) نہ تو اس اظہار محبت میں لمبے چوڑے ڈائیلاگ مارتا ہے ، نہ کوئی بڑی تقریر کرتا ہے اور نہ بیک گراونڈ میں کوئی میوزک چل رہا ہوتا ہے۔
بس ارجن آتا ہے اور اپنا حال دل بیان کردیتا ہے،اس محبت کے اظہار میں یہ سیکھنے کو ملتا ہے کہ محبت کبھی بلند لفظوں میں بیان نہیں کی جاسکتی۔
کبھی کبھی خاموشی بھی سب کچھ کہہ جاتی ہے اور دھیما انداز بھی زیادہ موثر ہوتا ہے۔
مائی نیم از خان:
رضوان(شاہ رخ خان) جو ایک سادہ اور سچے دل کا انسان ہے، مندیرا(کاجول) کو ایک چھت پر لے جاتا ہے، شہر کا خوبصورت نظارہ دکھاتا ہے اور کہتا ہے ’آنکھیں بند کرو، اور جب کھولو گی، دنیا بدل چکی ہو گی‘۔
پھر مندیرا خود رضوان کو شادی کی پیشکش کرتی ہے، اس لمحے میں نہ کوئی شور ہے، نہ کوئی گانا، صرف جذبات کی نرمی ہے۔
اس منظر کی خوبصورتی یہ ہے کہ محبت کے لیے دکھاوے کی ضرورت نہیں،صرف خلوص کافی ہے۔
مجھ سے شادی کرو گی ؟
شائد اس پورے آرٹیکل میں سب سے مشہور اظہار محبت اس فلم کا ہی ہے، فلم میں سلمان خان ، اکشے کمار اور پریانکا چوپڑا نے مرکزی کردار ادا کیے تھے اور فلم کا ٹائٹل بھی اظہار محبت پر ہے۔
سمیر(سلمان خان) کا اظہار محبت ایک کرکٹ اسٹیڈیم میں براہِ راست نشریات کے دوران ہوتا ہے، جہاں ہزاروں لوگ موجود ہوتے ہیں۔
سمیر مائیک پکڑ کر جب یہ کہتا ہے کہ رانی مجھ سے شادی کرو گی تو اسٹیڈیم میں شور مچ جاتا ہے کہ رانی کون ہے اور پھر کیمرے کا فوکس رانی کی جانب چلا جاتا ہے۔
یہ منظر مزاح، سنجیدگی کا حسین امتزاج ہے، اس میں بالی وڈ کی کلاسیکی ’اوور ڈرامیٹک‘ محبت جھلکتی ہے، جس میں عوام کے بیچ اظہارِ محبت، دل کو خوش کر دیتا ہے۔ یہ منظر اس لیے یادگار ہے کہ یہ ہنسی کے ساتھ دل کو بھی چھو جاتا ہے۔
یہ جوانی ہے دیوانی:
بنی(رنبیر کپور) جو ہمیشہ سفر اور آزادی کو ترجیح دیتا ہے، نئے سال کی رات نینا کے دروازے ایک کیک اور غبارہ لے کر آتا ہے۔
وہ کہتا ہے کہ اب وہ اپنی زندگی نینا(دیپیکا پڈوکون) کے ساتھ گزارنا چاہتا ہے۔
اس منظر سے پہلے دونوں ایک دوسرے سے بہت دور تھے اور جب ان دونوں کا دل آپس میں ملتا ہے تو دیکھنے والوں کے دل بھی دھڑکنے لگ جاتے ہیں۔




