ثنا یوسف کو 'نہ' کہنے کی سزا دی گئی، خاتون اوّل آصفہ بھٹو
آصفہ بھٹو نے تازہ بیان میں سوگواران سے تعزیت کا اظہار کیا
قومی اسمبلی کی رکن اور خاتونِ اول، بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں 17 سالہ ٹک ٹاک اسٹار و ڈیجیٹیل کانٹینٹ کریئٹر ثناء یوسف کے بہیمانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے معاشرے میں خواتین اور بچیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کی سنگین علامت قرار دیا ہے۔
چترال سے تعلق رکھنے والی 17 سالہ ثنا یوسف سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنی تصاویر و ویڈیوز کی وجہ سے مشہور تھیں، وہ ایک ٹک ٹاکر ہونے کے ساتھ ساتھ انسٹاگرام پر بھی متحرک رہتی تھیں، ان کی ویڈیو کا کنٹینٹ زیادہ تر مزاحیہ ہی ہوتا تھا اور وہ اپنی ویڈیوز میں ہنستی مسکراتی نظر آتی تھیں۔
ثنا یوسف انسٹاگرام پر مختلف برانڈز کے ساتھ کولیبوریشن کرتی بھی دکھتی تھیں جس میں زیادہ تر کپڑوں کے برانڈز شامل تھے۔
انہیں رواں ماہ 2 جون کو ان کی 17ویں سالگرہ سے محض ایک روز قبل ایک نوجوان نے گھر میں گھس کر قتل کر دیا تھا، مبینہ قاتل عمر حیات کو اگلے ہی روز فیصل آباد سے گرفتار کر لیا گیا تھا جس کے بعد سے تحقیقات کے ساتھ ساتھ عمر حیات کی عدالت پیشی کا سلسلہ جاری ہے۔
خاتون اول آصفہ بھٹو نے تازہ بیان میں مقتولہ ثنا یوسف کے اہلخانہ، چترال کی کمیونٹی اور اس المناک سانحے پر سوگوار تمام افراد سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
آصفہ بھٹو نے کہا کہ 'ثنا صرف ایک ایسی لڑکی تھی جس کے خواب تھے، جس کی امنگیں تھیں، جس کے سامنے ایک پوری زندگی تھی، اُسے آزاد اور محفوظ زندگی گزارنے کا پورا حق حاصل تھ، اس کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ محض تشدد کا واقعہ نہیں تھا، بلکہ اُسے 'نہ' کہنے کی سزا دی گئی اور اس بات نے ہم سب کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے'۔
انہوں نے اس حقیقت کی جانب توجہ دلائی کہ مردانہ برتری کی سوچ سے جنم لینے والا تشدد کوئی نیا یا انوکھا مسئلہ نہیں، لیکن اب اسے ثقافت یا روایت کے نام پر مزید برداشت نہیں کیا جاسکتا۔
اُن کا کہنا تھا کہ یہ ذہنیت کہ عورت کا انکار کرنے کا حق ایک توہین ہے، یا اُس کی پسند ناپسند کو قابو میں رکھنا ضروری ہے، یہ فرسودہ، ظالمانہ اور زہریلی سوچ ہے، میری والدہ شہید بے نظیر بھٹو نے ان دیواروں کو اپنی طاقت سے توڑا، وہ محض رہنما نہیں تھیں بلکہ انہوں نے لاکھوں خواتین کے لیے دروازے کھولے، آج ہمارا فرض ہے کہ ان دروازوں کو بند نہ ہونے دیں، خاص طور پر ثنا جیسی بیٹیوں کے لیے۔
آصفہ بھٹو نے سوشل میڈیا پر ثنا کے خلاف پھیلائی جانے والی نفرت انگیزی اور کردار کشی پر بھی سخت ردِعمل دیا۔
انہوں نے یہ مؤقف رد کیا کہ کسی بھی لڑکی کی سوشل میڈیا موجودگی کو اس کے قتل کا جواز بنایا جا سکتا ہے، کوئی موبائل فون ایپلی کیشن، کوئی تصویر، کوئی ویڈیو، کبھی بھی کسی قتل کا جواز نہیں بن سکتی، یہ پریشان کن ہے کہ کچھ لوگ ثنا کے ٹک ٹاک کے استعمال کو اس کے قتل کی توجیہہ بنا کر پیش کررہے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ اگر یہی منطق ہے، تو کیا ہم یہ مان لیں کہ پاکستان کی لاکھوں لڑکیاں بھی خطرے میں ہیں؟ یہ سوچ نہ صرف خطرناک ہے بلکہ غیرانسانی بھی ہے'۔
انہوں نے ملک بھر کی نوجوان لڑکیوں کے لیے ایک پیغامِ حوصلہ اور مزاحمت کے طور پر اپنی بات کا اختتام کیا کہ 'وہ سب لڑکیاں جو یہ سب دیکھ رہی ہیں، خوفزدہ نہ ہوں، آپ کو خواب دیکھنے، آواز اٹھانے اور بے خوف جینے کا پورا حق ہے، اگر آپ خاموش ہو گئیں تو وہ جیت جائیں گے لیکن اگر ہم سب مل کر آگے بڑھتے رہے، تو ہم ایک ایسا پاکستان بنا سکتے ہیں جہاں لڑکیوں کو اُن کی موت کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جائے گا، بلکہ اُن کی زندگی کا جشن منایا جائے گا'۔




