بکنگھم پیلس سے بھی خوبصورت بھارت کا شاہی محل کونسا؟
حالیہ ویب سیریز’ دی رائلز‘ میں شاہی زندگی کو اجاکر کیا گیا ہے
بھارت کی سابقہ ریاست وڈودرا میں واقع محل کی چکاچوند کے آگے برطانیہ کے شاہی محل بکنگھم پیلس بھی ماند ہے۔
حالیہ دنوں میں نیٹفلکس کی ایک سیریز ’ دی رائلز‘ زیر بحث بنی ہوئی ہے جس میں بھارت کے راجا مہاراجاؤں اور شاہی خاندانوں کا طرز زندگی دکھایا گیا ہے۔
’دی رائلز‘ میں ایشان کھتر اور بھومی پیڈنیکر نے مرکزی کردار ادا کیےہیں، اس سیریز میں ہندوستانی شاہی خاندانوں کے اس پہلو کو دکھایا گیا ہے جسے بہت کم لوگ جانتے ہیں۔
بھارت کے قیام سے پہلے برٹش انڈیا میں سیکڑوں خودمختار ریاستیں موجود تھیں، ان ریاستوں کے حکمران اپنی ایک سلطنت رکھتے تھے۔
تقسیم ہندوستان کے بعد ان میں سے کئی ریاستوں نے ہندوستان جبکہ کئی نے پاکستان میں شمولیت اختیار کی اور اس شمولیت نے شاہی خاندانوں کی اہمیت کو بھی کم کردیا۔
اگر اس حوالے سے بات کی جائے تو سیف علی خان ریاست پٹودی کے نواب ہیں لیکن اب وہ صرف نام کے نواب ہیں کیونکہ شاہی نظام ختم ہوچکا ہے۔
تاہم فلموں میں دکھائے جانے والے شاہی خاندانوں کے پس منظر کو دیکھ کر بہت سے لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا واقعی شاہی خاندان اسی طرح رہتے ہیں جیسے وہ فلموں میں دکھائے جاتے ہیں ؟
کیا وہ ہر وقت شاہی لباس پہنے رہتے ہیں، کیا ان کے محلات میں شاہی آداب پر زور دیا جاتا ہے ؟ کیا وہ شاہانہ پارٹیاں کرتے ہیں ؟
اگر ہم ’دی رائلز‘ کے حوالے سے ہی بات کریں تو ہندوستان میں ایک ایسا شاہی خاندان ہے جو ’دی رائلز‘ کے پس منظر کی خوب نمائندگی کرتا ہے۔
یہ شاہی خاندان ’واڑ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے ، یہ خاندان نہ صرف بھارت کے سب سے بڑے ذاتی محل کے مالک کے طور پر جانا جاتا ہے بلکہ ان کی ملکہ، مہارانی رادھیکراجے گائیک واڑ کو ہندوستان کی سب سے جدید سوچ رکھنے والی شاہی خاتون مانا جاتا ہے۔
ان کا اصلی محل نیٹ فلکس کے ڈرامے میں دکھائے گئے خیالی محل سے کہیں زیادہ شاندار ہے۔
حتیٰ کہ برطانیہ کے شاہی محل بکنگھم پیلس کی چمک بھی اس کے سامنے ماند پڑ جاتی ہے۔
آئیے مہارانی رادھیکراجے گائیکگ واڑ اور ان کے عظیم الشان’ لکشمی ولاس پیلس‘ کے بارے میں مزید جانتے ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق، مہارانی رادھیکراجے کا تعلق اس شاہی خاندان سے ہے جس نے 1700 سے 1947 تک مغربی ہندوستان کے نوابی ریاست بڑودہ (موجودہ وڈودرا) پر حکومت کی۔
یہ خاندان ہندو مرہٹہ نسل سے تعلق رکھتا تھا اور مرہٹہ سلطنت کے دور میں نمایاں حیثیت رکھتا تھا۔
برطانوی راج کے دوران گائیک واڑ خاندان کی ریاست ہندوستان کی امیر ترین اور بڑی ریاستوں میں شمار ہوتی تھی۔
1890 میں اس خاندان نے 60 لاکھ روپے کی لاگت سے لکشمی ولاس پیلس کی تعمیر مکمل کی۔
مہارانی رادھیکراجے کے شوہر سمرجیت سنگھ رنجیت سنگھ گائیک واڑ کو 2013 میں اپنے چچا سے قانونی تصفیے کے بعد یہ عظیم الشان محل وراثت میں ملا۔
اس کے ساتھ انہیں موتی باغ اسٹیڈیم اور مہاراجہ فتح سنگھ میوزیم بھی ملے، جہاں کئی شاہی نوادرات اور قیمتی پینٹنگز محفوظ ہیں۔
سمرجیت سنگھ نے بطور ایک سوجھ بوجھ والے تاجر کے محل کے کچھ حصے کو بنکوئٹ ہال میں تبدیل کر دیا جہاں مشہور کرکٹر یوسف پٹھان کی شادی کی استقبالیہ تقریب منعقد ہوئی تھی۔
لکشمی ولاس پیلس چار منزلہ عمارت ہے، جس میں 170 کمرے ہیں اور یہ 700 ایکڑ اراضی پر محیط ہے۔
تاریخ وڈودرا کی رپورٹ کے مطابق، یہ محل برطانیہ کے بکنگھم پیلس سے چار گنا بڑا ہے، محل کے اندر ایک گولف کلب، اصطبل اور سوئمنگ پول بھی موجود ہیں۔
اس محل کے احاطے میں کبھی ایک چھوٹا چڑیا گھر اور بچوں کے لیے ایک ذاتی ریل لائن بھی ہوا کرتی تھی، جو شاہی بچوں کو اسکول اور محل کے درمیان لاتی لے جاتی تھی۔
جیسا کہ فلموں اور ڈراموں میں دکھایا جاتا ہے، اس محل میں بھی ایک شاندار دربار موجود ہے جو اس محل کی تمام عظمتوں میں سب سے نمایاں ہے۔
تقریباً 5000 مربع فٹ رقبے پر محیط یہ دربار وینیشین فرش، بیلجیئم کی شیشے کی کھڑکیوں اور پیچیدہ نقش و نگار سے سجی چھتوں پر مشتمل ہے۔
عظیم فانوس دربار کی شان کو اور بھی بڑھاتے ہیں، کہا جاتا ہے کہ یہی دربار ماضی میں ناچ گانے اور عشائیوں کی تقاریب کے لیے استعمال ہوتا تھا۔
محل میں ایک اسلحہ خانہ بھی موجود ہے، جہاں مراٹھا سلطنت کے بانی شیواجی مہاراج کی تلوار رکھی گئی ہے
شاہی زندگی محض آسائشوں تک محدود نہ تھی، جنگیں اور معرکے بھی ان کا اہم حصہ تھے۔
اسی لیے زیادہ تر محلات میں اسلحہ خانہ بھی ہوتا تھا،لکشمی ولاس پیلس میں بھی ایک اسلحہ خانہ ہے، جس میں نہ صرف شاہی خاندان کے زیر استعمال ہتھیار محفوظ ہیں بلکہ دیگر بادشاہوں کے اسلحے بھی رکھے گئے ہیں۔ یہاں نودرگا تلوار، گرو گوبند سنگھ کی پنچکولہ تلوار، شیواجی مہاراج کی تلوار، اورنگزیب کی تلوار اور پہلی جنگ عظیم میں استعمال ہونے والے چند ریوالورز بھی محفوظ ہیں۔
مہارانی رادھیکراجے گا ایک واڑ کو جدید سوچ کی شاہی خاتون کے طور پر جانا جاتا ہے۔
شادی سے قبل وہ ایک عام سی زندگی گزارتی تھیں اور انڈین ایکسپریس میں بطور صحافی کام کرتی تھیں۔
ہیومنز آف بمبئی کے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے روایتوں کی دیوار توڑ کر اپنی زندگی کے اصول خود طے کیے۔
وہ سماجی خدمت میں بھی فعال کردار ادا کرتی ہیں اور کئی فلاحی منصوبوں میں حصہ لے چکی ہیں۔
حال ہی میں مہارانی رادھیکراجے نے، جو سوشل میڈیا پر کافی متحرک ہیں، نیٹ فلکس شو ’دی رائلز‘پر اپنے خیالات انسٹاگرام پر بیان کیے۔
انہوں نے شو میں شاہی زندگی کی تصویر کشی پر مایوسی کا اظہار کیا اور یاد دلایا کہ 565 نوابی ریاستوں نے آزادی کے بعد اپنی ریاستیں، شناخت اور القاب بھارت کے لیے خوشی خوشی قربان کیے تھے۔
کیونکہ نیٹ فلکس شو میں زیادہ تر نوجوان شاہی افراد کی زندگیوں پر توجہ دی گئی ہے، اس لیے مہارانی نے موجودہ دور کے شاہی نوجوانوں کی اصل زندگی پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے لکھا کہ آج کے شاہی نوجوان بھی اپنی جڑوں کی طرف لوٹ رہے ہیں، وہ دنیا بھر کی یونیورسٹیوں سے ڈگریاں حاصل کر کے واپس آتے ہیں، اپنی مادری زبان بولتے ہیں، پگڑی پہنتے ہیں اور ساتھ ہی اپنی وراثت کو پائیدار بنانے کے لیے کام کرتے ہیں۔




