انفوٹینمنٹ

سدھو موسے والا کی 32ویں سالگرہ پر 3 نئے گانے ریلیز ہوتے ہی مقبول

تینوں گانوں نے ریلیز کے صرف ایک گھنٹے کے اندر ایک ملین ویوز حاصل کر لیے

Web Desk

سدھو موسے والا کی 32ویں سالگرہ پر 3 نئے گانے ریلیز ہوتے ہی مقبول

تینوں گانوں نے ریلیز کے صرف ایک گھنٹے کے اندر ایک ملین ویوز حاصل کر لیے

(فائل فوٹو: سوشل میڈیا)
(فائل فوٹو: سوشل میڈیا)

پنجابی میوزک انڈسٹری کے درخشاں ستارے اور مداحوں کے دلوں پر راج کرنے والے آنجہانی گلوکار سدھو موسے والا کی 32ویں سالگرہ پر ان کے چاہنے والوں کو ایک ناقابلِ فراموش تحفے سے نواز دیا گیا۔

ان کے یوٹیوب چینل پر سدھو موسے والا کے 3 نئے گانے 0008، Neal اور Take Notes ریلیز کردیے گئے ہیں جو ان کے نئے ای پی (Extended Play) البم 'موسے پرنٹ' کا حصہ ہیں۔

یہ گانے جاری ہوتے ہی سوشل میڈیا پر چھا گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو گئے، جس سے واضح ہوا کہ سدھو موسے والا کا جادو آج بھی قائم ہے اور ان کی موسیقی مداحوں کے دلوں میں گہرائی تک پیوست ہے۔

ان تینوں گانوں نے ریلیز کے صرف ایک گھنٹے کے اندر ایک ملین ویوز حاصل کر لیے، جو کسی بھی فنکار کے لیے ایک زبردست کامیابی سمجھی جاتی ہے، وہ بھی ایسے وقت میں جب وہ فنکار اس دنیا میں موجود ہی نہ ہو۔

ریلیز سے قبل سدھو کے والد بلکور سنگھ نے مداحوں کو عندیہ دیا تھا کہ اُن کے بیٹے کی سالگرہ پر کچھ 'نیا میوزک' سننے کو ملے گا اور یہ وعدہ مداحوں کے جذباتی ردعمل سے مکمل طور پر سچا ثابت ہوا۔

یہ ریلیز ایسے وقت میں سامنے آئی جب بی بی سی ورلڈ سروس پر 'دی کلنگ کال' کے ٹائٹل سے سدھو موسے والا کے قتل پر ایک دستاویزی سیریز بھی نشر کی جا چکی ہے، جس میں اُن کے قتل سے جڑے حالات و واقعات کو بیان کیا گیا۔

اس ڈاکیومنٹری کے بعد یہ گانے ایک اور جذباتی لمحہ بن کر سامنے آئے، جس نے مداحوں کے دلوں کو چھو لیا۔

یاد رہے کہ سدھو موسے والا، جن کا اصل نام شبھدیپ سنگھ سدھو تھا، کو 29 مئی 2022 کو پنجاب کے ضلع مانسہ کے گاؤں جواہرکے میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔

وہ اپنی گاڑی میں سفر کر رہے تھے جب اُن پر حملہ کیا گیا، اور وہ اسپتال پہنچنے سے قبل ہی دم توڑ گئے۔

اُن کی ناگہانی موت نے نہ صرف پنجابی میوزک انڈسٹری بلکہ دنیا بھر میں اُن کے مداحوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔

سدھو موسے والا کے اہل خانہ، خاص طور پر اُن کے والد، انصاف کے لیے مسلسل آواز بلند کر رہے ہیں اور ساتھ ہی اُن کی یاد کو زندہ رکھنے کے لیے مختلف اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔

سدھو موسے والا کی موسیقی، ان کے اندازِ بیان، بے باک شاعری اور معاشرتی مسائل پر آواز بلند کرنے کے انداز نے انہیں صرف ایک فنکار نہیں، بلکہ ایک تحریک بنا دیا تھا۔

آج جب اُن کی سالگرہ کے موقع پر 'موسے پرنٹ' کے نئے گانے سننے کو ملے، تو دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے اُن کے مداحوں نے سوشل میڈیا پر اپنے جذبات کا اظہار کیا۔