خواتین

'کافی پیچھے رہ گئی ہوں'، انعم مرزا دلبرداشتہ کیوں؟

انعم مرزا ماضی کی اچیومنٹ یاد کرنے لگیں

Web Desk

'کافی پیچھے رہ گئی ہوں'، انعم مرزا دلبرداشتہ کیوں؟

انعم مرزا ماضی کی اچیومنٹ یاد کرنے لگیں

انعم مرزا ماضی کی اچیومنٹ یاد کرنے لگیں
انعم مرزا ماضی کی اچیومنٹ یاد کرنے لگیں

مشہور بھارتی ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا کی بہن انعم مرزا کو ایسا محسوس ہونے لگا ہے جیسے انہوں نے اپنی زندگی کا مقصد حاصل نہ کیا ہو اور وہ اس دوڑ میں کافی پیچھے رہ گئیں ہوں۔

ثانیہ مرزا کے نام سے تو سب ہی واقف ہیں، لیکن انکی بہن انعم مرزا بھی کوئی معمولی شخصیت نہیں بلکہ  انہوں نے محنت اور عزم سے خود کو فیشن اور کاروبار کی دنیا میں منوایا ہے۔

انعم نے اپنی انٹرپرینیورشپ کا آغاز 2013 میں 'انک ٹو چینج' کے نام سے ایک نیوز ویب سائٹ کے ذریعے کیا، جو خاص طور پر ابھرتے ہوئے جرنلسٹس کے لیے بنائی گئی تھی۔ یہ ان کی محنت کا پہلا قدم تھا جس نے ان کے کریئر کی بنیاد رکھی۔

اس کے بعد انعم مرزا نے 'دی لیبل بازار' کے نام سے اپنا فیشن برانڈ لانچ کیا، یہ برانڈ اپنی منفرد ڈیزائنز اور شاندار کلیکشنز کی وجہ سے مشہور ہوا۔

انعم کے اس برانڈ نے نہ صرف بھارت بلکہ دبئی جیسے بین الاقوامی شہروں میں بھی اپنی پہچان بنائی۔

"2022 میں انعم نے 'دعوتِ رمضان' کے نام سے ایک منفرد اور بڑا ایونٹ لانچ کیا، یہ رمضان کے مہینے میں ہونے والا سب سے بڑا ایکسپو ہے، جس میں ہر سال 1.5 لاکھ سے زائد لوگ شرکت کرتے ہیں۔ یہاں نہ صرف فیشن اور فوڈ اسٹالز لگتے ہیں بلکہ یہ ایونٹ حیدرآبادی ثقافت کو بھی فروغ دیتا ہے۔

زندگی میں اس سمیت بہت کچھ کرنے کے باوجود انعم کو لگتا ہے کہ جیسے وہ زندگی کا مقصد حاصل نہ کرسکیں اور کافی پیچھے رہ گئیں ہیں، لیکن پھر اسی لمحے انہیں وہ سب کچھ یاد آتا ہے جسکا خواب انہوں نے دیکھا تھا اور اسے سچ کردکھایا۔

ماضی کی اچیومنٹ کو یاد کرتے ہوئے انعم مرزا نے فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر پوسٹ شیئر کی جس میں طویل نوٹ کیساتھ انعم کے دل کی آواز اور ماضی کی حسین یادیں شامل تھیں۔

انہیں سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے انعم مرزا نے کیپشن میں  اپنی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے فینز کو بتایا کہ،‘گزشتہ چند مہینے واقعی بہت مشکل گزرے ہیں۔کام میں سستی رہی۔ ایک ایسی خاموشی چھائی رہی جو نہ صرف اعتماد بلکہ تخلیقی صلاحیت کو بھی کھا گئی۔

’انعم مرزا نے اپنی دلی کیفیت کچھ اسطرح بیان کی کہ،‘بعض دنوں میں ایسا لگا جیسے میں پوری جان لگا رہی ہوں، پھر بھی میرا اپنا ذہنی سکون سب کچھ جیسے اور زیادہ زور سے دھکیل رہا ہو۔تخلیقیت جیسے کہیں گم ہو گئی ہو میں ایک  ایسی تھکن محسوس کر رہی ہوں جس کا کبھی اندازہ بھی نہیں تھا۔’

انہوں نے مزید لکھا کہ،‘اس کیفیت کے باوجودلیکن پھر بھی میں چلتی رہتی ہوں ، طاقت کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس خاموش یقین کی وجہ سے کہ شاید کسی دن سب بہتر ہو جائے گا لیکن یہ سوچ میرا پیچھا نہیں چھوڑتی کہ میں نے کچھ حاصل نہیں کیا اور میں کافی پیچھے رہ گئی ہوں۔

دلبرداشتہ کیفیت کا ذکر کرتے ہوئے انعم نے مزید لکھا کہ،‘میں نے خود سے کہنا شروع کیا کہ میں آگے نہیں بڑھ رہی، میں بس رک گئی ہوں لیکن آج صبح جب میں نے یونہی اپنی پرانی تصاویر کھولیں اور پچھلے ایک یا دو سال کی یادیں دیکھتی گئی تو اچانک میں نے کچھ دیکھا۔ یہ وہ لمحات تھا جسے میں بھول چکی تھی۔‘

ماضی کی حسین یادوں میں کھوتے ہوئے انعم مرزا نے اپنے فینز کو بتایا کہ،’وہ خواب جو میں نے بچپن میں دیکھے تھے  وہ سب میری گیلری میں موجود تھے۔ بس پھر میں نے محسوس کیا کہ میں نے اپنے کئی خواب پورے کیے ہیں اور مجھے اندازہ بھی نہیں ہوا۔میں اتنی توجہ ان چیزوں پر مرکوز کیے ہوئے تھی جو میں نے نہیں کیں، اور اسی کے سبب میں وہ سارا جادو دیکھ ہی نہیں پائی جو میں پہلے ہی جی چکی ہوں۔’

وہ لکھتی ہیں کہ،‘مجھے معلوم ہے کچھ لوگ مجھے دیکھ کر کہتے ہیں کہ اسے سب کچھ آسانی سے ملا ہے۔ اس کا خاندان، اس کی رسائی، اس کی حیثیت لیکن میں نے کبھی اپنے فائدے کا انکار نہیں کیا کیونکہ اس میں میری محنت شامل ہے میری وہ تمام بے خواب راتیں۔ میرے اندر کے جنگیں،  میری لگن جو صرف میں سے دیکھ سکتی ہوں اور محسوس کرسکتی ہوں۔’

انعم مرزا نے طویل نوٹ کے اختتام میں اپنے چاہنے والوں کو پیغام دیتے ہوئے لکھا کہ،‘اب میں نے ایک فیصلہ کرلیا ہے  خود کو ملامت کرنے سے رکنے کاجو کچھ میں نے کر لیا ہے، اسے دیکھنے کا خود کو تھوڑا کریڈٹ دینے کا تھوڑی نرمی برتنے کا۔کیونکہ شاید میں نے ابھی تک سب کچھ نہیں بنایا جو میں چاہتی ہوں، لیکن جو کچھ بنایا ہے وہ بھی کچھ کم نہیں’۔

انعم مرزا کی اس جرنی اور حال دل کو سننے کے بعد سوشل میڈیا صارفین انکی ہمت اور حوصلے کو سراہتے نظر آرہے ہیں جبکہ انکی بہن ثانیہ مرزا نے بھی انعم مرزا سے محبت کا اظہار کردیا۔