وائرل اسٹوریز

فیکٹ چیک: عامر قذافی دوران حج انتقال کرگئے؟

حقیقت سامنے آگئی

Web Desk

فیکٹ چیک: عامر قذافی دوران حج انتقال کرگئے؟

حقیقت سامنے آگئی

حقیقت سامنے آگئی
حقیقت سامنے آگئی

عازم حج عامر المہدی منصور القذافی کے دوران حج انتقال کرنے کی خبریں تیزی سے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے لگیں، لیکن ان خبروں میں کتنی صداقت ہے یہ حقیقت بھی کھل کر سامنے آگئی۔

لیبیا سے تعلق رکھنے والے عازم حج عامر المہدی منصور القذافی تو سب کو یاد ہی ہونگے؟ یہ وہی شخص ہیں جن کے بغیر حج کی پرواز نے پروان بھرنے سے انکار کردیا تھا اور یہ حیران کن معجزہ پوری دنیا میں توجہ کا مرکز بنا۔

حالیہ حج سیزن میں جہاں دنیا بھر سے عازمین حج سعودی عرب کا رخ کررہے تھے وہیں لیبیا سے تعلق رکھنے والے عامر قذافی کو امیگریشن کاؤنٹر پر محض ان کے نام میں شامل 'القذافی' کی وجہ سے کلیئرنس دینے سے انکار کردیا گیا تھا۔

 کیونکہ سسٹم میں بعض جگہوں پر 'القذافی' نام سکیورٹی الرٹ کے طور پر اب بھی موجود تھا، جوکہ دراصل لیبیا کی دہائی پرانی خانہ جنگی کے دنوں میں سسٹم میں شامل کیا گیا تھا۔

اور پھر اسی دوران باقی حجاج نے اپنی کارروائیاں مکمل کر لیں اور جہاز میں سوار ہو گئے اور جہاز کے دروازے بند ہو گئے لیکن شاید قسمت کو عامر کے بغیر پرواز کے اڑان بھرنا منظور نہ تھا۔

حالانکہ کچھ دیر بعد عامر کا سیکیورٹی کا مسئلہ حل ہو گیا تھا لیکن جب تک طیارہ اڑچکا تھا اور عامر حج کی خواہش دل میں لیے ایئر پورٹ پر ہی بیٹھ گئے۔

اس وقت سیکیورٹی افسر نے افسوس کے ساتھ مسکرا کر عامر سے کہا ’اللہ کا حکم شاید تمہارے نصیب میں نہیں ہے‘۔

مگر عامر نے ایئرپورٹ چھوڑنے سے انکار کر دیا اور پورے یقین سے کہا ’نیت حج کی ہے اور ان شا اللہ ضرور جاؤں گا‘، بس پھر کیا تھا اسی دوران ایک اطلاع آئی کہ طیارہ کسی خرابی کے باعث واپس آ رہا ہے۔

جہاز کے واپس آنے کے بعد پائلٹ کو آگاہ کیا گیا کہ پرواز کا ایک مسافر رہ گیا ہے تاہم اس نے دروازے کھولنےسے انکار کردیا اور فنی خرابی دور کیے جانے کے بعد پرواز دوبارہ اڑ گئی۔

البتہ دیکھنے والوں کی حیرت کی انتہا اس وقت نہ رہی جب پرواز ایک مرتبہ پھر لوٹ کر اسی ایئرپورٹ پر واپس آئی۔

عامر کے مطابق دوسری بار جہاز اترا اور فنی خرابی کی دوبارہ جانچ پڑتال ہوئی مگر ساتھ ہی پائلٹ نے غیر متوقع فیصلہ کر لیا اور کہا کہ ’یہ جہاز اب عامر کے بغیر نہیں اڑسکتا، میں نہیں اُڑوں گا جب تک عامر سوار نہ ہو جائے‘۔

مسافروں اور عملے کے مطابق دوسری ایمرجنسی لینڈنگ کے بعد پائلٹ نے خود اعلان کیا تھا کہ 'میں قسم کھاتا ہوں، جب تک عامر ہمارے ساتھ اس طیارے میں نہیں ہوں گے، میں دوبارہ پرواز نہیں کروں گا'، یوں عامر کا حج کا یہ سفر پوری دنیا میں کسی معجزے سے کم تصور نہیں کیا جارہا تھا۔

دوران حج عامر کی موت؟

ایک جانب جہاں عامر کو دنیا کا خوش قسمت ترین انسان تصور کیا جارہا تھا وہیں اب سوشل میڈیا پر وائرل چند ویڈیوز میں عامر کی دوران حج انتقال کرجانے کی قیاس آرائیاں زور پکڑنا شروع ہوگئیں ہیں۔

یہ سب اس وقت شروع ہوا جب ایکس اکاؤنٹ سمیت انسٹاگرام پر مختلف اسکرین شارٹ اور ویڈیوز گردش کرنے لگے جس میں عامر قذافی کے انتقال کا دعویٰ کیا جارہا تھا، اور صرف یہی نہیں بلکہ انہیں دنیا کا خوش قسمت انسان تصور کیا جارہا تھا جسکی وجہ مقدس مقام اور بابرکت جگہ پر موت ملنا تھا جسکی خواہش ہر انسان کرتا ہے۔

اس خبر کے پھیلتے ہی کئی لوگوں نے جہاں اسے حقیقت مان لیا وہیں زیادہ تعداد ایسی تھی جنہوں نے ان افواہوں کو محض جھوٹ قرار دیتے ہوئے کان نہ دھرے۔

لیکن آخر ان خبروں کی حقیقت کیا ہے وہ بھی جلد ہی سامنے  آگئی۔

عامر قذافی کی تردید

سوشل میڈیا پر یہ غیر مصدقہ خبریں گردش کرنے لگیں کہ عامر قذافی اپنے حج کے دوران یا اس کے بعد انتقال کر گئے ہیں جسکے بعد کئی لوگوں نے ان کی روحانی جدوجہد کے اختتام پر افسوس اور عقیدت کا اظہار کیا۔

تاہم، یہ رپورٹس غلط ثابت ہوئی ہیں کیونکہ عامر قذافی زندہ ہیں، اور ان کی ایک حالیہ ویڈیو نے ان افواہوں کی مکمل طور پر تردید کر دی ہے۔ 

ان قیاس آرائیوں کے زور پکڑنے کے بعد حال ہی میں عامر قذافی نے عربی میڈیا سے بات کرتے ہوئے اپنے زندہ ہونے کی تصدیق کی ہے۔

مائیکرو بلاگنگ سائٹ ایکس پر وائرل  انٹرویو میں لیبیا کے حاجی عامر قذافی نے ان افواہوں کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے اپنے خیریت سے لوگوں کو آگاہ کیا ہے۔