ایئر انڈیا کا مسافر طیارہ احمدآباد میں گر کر تباہ
طیارے میں عملے کے 12 ارکان سمیر 242 افراد سوار تھے۔
بھارتی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں سردار والا بھائی پٹیل انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے نزدیک لندن کے لیے اڑان بھرنے والا ایک مسافر طیارہ گر کر تباہ ہو گیا۔
بھارتی ایئر لائن ایئر انڈیا کا مسافر طیارہ ڈاکٹروں کے ہاسٹل کی عمارت پر گر کر تباہ ہوا، حادثے میں 120 مسافروں کی ہلاکتوں کی اطلاع ہے، شہری آبادی پر طیارہ گرنے کے بعد کئی عام شہری بھی زخمی ہوئے جنہیں اسپتال منتقل کردیا گیا۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ایئرانڈیا کی فلائٹ نمبر اے آئی 171 احمد آباد ایئرپورٹ سے لندن (برطانیہ) کے لیے روانہ ہوئی تھی،طیارے کو حادثہ ٹیک آف کے دوران پیش آیا، اب تک کم از کم 120 مسافر ہلاک ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے۔
ڈائریکٹوریٹ آف سول ایوی ایشن کے ڈائریکٹر جنرل فیض احمد قدوائی نے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کو بتایا کہ ایئر انڈیا کی فلائٹ مقامی وقت کے مطابق دوپہر ایک بج کر 38 منٹ پر ٹیک آف کرنے کے پانچ منٹ بعد میگھانی نگر نامی رہائشی علاقے میں گر کر تباہ ہوئی۔
سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق بوئنگ 8-787 ڈریم لائنر طیارے میں کُل 242 مسافر سوار تھے۔
طیارے میں 230 مسافر اور عملے کے 12 ارکان موجود تھے، جن میں 217 بالغ اور 11 بچے تھے، ایئر انڈیا کے مطابق ان میں سے 169 بھارتی شہری، 53 برطانوی، 7 پرتگالی، اور ایک کینیڈین تھا۔
طیارہ گرنے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ادارے اور فائر بریگیڈ کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے۔
بھارت کے وفاقی وزیر صحت نے کہا ہے کہ طیارہ حادثے میں ’بہت سے افراد‘ ہلاک ہو گئے ہیں، جب کہ ریسکیو نے 30 لاشیں نکال لی ہیں، تاہم درجنوں افراد اب بھی اس عمارت میں موجود ہیں، جس سے طیارہ ٹکراکر تباہ ہوا، کئی زخمی زیر علاج ہیں۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں طیارہ گرنے اور رہائشی عمارتوں کے اوپر سیاہ دھویں کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔
لندن کے گیٹ وک ایئرپورٹ نے ایکس پر ایک پوسٹ میں تصدیق کی کہ طیارے نے شام چھ بج کر 25 منٹ پر پہنچنا تھا، جو روانگی کے وقت گر کر تباہ ہو گیا۔
بھارتی سول ایوی ایشن کے مطابق طیارہ کو کیپٹن سمیَت سَبھروال اور فرسٹ آفیسر کلائیو کنڈر اڑا رہے تھے، کیپٹن سمیَت سَبھروال لیفٹ سیٹ ٹریننگ کیپٹن (ایل ٹی سی) ہیں اور ان کے پاس 8 ہزار 200 گھنٹوں کی پرواز کا تجربہ ہے جبکہ شریک پائلٹ کے پاس ایک ہزار 100 گھنٹوں کی پرواز کا تجربہ تھا۔
ایئر ٹریفک کنٹرول (اے ٹی سی) کے مطابق طیارہ احمد آباد کے رن وے سے روانہ ہوا تھا، اس نے ایئر ٹریفک کنٹرول کو ایک ’مے ڈے‘ کال دی، لیکن اس کے بعد اے ٹی سی کی طرف سے کی جانے والی کالز کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
787 ڈریم لائنر جڑواں انجن والا طیارہ ہے۔ ایوی ایشن سیفٹی نیٹ ورک کے ڈیٹا بیس کے مطابق بوئنگ 787 طیارے کا یہ پہلا حادثہ ہے۔
فلائٹ ریڈار 24 ویب سائٹ کے مطابق یہ طیارہ 2009 میں متعارف کرایا گیا تھا اور درجنوں ایئر لائنز کو ایک ہزار سے زیادہ طیارے فراہم کیے جا چکے ہیں۔




