ہالی ووڈ

وِل اسمتھ کونسی ہالی وڈ فلموں میں کام نہ کرنے پر پشیمان؟

ول اسمتھ نے جن دو فلموں کو مسترد کیا آج انہیں کلٹ کلاسک کا درجہ حاصل ہے

Web Desk

وِل اسمتھ کونسی ہالی وڈ فلموں میں کام نہ کرنے پر پشیمان؟

ول اسمتھ نے جن دو فلموں کو مسترد کیا آج انہیں کلٹ کلاسک کا درجہ حاصل ہے

کرسٹوفر نولن نے Inception کی پیشکش سب سے پہلے مجھے کی تھی
کرسٹوفر نولن نے Inception کی پیشکش سب سے پہلے مجھے کی تھی

ہالی وڈ کے مایہ ناز اداکار ول اسمتھ نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے ڈائریکٹر کرسٹوفر نولن کی مشہور زمانہ فلم ’انسپیشن‘ اور فلم ’ دی میٹرکس‘ میں کام کرنے کی آفر ٹھکرا چکے ہیں۔

2010 میں ریلیز ہونے والی سائنس فکشن فلم ’انسپیشن‘ اس ہالی وڈ کی مقبول ترین فلموں میں شمار ہوتی ہے اور اس کا مرکزی کردار لیونارڈی کیپریو نے ادا کیا تھا۔

ایک انٹرویو میں بات کرتے ہوئے آسکر ایوارڈ یافتہ اداکار ول اسمتھ نے انکشاف کیا کہ ہدایتکار کرسٹوفر نولن نے سب سے پہلے انہیں Inception میں مرکزی کردار کی پیشکش کی تھی۔

’انسپیشن‘2010 کی سائنس فکشن فلم ہے جو بعد میں کرسٹوفر نولن کے کیریئر کی سب سے مشہور اور پسندیدہ فلموں میں شمار ہوئی۔

جب میزبان نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ ’ دی میٹرکس‘ کو بھی ٹھکرا چکے تھے تو ول اسمتھ ہنسے اور کہا کہ ہاں میں یہ بھی کرچکا ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کرسٹوفر نولن نے Inception کی پیشکش سب سے پہلے مجھے کی تھی اور میں اُسے سمجھ نہیں پایا، میں نے یہ بات کبھی پہلے نہیں کی لیکن اب میں سوچتا ہوں کہ یہ ایک ایسی فلم تھی جسے بیان کرنا مشکل تھا، مگر حقیقت یہ ہے کہ ان فلموں میں کام نہ کرنے کا پچھتاوا ضرور ہے۔

ہالی وڈ رپورٹر کے مطابق، کرسٹوفر نولن نے یہ فلم پہلے بریڈ پٹ کو بھیجی تھی اور انہیں 48 گھنٹوں کے اندر جواب دینے کو کہا تھا لیکن جب بریڈ پٹ نے ہامی نہیں بھری توکرسٹوفر نولن نے ول اسمتھ سے رابطہ کیا، جب وہاں سے بھی بات نہ بنی تو آخرکار نولن نے لیونارڈو ڈی کیپریو کو کاسٹ کر لیا۔

انٹرویو کے دوران ول اسمتھ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ انہوں نے وہ فلمیں چھوڑ دیں جو آج کلٹ کلاسک بن چکی ہیں۔

فلم Inception کے بارے میں

Inception کو جدید سائنس فکشن کی تاریخ کی عظیم ترین فلموں میں شمار کیا جاتا ہے۔

2010 میں ریلیز ہونے والی اس فلم میں لیونارڈو ڈی کیپریو نے ’ڈومنک کاوب‘ نامی کردار ادا کیا جو ایک پیشہ ور چور ہوتا ہے اور لوگوں کے خوابوں میں داخل ہو کر ان کے ذہن سے معلومات چُرا لیتا ہے،فلم میں جوزف گورڈن لیویٹ، ایلیٹ پیج، ٹام ہارڈی اور دیگر اداکار شامل تھے۔

فلم کی کہانی خوابوں کی مختلف تہوں میں سفر کرنے، یادداشت، حقیقت اور تصور کے درمیان باریکیوں پر مبنی ہے۔

ٹیم کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ کسی شخص کے ذہن میں صرف خیالات نہ چُرائیں بلکہ نئے خیال بھی پیدا کریں تاکہ وہ خواب سے جاگنے کے بعد اُسے اپنی سوچ سمجھے۔

اس مہم کے دوران وہ اتنی گہرائی میں چلے جاتے ہیں کہ ایک غلطی انہیں ہمیشہ کے لیے انہیں ایک جگہ قید کردیتی ہے ،ایک ایسی جگہ جہاں وقت رک جاتا ہے اور واپسی ممکن نہیں رہتی۔