معزول شاہ ایران کے بیٹے پر لفظی گولہ باری، خواجہ آصف ہیرو بن گئے
'یہ کون سے خواجہ آصف ڈاؤن لوڈ ہوگئے؟' انٹرنیٹ صارفین کا تبصرہ
پاکستان کے وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف کی تازہ ٹوئٹس نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی ہے، جس میں انہوں نے معزول شاہ ایران کے جلاوطن بیٹے رضا پہلوی پر نہایت سخت زبان میں تنقید کی ہے۔
خواجہ آصف کا یہ ردعمل رضا پہلوی کے اس حالیہ انٹرویو کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر حالیہ حملوں نے ایرانی عوام میں جابرانہ حکومت کے خلاف بیداری کی نئی لہر پیدا کی ہے۔
رضا پہلوی نے 'بی بی سی' کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ 'جب آپ ایک ظالم حکومت کے خلاف پُرامن اور غیر متشدد شہری مزاحمت کی تحریک سے نمٹ رہے ہوتے ہیں تو کسی مقام پر حالات عوام کے حق میں بدلنے لگتے ہیں، اور میرا ماننا ہے کہ ابھی وہ وقت آ چکا ہے'۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حملوں سے ایرانی عوام میں حکومت کے خلاف مزید تحریک پیدا ہوئی ہے، جب ان سے ان دعووں کے ثبوت مانگے گئے تو انہوں نے کہا کہ 'ایرانی عوام اور دنیا نے محسوس کیا ہے کہ اس پورے مسئلے کی جڑ خود یہ حکومت ہے۔ اس رجیم کے خاتمے کے بغیر کوئی بہتری ممکن نہیں'۔
رضا پہلوی نے مزید دعویٰ کیا کہ 'موجودہ ایرانی حکومت انتہائی کمزور پڑ چکی ہے، عالمی برادری کو بات اقتصادی پابندیوں سے آگے بڑھانا چاہیے، ایرانی عوام کی آزادی کیلئے حصہ ڈالا جائے'۔
انہوں نے کہا کہ 'یہ موقع ہے کہ ہم اس صورتحال میں موجود ایرانی حکومت کے خلاف عملی قدم اٹھا کر ملک کو آزاد کر سکیں، جب یہ حکومت ختم ہوگی تو دنیا بھی سکھ کا سانس لے گی، نہ ایٹمی خطرات ہوں گے، نہ دہشتگردی اور نہ ہی انتہاپسندی'۔
اس انٹرویو کے بعد پاکستانی وزیردفاع خواجہ آصف نے 'ایکس (ٹوئٹر)' پر ردعمل دیتے ہوئے رضا پہلوی کو خوب آڑے ہاتھوں لیا اور شدید الفاظ میں تنقید کی۔
انہوں نے لکھا کہ 'اگر ایرانی عوام میں واقعی تحریک پیدا ہوچکی ہے جیسا کہ تم دعویٰ کر رہے ہو، تو کچھ ہمت دکھاؤ، واپس جاؤ اور خود قیادت کرو، رجیم کو ہٹاؤ'۔
خواجہ آصف نے رضا پہلوی کو پہلے 'خون چوسنے والا سامراجی غدار' قرار دیا، تاہم چند منٹ بعد وہی ٹوئٹ ایڈٹ کر کے رضا پہلوی کو 'سامراجی طوائف' قرار دے ڈالا اور ٹوئٹ کا اختتام انتہائی سخت الفاظ میں کیا۔
خواجہ آصف کے ان الفاظ پر سوشل میڈیا صارفین کا ملا جلا ردعمل سامنے آیا، تاہم بیشتر صارفین نے خواجہ آصف کے بیباک انداز پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خوب سراہا۔
معروف مصنف اور سماجی کارکن ٹریتا پارسی نے کہا کہ 'اوہ میرے خدا! یہ پاکستان کے وزیر دفاع ہیں، جو رضا شاہ کے بیٹے کو سامراجی طوائف کہہ رہے ہیں کیونکہ وہ اسرائیل کی جارحیت کی حمایت کر رہے ہیں'۔
ایک صارف نے لکھا کہ 'خواجہ آصف کی یہ ٹوئٹس پڑھ کر میرے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے کہ شاید پاکستان واقعی اسرائیلی حملوں کے خلاف ایران کی حمایت کرے گا'۔
ایک اور صارف نے حیرت سے کہا 'یہ میں نے کیا پڑھ لیا' جبکہ ایک اور صارف نے سوال کیا کہ 'یہ کون سا خواجہ آصف ڈاؤن لوڈ ہوگیا!'
ایک پاکستانی صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ 'جب ایک خالص سیالکوٹی شخص انگریزی زبان میں گالی دیتا ہے، تو وہ پھر بھی پورا دیسی تاثر دیتی ہے'۔
ایک اور صارف نے لکھا 'واہ! خواجہ آصف صاحب کے لیے میری عزت آسمان کو چھونے لگی ہے! اسے کہتے ہیں کھری بات، بغیر کسی ڈر کے'۔
تاہم کئی صارفین نے خواجہ آصف کی زبان کو ناپسند کرتے ہوئے اسے غیر سفارتی، غیرمناسب اور ایک اعلیٰ عہدے دار کے شایان شان نہ قرار دیا۔
ایک صارف نے لکھا کہ 'ذاتی ناپسندیدگی یا سیاسی اختلافات کبھی بھی نازیبا زبان کے جواز نہیں بن سکتے، خاص طور پر کسی آئینی عہدے پر فائز شخص کے لیے، ملکی قیادت میں ضبط و تحمل ضروری ہوتا ہے'۔
ایک اور صارف کا تبصرہ تھا کہ 'خواجہ صاحب! آپ کوئی میمر نہیں بلکہ ایک ملک کے وزیر دفاع ہیں'۔
دریں اثنا خواجہ آصف نے ایک اور ٹوئٹ پوسٹ کی جس میں انہوں نے کہا کہ 'یہ افسوسناک ہے کہ لوگ زبان و لہجہ کے بارے میں فکر مند ہیں جبکہ نام نہاد مہذب دنیا کی نظروں کے سامنے بدترین نسل کشی ہو رہی ہے، ہزاروں بچوں کو بلا روک ٹوک کھلے عام قتل کیا جا رہا ہے'۔
انہوں نے کہا کہ 'ہم کہیں کھانا کھانے نہیں بیٹھے ہوئے ہیں جہاں کسی کو زبان اور آداب کا خیال رکھنا چاہیے، رضا پہلوی نیتن یاہو کے ساتھ، ایک نسل کش پاگل کے ساتھ کھڑا ہے، وہ صرف تذلیل کا مستحق ہے اور کچھ نہیں'۔


