ایرانی سرکاری ٹی وی کی واٹس ایپ ڈیلیٹ کرنے کی اپیل
ایران میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ماضی میں متعدد پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں
ایرانی ریاستی ٹیلی ویژن نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے اسمارٹ فونز سے واٹس ایپ ایپلیکیشن کو حذف کر دیں۔
اس اپیل کے پسِ منظر میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ واٹس ایپ صارفین کی معلومات اکٹھی کرکے اسرائیل کو فراہم کرتی ہے، تاہم اس الزام کے ثبوت میں کوئی واضح شواہد فراہم نہیں کیے گئے۔
میسیجنگ ایپ واٹس ایپ، جو ’میٹا‘ (Meta) کمپنی کی ملکیت ہے، نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ہمیں تشویش ہے کہ یہ بے بنیاد دعوے ہمارے پلیٹ فارم کو بند کرنے کے لیے بطور جواز استعمال کیے جا سکتے ہیں، ایسے وقت میں جب عوام کو ہمارے سروس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
واٹس ایپ کی وضاحت کے مطابق، کمپنی نہ صارفین کا مقام ٹریک کرتی ہے، نہ اس بات کا ریکارڈ رکھتی ہے کہ کون کس سے بات کر رہا ہے، اور نہ ہی کسی صارف کے ذاتی پیغامات کو دیکھنے یا ان کی نگرانی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
کمپنی مزید کہتی ہے کہ ہم کسی بھی حکومت کو اجتماعی صارفین کا ڈیٹا فراہم نہیں کرتے۔
واٹس ایپ کی اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن ٹیکنالوجی اس امر کی ضامن ہے کہ پیغامات صرف بھیجنے اور وصول کرنے والے تک محدود رہیں، اور کسی تیسرے فریق، بشمول کمپنی خود، کے لیے بھی ان پیغامات تک رسائی ممکن نہ ہو۔
تاہم، کارنل یونیورسٹی میں انجینئرنگ کے اسسٹنٹ پروفیسر اور سائبر سیکیورٹی ماہر گریگوری فالکو کے مطابق، اگرچہ پیغامات کا مواد محفوظ ہوتا ہے، لیکن ‘میٹا ڈیٹا‘ یعنی صارف کی ایپ کے استعمال سے متعلق عمومی معلومات مثلاً استعمال کا وقت اور دورانیہ، بعض اوقات حاصل کی جا سکتی ہیں۔
انہوں نے اس ضمن میں ڈیٹا خودمختاری (Data Sovereignty) کے مسئلے کی جانب بھی اشارہ کیا۔ ان کے مطابق، کئی ممالک میں یہ خدشہ پایا جاتا ہے کہ ان کے شہریوں کا ڈیٹا مقامی سرورز کے بجائے بیرونِ ملک محفوظ ہوتا ہے، جو قومی سلامتی یا رازداری کے لیے باعثِ تشویش سمجھا جاتا ہے۔
ایران میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ماضی میں متعدد پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔ 2022 میں اس وقت واٹس ایپ اور گوگل پلے کو بند کر دیا گیا تھا جب پولیس حراست میں ایک نوجوان خاتون کی ہلاکت کے خلاف ملک گیر احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے تھے۔ البتہ یہ پابندی بعد ازاں، 2023 کے آخر میں ختم کر دی گئی۔
واٹس ایپ ایران میں انسٹاگرام اور ٹیلیگرام کے ساتھ سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی ایپس میں شامل رہی ہے۔ بہت سے ایرانی صارفین اب بھی ان پلیٹ فارمز تک رسائی کے لیے وی پی این (VPN) اور پراکسی سرورز کا استعمال کرتے ہیں۔



