دلچسپ و خاص

میمز کی بھرمار نے کروڑوں کی لاگت سے تعمیر فلائی اوور کا ڈیزائن تبدیل کروادیا

انٹرنیٹ صارفین نے اسے ایک خطرناک اور ناقابل فہم انجینئرنگ کا نمونہ قرار دیا

Web Desk

میمز کی بھرمار نے کروڑوں کی لاگت سے تعمیر فلائی اوور کا ڈیزائن تبدیل کروادیا

انٹرنیٹ صارفین نے اسے ایک خطرناک اور ناقابل فہم انجینئرنگ کا نمونہ قرار دیا

(فوٹو: سوشل میڈیا)
(فوٹو: سوشل میڈیا)

بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں تعمیر ہونے والا عجیب و غریب زاویے والا فلائی اوور برج سوشل میڈیا پر شدید تنقید اور میمز کا نشانہ بننے کے بعد از سر نو ڈیزائن کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔

یہ فلائی اوور برج 648 میٹر طویل اور 8.5 میٹر چوڑا ہے، اور اسے 18 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا ہے، تاہم برج کے ایک حصے میں اچانک 90-ڈگری کا زاویہ بننے کی وجہ سے بھارتی عوام نے اس کے ڈیزائن پر سوالات اٹھائے ہیں، جسے کئی صارفین نے ایک خطرناک اور ناقابل فہم انجینئرنگ کا نمونہ قرار دیا۔

مقامی رہائشیوں نے اس 90 ڈگری کے موڑ کے سبب ممکنہ حادثات کا خدشہ قرار دیتے ہوئے انتظامیہ کو متعدد شکایات درج کروائیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی گاڑی تیز رفتاری سے برج پر چڑھے تو اچانک آنے والا یہ موڑ حادثے کا سبب بن سکتا ہے، حتیٰ کہ دھیمی رفتار سے چلنے والے ڈرائیوروں کو بھی یہ موڑ عبور کرنا مشکل محسوس ہوتا ہے۔

فلائی اوور برج کے عجیب زاویے کی تصاویر اور ویڈیوز جلد ہی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے لگیں، 'ایکس' پر صارفین نے طنزیہ انداز میں اس برج کو 'ڈرائیورز کے لیے IQ ٹیسٹ' قرار دیا۔

کچھ صارفین نے اسے ویڈیو گیمز کی ٹریک ڈیزائننگ سے تشبیہ دی، جبکہ دیگر نے کہا کہ شاید انجینئرز نے برج کا ڈیزائن 'گوگل میپس' کے ذریعے بنایا ہے۔

عوامی دباؤ اور سوشل میڈیا پر مذاق اڑنے کے بعد بالآخر مقامی حکام حرکت میں آ گئے، ایک سرکاری بیان میں تصدیق کی گئی کہ فلائی اوور کے تنگ موڑ کو تین فٹ تک چوڑا کیا جائے گا تاکہ گاڑیوں کے لیے ایک ہموار اور محفوظ موڑ فراہم کیا جا سکے۔

انجینئرنگ محکمے کے ایک عہدیدار نے میڈیا کو بتایا کہ ’ہم نے عوام کی شکایات کو سنجیدگی سے لیا ہے، نیا ڈیزائن منظور کر لیا گیا ہے اور بہت جلد کام کا آغاز کیا جائے گا۔

اس واقعے نے بھارت بھر میں انفرااسٹرکچر منصوبوں کی منصوبہ بندی اور نگرانی پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔

شہریوں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے ناقص ڈیزائنز نہ صرف فنڈز کا ضیاع ہیں بلکہ عوام کی جانوں کو بھی خطرے میں ڈالتے ہیں۔