ٹیکنالوجی

ٹرمپ نے ٹک ٹاک پر پابندی کی ڈیڈ لائن میں 90 روز کی توسیع کر دی

یہ تیسری مرتبہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ٹک ٹاک پر ممکنہ پابندی کو مؤخر کیا گیا ہے۔

Web Desk

ٹرمپ نے ٹک ٹاک پر پابندی کی ڈیڈ لائن میں 90 روز کی توسیع کر دی

یہ تیسری مرتبہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ٹک ٹاک پر ممکنہ پابندی کو مؤخر کیا گیا ہے۔

یہ تیسری مرتبہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ٹک ٹاک پر ممکنہ پابندی کو مؤخر کیا گیا ہے۔
یہ تیسری مرتبہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ٹک ٹاک پر ممکنہ پابندی کو مؤخر کیا گیا ہے۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپ ’ٹک ٹاک‘ کو امریکا میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے مزید 90 دن کی مہلت دے دی ہے، تاکہ وہ اپنے امریکی اثاثے کسی غیر چینی خریدار کو منتقل کر سکے۔ بصورتِ دیگر، اسے امریکا میں بند کیے جانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری کردہ ایک پیغام میں بتایا کہ انہوں نے ایک نیا ایگزیکٹو آرڈر دستخط کیا ہے جس کے تحت ٹک ٹاک پر پابندی کی حتمی تاریخ میں 90 دن کا اضافہ کر دیا گیا ہے، جو اب 17 ستمبر 2025 ہوگی۔

یہ تیسری مرتبہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ٹک ٹاک پر ممکنہ پابندی کو مؤخر کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ امریکی حکومت نے 2024 میں ٹک ٹاک کو قومی سلامتی کے لیے ممکنہ خطرہ قرار دیتے ہوئے قانون سازی کی تھی، جس کے مطابق ٹک ٹاک کو امریکا میں کام جاری رکھنے کے لیے اپنے امریکی شیئرز کسی امریکی کمپنی یا فرد کو فروخت کرنا ہوں گے۔ اس مقصد کے لیے ابتدائی طور پر 19 جنوری 2025 کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی تھی، جس میں بعد ازاں 75 دن کی توسیع کر دی گئی۔

ٹرمپ، جو 2024 کی انتخابی مہم کے دوران سوشل میڈیا کے بھرپور استعمال کے حامی رہے ہیں، یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ ٹک ٹاک نے انہیں نوجوان ووٹرز تک پہنچنے میں نمایاں مدد فراہم کی۔

مئی 2025 میں این بی سی نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر ٹک ٹاک کو مزید مہلت درکار ہو تو وہ اسے دینے کے لیے تیار ہیں۔

ٹک ٹاک کی انتظامیہ نے صدر ٹرمپ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہم صدر ٹرمپ کی قیادت اور ان کی حمایت پر شکر گزار ہیں جنہوں نے یہ یقینی بنایا کہ ٹک ٹاک 170 ملین سے زائد امریکی صارفین کے لیے دستیاب رہے۔