نیتین یاہو کو گرفتار کرنے کا عزم کرنیوالے ظہران ممدانی کون؟
نیویارک میئر کا انتخاب ظہران کے سبب پوری دنیا میں چرچوں میں آگیا ہے۔
آبادی کے لحاظ سے امریکا کے سب سے بڑے اور معاشی حب سمجھے جانے والے شہر نیویارک کے میئر کا انتخاب عالمی سرخیوں میں جگہ بنائے ہوئے ہے۔
اس کی سب سے بڑی وجہ میئر کے عہدے کے لیے میدان میں اترنے والے ظہران ممدانی ہیں، جن کا مسلمان ہونا اور جنوبی ایشیائی پس منظر اس الیکشن میں توجہ کا مرکز ہے۔
ظہران نیویارک کی سیاست میں ایک سلیبریٹی کی طرح بن کر ابھرے ہیں، میڈیا اور سوشل میڈیا ان کے چرچوں سے بھرا ہوا ہے، جس کی ایک وجہ ان کی دلچسپ انتخابی مہم بھی ہے، جس میں ویڈیو پیغامات کا بہترین استعمال کیا ہے۔
ایسے میں ان کا ایک پرانا کلپ وائرل ہورہا ہے جس میں وہ عالمی عدالت انصاف کے جاری کردہ حکم کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتین یاہو کو گرفتار کرنے کا عزم ظاہر کرتے نظر آئے۔
دسمبر 2024 کو دیے اس انٹرویو میں ظہران سے سوال کیا گیا تھا کہ کیا وہ بحیثیت میئر نیویارک میں اسرائیلی وزیراعظم کا استقبال کریں گے جبکہ امریکا عالمی عدالت انصاف کے فیصلوں پر عملدرآمد کا پابند نہیں ہے۔
اس کے جواب میں انہوں نے کہا تھا کہ 'بطور نیویارک شہر کے میئر کے بینجمن نیتین یاہو کو گرفتار کیا جائے گا، اس شہر میں ہماری اقدار بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرتی ہیں اور اب وقت ہے کہ ہمارا عمل بھی ایسا ہی ہو'۔
ظہران ممدانی کون؟
ظہران 18 اکتوبر 1991 کو یوگنڈا میں پیدا ہوئے، ان کی والدہ بھارت سے تعلق رکھنے والی مشہور فلمساز میرا نائر ہیں جنہوں نے 'سلام بومبے'، 'مون سون ویڈنگ'، 'دی نیم سیک' جیسی سماجی مسائل کا احاطہ کرنے والی فلمیں بنائیں۔
ان والد محمود ممدانی بھی بھارتی پس منظر رکھتے ہیں لیکن وہ یوگنڈا میں ہی پیدا ہوئے جو سیاسی تجزیہ کار، مصنف اور استاد ہیں اور کولمبیا یونیوسٹی میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔
ظہران کے والدین پہلے افریقی ملک یوگنڈا میں رہائش پذیر تھے جس کے بعد انہوں نے جنوبی افریقہ ہجرت کی اور جب ظہران 7 سال کے تھے اس وقت یہ خاندان امریکا منتقل ہوگیا۔
یہاں یہ بات خاصی دلچسپی کی حامل ہے کہ جہاں 33 سالہ ظہران ایک امیگرینٹ ہیں وہیں وہ پہلے مسلمان امیدوار ہیں جو نیویارک کے میئر کا الیکشن لڑ رہے ہیں، جسے جیتنے کی صورت میں وہ شہر کے پہلے مسلمان میئر ہونے کا اعزاز پالیں گے۔
ظہران ممدانی امریکی سیاسی جماعت ڈیموکریٹس سے میئر کے لیے اپنی پارٹی کے امیدوار منتخب ہوچکے ہیں، رائے عامہ کے جائزوں اور ابتدائی انتخابی نتائج میں ظہران کو دیگر امیدواروں پر واضح برتری حاصل ہے۔
انہوں نے رواں سال کے اوائل میں شامی نژاد امریکی آرٹسٹ 27 سالہ راما دواجی سے شادی کی تھی جس سے ان کی ملاقات ایک ڈیٹنگ ایپ پر ہوئی تھی۔
ظہران نے اپنی انتخابی مہم کے دوران خصوصی طور پر امیگرینٹس کو ٹارگٹ کیا اور خاص طور پر مساجد کے دورے کیے جبکہ بالی وڈ کلپس کے ساتھ ایک خصوصی ویڈیو بھی جاری کی جس میں وہ بڑی روانی سے اردو بولتے ہوئے نظر آئے۔
ان کی انتخابی مہم نیویارک کےعام شہری کے روز مرہ کے مسائل اور قوت خرید کے گرد گھومتی ہے جس نے انہیں زیادہ مقبولیت بخشی ہے۔


