عالمی منظر

ملالہ تعلیم کے بعد لڑکیوں میں کھیلوں کے فروغ کےلیےسرگرم

ملالہ خود بھی کرکٹ اور گولف کی شوقین ہیں

Web Desk

ملالہ تعلیم کے بعد لڑکیوں میں کھیلوں کے فروغ کےلیےسرگرم

ملالہ خود بھی کرکٹ اور گولف کی شوقین ہیں

ملالہ نے خواتین کی لیگز پر سرمایہ کاری کا منصوبہ بنایا ہے
ملالہ نے خواتین کی لیگز پر سرمایہ کاری کا منصوبہ بنایا ہے 

ملالہ یوسفزئی جو دنیا بھرلڑکیوں کی تعلیم کے فروغ کے لیے سرگرم ہیں، اب انہوں نے لڑکیوں  میں کھیلوں کے فروغ کے مشن پر کام شروع کردیا ہے

ملالہ جو کئی سالوں سے لڑکیوں کی تعلیم کے لیے کام کر رہی ہیں، اس وقت دنیا بھر میں جانی پہچانی جانے لگیں جب اسکول سے واپس آتے ہوئے طالبان نے ان کے سر پر گولی مار دی۔

ان کی جان بچانے کے لیے انہیں انگلینڈ کے شہر برمنگھم لے جایا گیا، جہاں کئی ماہ تک ان کا علاج اور آپریشن ہوا، وہ مکمل صحت یاب ہوئیں اور اب اپنے خاندان کے ساتھ وہیں رہتی ہیں۔

اس واقعے کے باوجود ملالہ نے ہمت نہ ہاری، 2013 میں انہوں نے ملالہ فنڈ بنایا تاکہ دنیا بھر کی لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے کا حق دلایا جا سکے۔

اگلے سال صرف 17 سال کی عمر میں، ملالہ کو نوبیل انعام ملا جو امن کے لیے کام کرنے پر دیا گیا۔

اب ملالہ نے لڑکیوں کی تعلیم کے بعد ان کے کھیلوں میں حصہ لینے کی حوصلہ افزائی کے لیئے اپنے نئے پروجیکٹ پر کام شروع کردیا ہے۔

یہ منصوبہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ کر رہی ہیں، جنہیں پاکستان میں کرکٹ کے شعبے میں کام کرنے کا تجربہ ہے۔

ملالہ نے اس موقع پر کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہم اپنے تجربے اور وسائل سے خواتین کی کھیلوں میں مدد کریں کیونکہ اس شعبے میں بہت کم سرمایہ کاری ہوتی ہے اور لڑکیوں کے لیے مواقع بھی کم ہوتے ہیں۔

ملالہ اور ان کے شوہر امریکہ کی دو بڑی لیگز ویمنز باسکٹ بال لیگ اور ویمنز فٹبال لیگ میں سرمایہ لگانے کا سوچ رہے ہیں۔

ملالہ کہتی ہیں کہ ان میں ترقی کی بڑی گنجائش ہے اور ان کے ذریعے وہ اپنے منصوبے کی کامیابی کو جانچ سکیں گے۔

ایک رپورٹ کے مطابق 14 سال کی عمر تک لڑکیاں، لڑکوں کے مقابلے میں دو گنا زیادہ تعداد میں کھیل چھوڑ دیتی ہیں۔

اس کی وجہ مواقع کی کمی، سماجی دباؤ اور ایسی شخصیات کا نہ ہونا ہے جنہیں وہ اپنا رول ماڈل سمجھیں۔

ملالہ خود کرکٹ اور گالف کی شوقین ہیں، وہ کہتی ہیں کہ وہ ہر ہفتے گالف کے بارے میں سوچتی ہیں اور جب اچھی شاٹ کھیلتی ہیں تو اپنے شوہر کو تفصیل سے بتاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کی باسکٹ بال کھلاڑی کیٹلِن کلارک نے لڑکیوں کو کھیلوں کی طرف راغب کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

ملالہ کے مطابق ایسی کھلاڑی، جو میدان میں اپنا فن دکھاتی ہیں، خود ایک مثال بن جاتی ہیں، ان کا میدان میں ہونا ہی لڑکیوں کے لیے ہمت کا پیغام ہوتا ہے۔

 ملالہ نے کہا کہ یہ پیغام لڑکیوں کے لیے ہے کہ آسمان بھی حد نہیں، خواتین کی کھیلیں ترقی کریں گی اور ہم وہ دنیا دیکھ سکتے ہیں جہاں لڑکیوں کو برابر کے مواقع حاصل ہوں گے۔