خواتین

قدرتی بوٹوکس کیسے ہوگا؟

حیران کن طور پر ان کی یہ ویڈیو 2.2 ملین سے زیادہ ویوز حاصل کر چکی ہے

Web Desk

قدرتی بوٹوکس کیسے ہوگا؟

حیران کن طور پر ان کی یہ ویڈیو 2.2 ملین سے زیادہ ویوز حاصل کر چکی ہے

قدرتی بوٹوکس کیسے ہوگا؟

خوبصورتی اور جوانی کو برقرار رکھنے کی خواہش ہمیشہ سے انسانی فطرت کا حصہ رہی ہے، لیکن آج کے دور میں مہنگے کاسمیٹک ٹریٹمنٹس اور سرجریز کے بجائے قدرتی طریقے زیادہ مقبول ہو رہے ہیں۔

 سوشل میڈیا پر ’قدرت کا بوٹوکس‘ کے نام سے ایک نئی ٹرینڈ نے دنیا بھر میں دھوم مچا دی ہے، جس میں لوگ مہنگی کریموں اور انجیکشنز کو چھوڑ کر قدرتی اجزاء پر انحصار کر رہے ہیں۔

 ٹک ٹاک پر لاکھوں فالورز رکھنے والی ایک ٹک ٹاکر، جو ایک تھراپسٹ اور میک اپ آرٹسٹ ہیں، نے ایک حیرت انگیز طریقہ بتایا، وہ کیلے کے چھلکے کو چہرے پر رگڑتی ہیں۔ ان کے مطابق، کیلے کے چھلکوں میں موجود ’لٹیئن‘ نامی اینٹی آکسیڈنٹ جلد کو چمکدار، ہائیڈریٹڈ اور نرم بناتا ہے۔

 حیران کن طور پر ان کی یہ ویڈیو 2.2 ملین سے زیادہ ویوز حاصل کر چکی ہے اور لوگ اس آسان، سستے اور قدرتی طریقے کو پسند کررہے ہیں۔ صرف کیلے کا چھلکا ہی نہیں بلکہ دیگر کئی قدرتی اجزاء بھی ’نیچر کا بوٹوکس‘ کہلانے کے لائق ہیں، مثلاً فلیکس سیڈ یا السی کے بیج پانی میں اُبال کر ماسک کے طور پر استعمال کیا جائے تو یہ جلد کو ٹائٹ اور جھریوں کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

 چاول کا پانی جلد کو چمکدار بنانے اور باریک لکیروں کو ختم کرنے میں مددگار ہے۔تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ قدرتی اجزاء عموماً جلد کے لئے فائدہ مند ہوتے ہیں، لیکن ان کا اثر بوٹوکس جیسا نہیں ہوسکتا۔

امریکی ڈرماٹولوجسٹ ڈاکٹر منیب شاہ کے مطابق، بوٹوکس ایک سائنسی لحاظ سے ثابت شدہ طریقہ ہے جبکہ ان قدرتی اجزاء پر اتنی تحقیق نہیں ہوئی کہ انہیں مکمل متبادل کہا جا سکے۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر جلد کو ہائیڈریٹ، نرم اور تر و تازہ رکھنے کے لئے قدرتی اجزاء کا استعمال کیا جائے تو یہ ایک مثبت عادت بن سکتی ہے۔ اگر آپ مہنگے کاسمیٹک ٹریٹمنٹس اور سرجریز سے بچنا چاہتے ہیں، تو قدرتی بوٹوکس آپ کیلئے ایک بہترین آپشن ہوسکتا ہے۔

 لیکن ہر نئے طریقے کو آزمانے سے پہلے اپنی جلد کی نوعیت اور حساسیت کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ قدرتی حسن کو بڑھانے کیلئے صدیوں پرانے آزمودہ طریقے اپنائیں اور خود کو مہنگے اور نقصان دہ کیمیکل سے بچائیں۔