دلچسپ و خاص

ہاتھ کی لکیروں کے چند دلچسپ حقائق

Web Desk

ہاتھ کی لکیروں کے چند دلچسپ حقائق

اسکرینگریب
اسکرینگریب

عام لوگوں کے مشاہدہ میں یہ بات کبھی آئی ہے یا نہیں، مگر پامسٹوں کے لیے جنہیں صبح و شام لکیروں ہی سے واسطہ پڑتا ہے، یہ ایک جانی پہچانی حقیقت ہے کہ ہاتھ کی لکیروں بعض اہم واقعات اور گہرے جسمانی و دماغی حادثات کے زیر اثر بدل جاتی ہیں، یا پہلے ہی سے متاثر ہوتی ہیں۔ عارضی اور وقتی حادثات البتہ ان پر کوئی گہرا اور پائیدار اثر مرتب نہیں کرتے اور ان کے تحت لکیروں میں کوئی تغیر و تبدل ظاہر نہیں ہوتا۔

ذہنی اور جسمانی حادثات کا لکیروں پر کیوں اثر پڑتا ہے اور لکیریں ان کی نقیب کیوں ہیں۔ ہمیں سردستِ ان تفصیلات میں جانے کی ضرورت نہیں، ویسے بھی یہ مسئلہ اعضائے جسمانی کا تجزیہ کرنے والوں، اور ماہرین نفسیات کے باہمی غورو فکر سے حل کرنے کا ہے، ہمیں یہاں صرف اتنا عرض کرنا ہے کہ یہ اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ ہاتھ کی لکیروں کا تعلق ہمارے دماغ اور نظامِ جسمانی کی گہرائیوں سے ہے۔ اگر یہ لکیریں ہمارے سفر حیات کی نازک نازک پگڈنڈیاں، ہمارے ہاتھ کی سطح پر محض سطحی سلوٹیں ہوتیں، جو مٹھی بند کرتے رہنے کی وجہ سے معرض وجود میں آگئی ہیں، تو پھر پہلی قابل غور بات یہ ہوتی کہ ہاتھ کے ان مقامات پر جہاں مٹھی بند کرنے کا اثر نہیں پڑتا ،وہاں ان کا وجود مفقود ہوتا۔

دوسری بات یہ ہوتی کہ یہ لکیریں تغیر احوال سے بالکل متاثر نہ ہوتیں اور پیدائش سے لے کر موت تک ان کا ایک ہی نقشہ ہتھیلی پر جما رہتا۔

تیسری بات یہ کہ ہاتھ کی جلد اکھاڑ پھینکنے یا لکیروں ہی کو کسی نہ کسی طرح سے کھرچ دینے سے ان لکیروں کا مکمل طور پر صفایا کردینا ممکن ہوتا مگر امر واقع یہ ہے کہ یہ لکیریں، نہ تو آپ کے مٹائے مٹتی ہیں اور نہ بنائے بنتی ہیں تا وقتیکہ آپ کے نہاں خانہ جسم و دماغ ہی میں کوئی گہری تبدیلی رونما نہ ہو، یہ لکیریں جہاں ہیں، وہیں رہیں گی، ان میں سے کسی چھوٹی سی چھوٹی لکیر کو کریدتے کریدتے چاہے آپ ہاتھ کی الٹی جانب ہی کیوں نہ نکل جائیں جب بھی زخم بھر آئیں گے ،وہ لکیر اپنے مقام سے ذرا سی بھی جنبش کئے بغیر بعینہ اسی پوزیشن ،اسی ہیئت و شکل کے ساتھ آن موجود ہوگی۔