صحت

جسم پر نیل کے نشانات ، کیا کوئی خطرے کی بات ہے؟

خواتین کی جلد پر عام طور پر بننے والے نیل کے نشان کا ایک اہم سبب ہارمونل نظام میں خرابی بھی ہوسکتا ہے

Web Desk

جسم پر نیل کے نشانات ، کیا کوئی خطرے کی بات ہے؟

خواتین کی جلد پر عام طور پر بننے والے نیل کے نشان کا ایک اہم سبب ہارمونل نظام میں خرابی بھی ہوسکتا ہے

جسم پر نیل کے نشانات ، کیا کوئی خطرے کی بات ہے؟

اگر جسم پر لگاتار نیل بن رہے ہوں اور آپ کو اس کی وجہ بھی سمجھ نہ آرہی ہو تو اس کی وجوہات جاننے کے لیے کسی ماہر ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس کی وجوہات جاننے کے لیے جس ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے، اس کو ہیماٹولوجسٹ کہتے ہیں۔ ہیماٹولوجسٹ کے مطابق عام طور پر جسم پر بننے والے نیل کے نشان کی چوٹ کے علاوہ یہ وجوہات ہوسکتی ہیں۔

ہمارے جسم کے اندر موجود خون کی نالیاں بہت باریک اور نازک ہوتی ہیں۔ بعض اوقات جب ہم بھاری وزن اٹھاتے ہیں تو اس کی وجہ سے اندرونی طور پر ہی یہ نالیاں پھٹ جاتی ہیں اور اس جگہ پر خون کے اندرونی اخراج کے سبب نیل کے نشان بن جاتے ہیں۔ یہ اس بات کا بھی اشارہ ہے کہ آپ کی خون کی نالیاں بہت کمزور ہیں مگر یہ حالت خطرناک نہیں ہوتی ہے اور وقت گزرنے کے بعد ٹھیک ہو جاتی ہے۔ کچھ ادویات کے استعمال کے سائڈ افیکٹ کی صورت میں بھی جسم کے اندر نیل بننے کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ ان ادویات میں اینٹی ڈپریشن ادویات، دمے کی ادویات، آئرن کی ادویات، اندرونی سوزش کا خاتمہ کرنے والی ادویات ہوسکتی ہیں۔ اس کے علاوہ جسم پر نیل پڑنے کا ایک بڑا سبب اسپرین کا استعمال بھی ہو سکتا ہے جس کو اکثر افراد خون کو پتلا کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اگر خون زیادہ پتلا ہو جائے تو اس صورت میں جسم پر بال بال نیل پڑنا شروع ہو جاتے ہیں۔ یہ خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔ اس وجہ سے اس صورت میں اپنے ڈاکٹر کے مشورے سے ان گولیوں کا استعمال کم یا ترک کر دینا چاہیے۔ نیل کے بننے کا براہ راست تعلق خون کے مسائل سے ہوتا ہے۔ بعض خون کی بیماریوں کے سبب بھی جسم میں نیل بننا شروع ہوجاتے ہیں۔ اگر جسم پر نیل کے نشانوں کے بننے کے ساتھ ساتھ مسوڑھوں اور ناک سے بھی خون اکثر بہہ رہا ہو اور ٹانگوں میں درد اور سوجن بھی ہو تو ان علامات کی صورت میں فوری طور پر خون کے ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہوتا ہے۔ یہ علامات لیوکیمیا کا سبب ہوسکتی ہے جو کہ ایک خطرناک اور جان لیوا بیماری ہے۔

وٹامن ہمارے جسم کی غذائیت کے لیے اہم ترین جز ہوتے ہیں مگربعض اوقات ہم لوگ ان کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں اور ہمیں اس کا پتہ تک نہیں چلتا ہے ۔ مثال کے طور پر وٹامن بی 12 ہمارے جسم میں خون بنانے کا ذمہ دار ہوتا ہے جبکہ وٹامن کے بہتے ہوئے خون کو روکنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے جب کہ وٹامن سی ٹشوز بنانے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک وٹامن ’پی‘ بھی ہوتا ہے جو کہ خون کی نالیوں کو وہ مضبوطی فراہم کرتا ہے کہ اس کے اندر محفوظ طریقے سے خون کا دوران جاری رہتا ہے۔ اس وٹامن کی کمی کے سبب خون کی نالیاں کمزور ہو جاتی ہیں اور ان کے پھٹنے کے سبب جسم میں نیل نمودار ہوجاتا ہے۔ یہ وٹامن سیب، سبز چائ اور ادرک میں بڑی مقدار میں موجود ہوتا ہے۔

خواتین کی جلد پر عام طور پر بننے والے نیل کے نشان کا ایک اہم سبب ہارمونل نظام میں خرابی بھی ہوسکتا ہے۔ مثال کے طور پر وہ خواتین جن کے عمر کے بڑھنے کے سبب مینوپاز ہو رہا ہو۔ یا پھر حاملہ ہوں یا ہارمون کے نظام میں خرابی کی ادویات کا استعمال کررہی ہوں تو ان تمام حالتوں میں جسم میں ایسٹروجن نامی ہارمون کی شرح میں کمی واقع ہوتی ہے جو کہ نیل پڑنے کا باعث بن سکتی ہے۔

ذیابیطس کی بیماری کے سبب خون میں شوگر لیول میں اضافہ ہوتا ہے۔ شوگر لیول میں اضافے کے سبب دوران خون متاثر ہوتا ہے۔ دوران خون کے متاثر ہونے کے سبب جسم پر روزمرہ کی بنیاد پر نیل پڑنا ایک عام سی بات ہوتی ہے مگر اس کے لیے خون میں شوگر لیول کو کنٹرول کر کے نیل کے بننے کے عمل کو روکا جا سکتا ہے۔ یہ تمام نیل دس سے پندرہ دن میں مدھم ہوتے ہوتے جلد پر سے غائب ہو جاتے ہیں۔ لیکن اگر نیل کے یہ نشان پندرہ دن کے بعد بھی غائب نہ ہوں تو اس صورت میں ڈاکٹر سے رابطہ کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔