صحت

ملیریا؛ ماہرین نے انسانوں کے برعکس مچھروں کا علاج تجویز کر دیا

انسانوں کے بجائے مچھروں کی ویکسین تیار

Web Desk

ملیریا؛ ماہرین نے انسانوں کے برعکس مچھروں کا علاج تجویز کر دیا

انسانوں کے بجائے مچھروں کی ویکسین تیار

انسانوں کے بجائے مچھروں کی ویکسین تیار
انسانوں کے بجائے مچھروں کی ویکسین تیار

ملیریا سمیت مچھروں کے ذریعے پھیلنے والی دیگر بیماریوں کے خاتمے کے لیے طبی سائنسدانوں نے ایک انقلابی اور غیر معمولی حکمت عملی پیش کی ہے۔

 برطانوی نشریاتی ادارے 'بی بی سی' کے مطابق امریکی سائنسدانوں نے یہ تجویز دی ہے کہ مچھروں کو مارنے کے بجائے انہیں ملیریا کی دوا دے کر بیماری سے پاک کر دیا جائے تاکہ وہ زندہ رہنے کے باوجود انسانوں تک بیماری نہ پھیلا سکیں۔

 ہارورڈ یونیورسٹی کی تحقیق اور دو اہم ادویات کی دریافت

یہ غیر معمولی تجویز ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہرین کی ایک تحقیق کے دوران سامنے آئی ہے جس میں سائنسدانوں نے دو ایسی ادویات دریافت کی ہیں جو مچھر کے جسم میں موجود ملیریا کے جراثیم (پیرا سائٹس) کو مکمل طور پر ختم کر سکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق ان دونوں دواؤں کو مچھروں کو ان کی ٹانگوں کے ذریعے جذب کروایا جاسکتا ہے جس کے بعد وہ بیماری پھیلانے کے قابل نہیں رہیں گے۔

اس  تحقیق کے دوران ماہرین نے ایتھوپیا اور دیگر ممالک سے حاصل کیے گئے ملیریا کے جراثیم  اور مچھروں کے ڈی این اے کا تجزیہ کرتے ہوئے  سینکڑوں ممکنہ دواؤں کا تجربہ کیا۔ 

اس وسیع تجرباتی عمل کے بعد 22 ادویات کی ایک تفصیلی فہرست تیار کی گئی جنہیں بعد ازاں ملیریا سے آلودہ خون کے ذریعے مچھروں پر آزمایا گیا۔

اس آزمائش میں یہ بات سامنے آئی کہ مذکورہ 22 دواؤں میں سے دو ادویات ایسی تھیں جنہوں نے مچھر کے جسم میں موجود تمام ملیریا کے جراثیم کو 100 فیصدختم کر دیا۔

ان دواؤں کو مچھر دانی جیسے مواد پر استعمال کیا گیا اور تجربات میں یہ ثابت ہوا کہ اگرچہ مچھر زندہ رہتا ہے مگر اس کے جسم میں موجود ملیریا کے جراثیم ختم ہو جاتے ہیں اور اس طرح وہ مچھر مزید کسی انسان کو بیمار نہیں کر سکتا۔

ماہرین کی خواہش ہے کہ مستقبل میں مچھر دانیاں نہ صرف کیمیکل انسیکٹی سائیڈز کے ساتھ محفوظ ہوں بلکہ ان میں ملیریا کش ادویات بھی شامل ہوں تاکہ اگر ایک طریقہ کارگر ثابت نہ ہو تو دوسرا کام کر سکے۔ یہ نئی حکمت عملی ملیریا کے عالمی خاتمے میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔