مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح کرنیوالی فلم پر پابندی کا مطالبہ
جمعیت علما ہند نے ’ادے پور فائلز‘ نامی فلم پر پابندی کےلیے کورٹ میں درخواستیں دائر کردیں
بھارت میں اس وقت پاکستان مخالف اور مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے والی فلموں کی سرکاری سرپرستی عروج پر ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اس سال ’چھاوا‘ جس میں مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر کو غلط انداز میں دکھایا گیا وہ سال کی سب سے زیادہ کمانے والی فلم ہے۔
لیکن بات یہاں بڑھ کر مزید سنگین ہوگئی ہے کیونکہ ایک فلم ’ادے پور فائلز‘ کا ٹریلر ریلیز کیا گیا ہے جس پر بھارتی مسلمانوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور ان کا کہنا ہے اس فلم میں مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا گیا ہے ۔
جمعیت علما ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نےبیان دیا کہ ان کی تنظیم نے ’ادے پور فائلز کنہیا لال ٹیلر مرڈر‘ نامی ہندوتوا پروپیگنڈا فلم کی ریلیز کے خلاف دہلی، مہاراشٹر اور گجرات کی ہائی کورٹس میں درخواستیں دائر کی ہیں۔
یہ فلم راجستھان کے شہر ادے پور میں جون 2022 میں قتل ہونے والے کنہیا لال پر مبنی ہے، جسے دو مسلمان نوجوانوں نے قتل کیا تھا۔
کنہیا لال نے سوشل میڈیا پر بی جے پی کی اس وقت کی ترجمان نوپور شرما کے حق میں پوسٹ کی تھی، جنہوں نے نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کی تھی۔
قاتلوں میں سے ایک، جس کی شناخت ریاض کے نام سے ہوئی، اس نے تیز دھار ہتھیار سے حملہ کیا جبکہ دوسرا شخص موبائل فون سے اس قتل کی ویڈیو بناتا رہا۔
مولانا مدنی نے ایک بیان میں کہا کہ یہ فلم ایک مخصوص مذہبی طبقے کو بدنام کرتی ہے، جس سے نفرت کو ہوا مل سکتی ہے اور شہریوں کے درمیان باہمی احترام و ہم آہنگی کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فلم کے ٹریلر میں نوپور شرما کا وہ متنازع بیان شامل کیا گیا ہے، جس نے پورے ملک میں آگ لگا دی تھی۔
اس بیان سے نہ صرف ملک کے اندر حالات خراب ہوئے بلکہ ہندوستان کے دیگر ممالک سے تعلقات پر بھی منفی اثر پڑا، جس سے عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔ اس کے بعد بی جے پی نے نوپور شرما کو پارٹی سے نکال دیا۔
فلمی ویب سائٹ بالی وُڈ ہنگامہ کے مطابق ’ادے پور فائلز‘ 11 جولائی کو ریلیز ہونے والی ہے، فلم کے ہدایتکار بھارت ایس شری ناتھے ہیں، جبکہ وجے راز مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔
ابتدا میں اس فلم کا نام ’گیان واپی فائلز‘ تھا، جو وارانسی کی تاریخی گیان واپی مسجد کے تنازع پر مبنی تھا ، ایک ایسی جگہ جس پر ہندوتوا گروہوں کا دعویٰ ہے کہ وہاں کبھی مندر تھا۔
مولانا مدنی نے مزید کہا کہ ٹریلر میں نہ صرف نبی کریم ﷺ اور ان کی مقدس ازواج کے خلاف قابل اعتراض جملے شامل ہیں بلکہ دارالعلوم دیوبند کو انتہاپسندی کا گڑھ قرار دیا گیا ہے اور وہاں کے علما کے خلاف انتہائی اشتعال انگیز زبان استعمال کی گئی ہے۔
انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ فلم میں گیان واپی مسجد جیسے حساس معاملات کو موضوع بنایا گیا ہے، جو اس وقت وارانسی ڈسٹرکٹ کورٹ اور سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔
مولانا مدنی کا کہنا تھا کہ ایسا مواد آئین ہند کے آرٹیکل 14، 15 اور 21 کے تحت دیے گئے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
فلم کی ڈسٹری بیوشن کے فرائض ریلیانس انٹرٹینمنٹ نے سنبھالے ہیں اور فلم میں مسلمانوں کو اسلاموفوبک انداز میں پیش کیا گیا ہے۔




