صحت

نیند میں بار بار خلل؟ تھائیرائڈ کی ممکنہ خرابی کا اشارہ ہو سکتا ہے

دیگر ممکنہ علامات کیا ہیں؟

Web Desk

نیند میں بار بار خلل؟ تھائیرائڈ کی ممکنہ خرابی کا اشارہ ہو سکتا ہے

دیگر ممکنہ علامات کیا ہیں؟

اسکرین گریب
اسکرین گریب

یقیناً ہم میں سے اکثر افراد نے یہ تجربہ کیا ہوگا کہ الارم بجنے سے کچھ لمحے قبل ہی آنکھ کھل جاتی ہے۔ اگرچہ بظاہر یہ معمولی بات محسوس ہوتی ہے، لیکن طبی ماہرین کے مطابق یہ کیفیت بعض اوقات جسم میں پوشیدہ کسی سنگین مسئلے کی علامت بھی ہو سکتی ہے – خاص طور پر جب یہ معمول بن جائے اور اس کے ساتھ دیگر علامات بھی ظاہر ہونے لگیں۔

بار بار الارم سے پہلے جاگنا، محض اتفاق نہیں

ہارمونز کے ماہر ڈاکٹر گورو اگروال کے مطابق، مسلسل الارم سے پہلے آنکھ کھل جانا اور بےچینی محسوس ہونا بعض اوقات تھائیرائڈ گلینڈ کی بے ترتیبی کی جانب اشارہ ہوتا ہے، جسے ’ہائپر تھائیرائڈزم‘ کہا جاتا ہے۔ اس کیفیت میں جسم ضرورت سے زیادہ تھائیرائڈ ہارمون خارج کرتا ہے، جس سے نیند متاثر ہوتی ہے اور فرد نیند کے دوران غیر فطری انداز میں جاگنے لگتا ہے۔

تھائیرائڈ کی خرابی اور نیند میں رکاوٹ

نیند کی ماہر اور ‘سلیپ چیریٹی‘ کی نائب صدر لیزا آرٹس بتاتی ہیں کہ تھائیرائڈ کی بے ترتیبی جسم کے تناؤ سے نمٹنے کے نظام کو متاثر کرتی ہے۔ اس کے نتیجے میں نیند کی کمی، بےچینی، صبح کے وقت دل کی تیز دھڑکن اور عمومی اضطراب جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔

دیگر ممکنہ علامات میں شامل ہیں:

بالوں کا غیر معمولی جھڑنا

آنکھوں کی خشکی

گردن میں سوجن

بےسبب گھبراہٹ

وزن میں غیر متوقع کمی

یہ علامات اگر مسلسل رہیں تو ہڈیوں کی کمزوری (آسٹیوپوروسس) اور دل کی دھڑکن میں خطرناک بے ترتیبی جیسی پیچیدگیاں جنم لے سکتی ہیں، جو بعض صورتوں میں جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہیں۔

حمل کے دوران ہائپر تھائیرائڈزم کا خطرہ

اگر حاملہ خواتین میں یہ مسئلہ موجود ہو تو یہ بچے کی نشوونما کو متاثر کر سکتا ہے اور اسقاط حمل یا قبل از وقت پیدائش جیسے خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے۔

گریوز ڈیزیز : ایک چھپا ہوا خطرہ

ہائپر تھائیرائڈزم کی ایک عام وجہ ’گریوز ڈیزیز‘ ہے، جو ایک خود کار مدافعتی بیماری ہے۔ اس میں جسم کا مدافعتی نظام تھائیرائڈ گلینڈ پر حملہ کر دیتا ہے، جس کے باعث یہ گلینڈ ضرورت سے زیادہ ہارمون پیدا کرنے لگتا ہے۔ اس کیفیت میں آنکھوں کی ساخت متاثر ہو سکتی ہے، جیسے آنکھوں کا باہر نکل آنا یا دوہرا دکھائی دینا۔

کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ کو الارم سے پہلے جاگنے کا معمول بن گیا ہے اور اس کے ساتھ اوپر بیان کردہ علامات بھی ظاہر ہو رہی ہیں، تو فوری طور پر کسی مستند اینڈوکرائن اسپیشلسٹ سے رجوع کریں۔ اپنے جسم کے اشاروں کو سنجیدگی سے لینا، وقت پر تشخیص اور علاج صحت مند زندگی کی جانب پہلا قدم ہے۔

یاد رکھیں، ہارمونز کا عدم توازن معمولی بات نہیں۔ یہ صحت کے کئی پہلوؤں کو متاثر کر سکتا ہے، اس لیے خود پر توجہ دیں، علامات کو پہچانیں اور بروقت ایکشن لیں۔ جسم کی چھوٹی علامتیں بڑے مسائل کی ابتدائی وارننگ ہو سکتی ہیں۔